جاوید اقبال کاPAC طلبی کیخلاف عدالت سے رجوع

قومی احتساب بیورو کےسابق چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں طلبی کیخلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیئرمین نیب کی جانب سے دائر درخواست میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قومی اسمبلی اور سیکریٹری پارلیمانی امور کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ پی اے سی میں سابق چیئرمین نیب کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے جس پر کمیٹی نے وزیراعظم سے انہیں لاپتا افراد کمیشن سے برطرف کرنے کے لیے رجوع کیا، اس قسم کی ہدایات پی اے سی کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

جسٹس(ر) جاوید اقبال نے دائر خواست میں استدعا کی ہے کہ7 جولائی کوہونے والے پی اے سی کے اجلاس کے منٹس کو غیر قانونی، دائرہ کار سے باہر اور کالعدم قرار دیا جائے،انہوں نےاستدعا کی کہ درخواست منظور کرتے ہوئے پی اے سی کی تمام ہدایات، اقدامات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کارروائی کو غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا جائے،ساتھ ہی یہ استدعا بھی کی گئی کہ فریقین کو اس صورتحال میں کسی قسم کی کارروائی عمل میں لانے سے روکا جائے۔

یاد رہے کہسابق چیئرمین نیب جاوید اقبال اور نیب کی ملزمہ طیبہ گل کے حوالے سے 2019 میں ایک ویڈیو لیک ہوئی تھی، جس پر شدید تنقید ہوئی تھی،یہ ویڈیو اس وقت لیک ہوئی تھی جب طیبہ گل اور ان کے شوہر محمد فاروق نیب میں انکوائریز کا سامنا کر رہے ہیں اور نیب نے لاہور کی احتساب عدالت میں ان کے خلاف ریفرنس بھی دائر کردیا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ رپورٹس آئی تھیں کہ طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان کو ایک درخواست دی ہے، جس میں انہوں نے جسٹس (ر) جاوید اقبال، نیب لاہور کے ڈی جی میجر (ر) شہزاد سلیم اور دیگر عہدیداروں کے خلاف انکوائری کی استدعا کی تھی کہ انہیں کرپشن کے ریفرنس میں ملوث کردیا گیا ہے۔

سب سے یاری ڈال کر بھاری پڑنے والے آصف علی زرداری

پی اے سی کے اجلاس میں طیبہ گل نے بتایا تھا کہ انہوں نے سابق چیئرمین کے خلاف درخواست دائر کی تھی، انہیں کوئی کال اپ نوٹس نہیں ملا نہ ہی ان کے خلاف کوئی انکوائری ہوئی،انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں نیب لاہور کے عہدیداروں نے گرفتار کیا، گرفتاری سے قبل سابق چیئرمین نیب سے دو روز پہلے فون پر جھڑپ ہوئی تھی، جس پر نور عالم خان نے استفسار کیا کہ آپ کے چیئرمین نیب کے ساتھ تعلقات کیسے بنے اور وہ آپ سے براہ راست رابطے میں کیسے تھے،خاتون نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میری چیئرمین نیب سے لاپتا افراد کمیشن کے دوران ملاقات ہوئی تھی، جاوید اقبال نے میرے خلاف 2 کروڑ روپے کا ریفرنس بنایا اور انکوائری کے لیے مجھے طلب تک نہیں کیا گیا۔

طیبہ گل نے بتایا تھا کہ سابق چیئرمین نیب نے ہر فورم پر چپ کرایا، میری شنوائی کہیں نہیں ہوئی، میرے خلاف 40 ایف آئی آرز درج کی گئیں،انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس وقت کے وزیراعظم آفس نے ان کے کیس کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے نیب کو بلیک میل کرنے اور شواہد کا غلط استعمال کیا۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے طیبہ گل نے الزام لگایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے سیٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرانے کے بعد انہیں ملاقات کے لیے بلایا تھا،شکایت میں خاتون نے نیب کے اس وقت کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا اور خفیہ طور پر ریکارڈ شدہ فوٹیج کے اسکرین شاٹس بھی منسلک کیے تھے۔

پی اے سی کوانہوں نے بتایا تھا کہ اعظم خان نے ویڈیو طلب کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ جاوید اقبال کے خلاف کارروائی کریں گے، لیکن بعد میں یہ ویڈیو ایک ٹیلی ویژن چینل پر نشر کردی گئی،انہوں نے وزیر اعظم آفس پر الزام لگایا کہ وہ اس ویڈیو کو نیب کی انکوائریوں کو ختم کرنے کے لیے اس وقت کے نیب سربراہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

اس کے بعد 3جولائی کو وفاقی حکومت نے سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر طیبہ گل کی جانب سے عائد کیے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

خاتون طیبہ گل کے الزامات پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے لاپتا افراد کمیشن کے موجودہ چیئرمین اور سابق سربراہ نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور دیگر افسران کو کمیٹی کے سامنے طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں طلبی کے خلاف نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے پی اے سی کو ان کے خلاف کسی کارروائی سے روک دیا تھا۔

Back to top button