اسلام آباد میں طالبان پرچم لہرائے گا تو کرکٹ کیسے ہو گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کھڑی کرنے میں کوشاں پاکستانی فیصلہ سازوں کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے۔ اگر اسلام آباد میں طالبان کا جھنڈا لہرایا جارہا ہے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا۔ ایسے میں پاکستان میں کرکٹ کیسے ہو سکتی ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ وزیر داخلہ شیخ رشید سے صرف یہ درخواست ہے کہ دستانے اور بغیر دستانے والوں کو فوری تلاش کریں لیکن کیوی ٹیم کی کھیلے بغیر وطن واپسی کو سازش کہنے سے پہلے اپنے اندر کے معاملات بھی درست کریں کیونکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان کا دورہ ختم کرنے کے بعد شیخ رشید نے تو اسے ایک سازش قرار دیا ہے تاہم یہ پتہ لگانا زیادہ ضرروی ہے کہ کیا انکی سکیورٹی کو لاحق خطرات بارے الرٹ سنجیدہ تھا بھی یا نہیں۔ یہ بھی پتہ کرنا ہو گا کہ نیوزی لینڈ کی انٹیلی جنس کو سیکیورٹی الرٹ کہاں سے موصول ہوا۔
مظہر کہتے ہیں کہ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ یہ واقعی کوئی سازش تھی یا کوئی سنجیدہ خطرہ تھا مگر اتنا سمجھ لیجئے کہ کرکٹ اب محض کھیل نہیں رہا بلکہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا مسئلہ بن گیا ہے۔ لہازا کرکٹ کو بھی سیاست کی نظر لگ گئی ہے۔ مظہر عباس کے بقول وزیر داخلہ شیخ رشید احمد صاحب ایک بزرگ سیاست دان ضرور ہیں مگر نجانے وہ کیوں وزیر داخلہ نہیں لگتے ورنہ سب سے پہلے تو وہ اس سکیورٹی الرٹ لیٹر کا نوٹس لیتے جو 13؍ستمبر کو جاری ہوا تھا۔ اگر وہ ایک جنرل الرٹ تھا تو اس میں نیوزی لینڈ ٹیم کا ذکر کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا اور پھر اسے باقاعدہ سرکاری طور پر جاری کیوں کیا گیا یا۔ کیا ضروری تھا کہ اس قسم کے الرٹ جاری کئے جائیں جو صرف نوکری بچانے یا نمبر بنانے کے لئے ہوتے ہیں تاکہ اگر کوئی واقعہ ہوجائے تو کہا جائے کہ ’’ہم نے تو الرٹ کردیا تھا‘‘۔
مظہر عباس کے مطابق یہ ایک غیر ذمہ دارانہ لیٹر تھا جو ممکن ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ کرنے کی بنیاد بنا ہو۔ مظہر کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ کئی لحاظ سے بہت ضروری تھا۔ اس دورہ کے فوراً بعد تین بڑی ٹیموں کو پاکستان آنا تھا لیکن اب کرکٹ آسٹریلیا اور انگلش کرکٹ بورڈ کے بیانات سے تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔ عہ کہتے ہیں کہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ ملک ہے اور ایک دو واقعات کے علاوہ یہاں بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے دورے میں بھی شاید ہی کوئی واقعہ اس نوعیت کا ہوا ہو۔ جس سے کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ کھیل اب سیاست کا حصہ ہوگیا ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں اس کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جیسا کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا۔ لہٰذا ہمیں سکیورٹی کے حوالے سے بہت سے عوامل کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ اگر آپ 2009ء کو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے پس پردہ عوامل کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ تامل ٹائیگرز اور بھارت کو پاکستان کی سری لنکن حکومت کی حمایت پسند نہیں تھی۔ ہم نے وہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں ان کی مدد کی تو انہوں نے اس کا بدلہ یہاں لے لیا۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ ہم نے کیسے سنگین غلطی کی اور ٹیم کو نشانہ بننے دیا۔ جو افسران سکیورٹی پر مامور تھے انہوں نے بغیر کلیئرنس کیسے سری لنکن ٹیم کی بس کو جانے دیا۔ اس وقت اگر ڈرائیور کمال مہارت کا مظاہرہ نہ کرتا تو کئی کھلاڑی ہلاک ہوسکتے تھے۔ کس کو سزا ہوئی اور سزا تو دور کی بات جو لوگ اس میں مبینہ طور پر ملوث تھے ان میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ اگر مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں ملوث افسران تمام مراعات کے ساتھ ریٹائر ہوئے یا آج بھی نوکری پر ہیں تو بس پھر سمجھ لیں کہ کوئی بھی الرٹ ’’فیک‘‘ نہیں ہو سکتا۔ 2002ء میں بھی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اچانک سیریز منسوخ کرکے چلی گئی تھی۔ گوکہ اُس وقت بات کچھ سمجھ میں آنے والی تھی۔ مظہر کہتے ہیں کہ میں نے وہ واقعہ کور کیا تھا۔ ٹارگٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم نہیں بلکہ سامنے والے ہوٹل پر کھڑی بس میں بیٹھے فرانسیسی انجینئر تھے مگر جس وقت حملہ ہوا اسی وقت ٹیم کو اسٹیڈیم کے لئے نکلنا تھا۔ اس دوران اچانک دھماکہ ہوا اور باہر کھڑے کھلاڑی اور لابی میں ٹیم مینجمنٹ ہل گئی۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو ان معاملات کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق افغانستان کی بدلتی سیاسی صورت حال اور پاکستان میں دہشت گردی کے اہم واقعات سے ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی تشکیل میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آپ کے وفاقی دارالحکومت میں کیا ہورہا ہے۔ اگر یہاں طالبان کا جھنڈا لہرایا جارہا ہے تو کیا پیغام جائے گا۔
