عمران جسٹس رضا کے بعد سکندر سلطان پر بھی حملہ آور

سکندر سلطان راجہ پہلے چیف الیکشن کمشنر نہیں جن کے ساتھ عمران خان کا فارن فنڈنگ کیس پر میچ پڑا ہو اور پھر تحریک انصاف کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا گیا ہو، یاد رہے کہ سکندر سلطان راجہ سے پہلے 2014 سے 2019 تک چیف الیکشن کمشنر تعینات رہنے والے جسٹس سردار رضا کے ساتھ بھی وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کا فارن فنڈنگ کیس کی وجہ سے میںچ پڑ گیا تھا جس کے بعد موصوف نے ان پر اظہار عدم اعتماد کرتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر دیا تھا، جسٹس سردار رضا کے چار سالہ دور میں بھی فارن فنڈنگ کیس چلتا رہا لیکن جب وہ کیس کا فیصلہ سنانے لگے تو 25 نومبر 2019 کو وزیراعظم عمران خان نے ان پر اظہار عدم اعتماد کر دیا اور یوں فیصلہ نہ دیا جا سکا اور سردار رضا 5 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوگئے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے مابین معاملات تب کشیدہ تر ہو گئے تھے جب صدر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کے صوبائی ممبران کی تقرری کے قانونی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران خان کی ہدایت پر 5 نومبر 2019 کو خالد محمود صدیقی کو سندھ اور منیر احمد کاکڑ کو بلوچستان کے لیے کمیشن کے ممبرز بنا دیا لیکن چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا نے ان تقرریوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور دونوں اراکین کو حلف دینے کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صدر علوی کی جانب سے کی گئی دونوں تقرریوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا تھا، اسی دوران چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے دن قریب آئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ تحریک انصاف کے خلاف برسوں سے زیرسماعت فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دینے جا رہے ہیں لہٰذا عمران خان نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے بطور وزیر اعظم 25 نومبر 2019 کو جسٹس سردار رضا پر اظہار عدم اعتماد کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا، یوں جسٹس سردار رضا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیئے بغیر ہی 5 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوگئے۔
اب اس واقعے کے ڈھائی برس بعد عمران نے ایک مرتبہ پھر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کر چکا ہے جسے اگست میں سنائے جانے کا قوی امکان ہے، الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کے جو شواہد سامنے آئے ہیں، ان کی روشنی میں عمران خان کی جماعت پر اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔
لہٰذا اب فیصلہ رکوانے کے لیے سکندر سلطان راجہ پر اظہار عدم اعتماد کر دیا گیا ہے، سکندر سلطان راجہ کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش میں عمران کی ہدایت پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیوں نے الیکشن کمشنر پر اظہار عدم اعتماد کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ بھی مانگ لیا ہے تاہم الیکشن کمیشن نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی قسم کا دباؤ نہیں لے گا اور ہر صورت میں کیس کا فیصلہ سنائے گا۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے پر سکندر سلطان راجہ کے خلاف سپریم جوڈیشل کمیشن میں نا اہلی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جوکہ پاکستانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہوگا۔ یہی دھمکی پچھلے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کو بھی دی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کی بجائے اپنی ریٹائرمنٹ کا انتظار کیا اور پھر گھر چلے گئے۔
فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر نے عمران اور ان کی جماعت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات اور ان کے خلاف چلائی گئی مہم پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمران کی فاشسٹ سوچ کا اظہار ہے جو خود کو قانون سمجھتا ہے اور ہر قومی ادارے پر حملہ آور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرا دھمکا کر الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ اگست میں سنا دیا جائے گا اور کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی حکومتی وفد سے ملاقات پر ان کے استعفے کا مطالبہ کرنا بچگانہ حرکت ہے چونکہ سکندر سلطان راجہ نے سب سے زیادہ ملاقاتیں پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے کی ہیں۔
کمیشن کے ذرائع نے یاد دلایا کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی پٹیشنر حکومت نہیں بلکہ اکبر ایس بابر ہیں جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل ہی پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی جوکہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی لہٰذا فضول قسم کے الزامات لگانے کی کوئی تُک نہیں ہے۔
دوسری جانب سکندر راجہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نے اسے کمیشن کو بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، اس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے حوالے سے حکومتی وفد سے ملاقات کر کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے جو ان کے خلاف ریفرنس بھیج کر برخاست کرنے کا فٹ کیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وفد سے ملاقات کر کے الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، لیکن اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ای سی پی ذرائع نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی سیاسی رہنما اور وزرا سے ملاقات معمول کی بات ہے، حال ہی میں پی ٹی آئی رہنما ہمایوں اختر نے بھی سی ای سی سے ملاقات کی تھی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو اس کے پانچ وزرا نے بیک وقت الیکشن کمیشن کے تمام اراکین سے ملاقات کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے اپنے دفتر میں ملاقات کرنا چیف الیکشن کمشنر کے عہدے اور منصب کا تقاضا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے سوال اُٹھایا کہ کس طرح ایک پارٹی کی ملاقات درست اور دوسری پارٹی سے ملاقات غلط ہو سکتی ہے۔ کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ ہے اور جلد ہی سنا دیا جائے گا، اور اس لیے پی ٹی آئی الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن گزشتہ حکومت کے دباؤ میں بھی نہیں آیا تھا اور نہ ہی اب موجودہ حکومت کے اثر و رسوخ سے متاثر ہوگا۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے عزم ظاہر کیا کہ فیصلہ میرٹ کے مطابق سنایا جائے گا جبکہ دباؤ ڈالنے کے یہ تمام حربے الیکشن کمیشن کو آئین اور قانون کے مطابق کام کرنے سے روک نہیں سکیں گے، الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سکندر راجہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کا اعلان عوام کی توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کی رپورٹ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے جس نے عمران خان کی فارن فنڈنگ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔

Back to top button