پاکستان میں سوشل میڈیا کا جنازہ نکلنے کی وارننگ آ گئی

انٹرنیٹ اور صحافتی آزادیوں کا جائزہ لینے والے عالمی ادارے فریڈم ہاوس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستانی میڈیا کے لئے مجوزہ نئے حکومتی قوانین سے آزادی صحافت بری طرح متاثر ہو گی اور سوشل میڈیا کا جنازہ اٹھ جائے گا۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں خفیہ اداروں کی جانب سے آزادی صحافت کا پرچم بلند کرنے والے صحافیوں کے خلاف ریاستی اداروں کی ماوارائے کارروائیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور حکومت رہی سہی آزادیاں سلب کرنے کے لیے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک نیا قانون نافذ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ عمران خان کے دور حکومت کو پاکستانی میڈیا کے لیے شرمناک ترین قرار دیا جا رہا ہے اور صحافیوں کے اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات میں کمی کی بجائے تیزی آتی جا رہی ہے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا جب کسی صحافی کو اغوا یا گرفتار نہ کیا جائے۔
7 اگست کو لاہور سے دو سنیئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کے ایف آئی اے کے ہاتھوں دن دیہاڑے اغوا کے بعد 22 ستمبر کو کراچی سے سنیئر صحافی وارث رضا کو اٹھا لیا گیا۔ ان سر پھرے صحافیوں پر ملک میں رائج ہائبرڈ نظام پر تنقید کرنے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں نے اب اپنا طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے اور آئی ایس آئی خود صحافیوں کو اغوا کرنے کی بجائے اب ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کو استعمال کرتی ہے تا کہ الزام اس۔پر نہ آئے۔ اسی دوران آزادی اظہار کو محدود کرنے اور ایک مخصوص سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے کپتان حکومت پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک جابرانہ قانون متعارف کروانے کی کوشش میں مصروف ہے جسے کہ میڈیا ڈسٹرکشن اتھارٹی قانون قرار دیتے ہوئے صحافتی برادری یکسر مسترد کرچکی ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی صحافی تنظیموں کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلا اور لیبر یونینز نے مجوزہ میڈیا اتھارٹی قانون مسترد کرتے ہوئے اسے میڈیا مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حکومت کی تجویز کردہ اس اتھارٹی میں سب سے زیادہ متنازع سمجھی جانے والی شق غلط خبر کے نشر ہونے پر جرمانے اور سزا کی تجویز دی گئی ہے۔ غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جبکہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کی تجویز بھی ہے۔ اس اتھارٹی پر وجہ تنقید بننے والی دوسری شق ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے ہے، جس میں ڈیجیٹل میڈیا کو رجسٹر کرنے یا این او سی حاصل کرنا ضروری قرار دینے کی تجویز ہے جسے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور آزاد آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آمرانہ اتھارٹی کے تحت کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک مدت کے لیے کام کرنے سے روکنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ اتھارٹی کے تحت ریاست کے سربراہ، مسلح افواج کے سربراہ کے علاوہ قانون ساز اداروں کی بدنامی کا باعث بننے والے مواد نشر کرنے پر پابندی ہوگی۔
امریکی ادارے فریڈم ہاؤس نے بھی پاکستان میں تجویز کردہ نئے میڈیا ریگولیٹری قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے نفاذ کی صورت میں سائبر آزادی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں قائم فریڈم ہاؤس نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کو انٹرنیٹ کی آزادی کے غلط استعمال کرنے والے ملکوں کی فہرست میں 7 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق مختلف انڈیکٹرز کا جائزہ لینے کے بعد درجہ بندی طے کی گئی ہے ۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست اور حکومت کی جانب سے پاکستانی میڈیا کی آزادی چھیننے جیسے اقدامات سے سوشل میڈیا صارفین اور کمپنیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ نئے رولز کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں اور سروسز فراہم کرنے والے ادارے 5 لاکھ سے زائد صارفین کا ذاتی ڈیٹا وفاقی تحقیقاتی ادارے کی درخواست پر فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ یاد رہے کہ صحافیوں کی جانب سے حال ہی میں بھرپور احتجاجی مہم چلائے جانے کے بعد حکومت مجوزہ میڈیا سے وقتی طور پر پیچھے ہٹ گئی ہے لیکن پس پردہ اس حوالے سے کام ابھی بھی جاری ہے۔
