وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ،فوری معاوضہ فراہم کرنیکا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ بلوچستان کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا اور امداد کی فراہمی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئےفوری امدادی سامان اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 136 سے متجاویز کر گئی ہے۔آزاد جموں و کشمیر میں واقع ایک گاؤں میں بارش کے نتیجے میں ایک کچا مکان کے گرنے سے دس افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے۔
قلعہ سیف اللہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے دوران یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ کیمپوں میں موجود لوگوں کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا، کیمپوں میں موجود سیلاب زدگان لوگوں نے کھانے اور پینے کے پانی کی قلت اور عدم دستیابی کی بھی شکایت کی۔
انہوں نے کہا لوگوں نے سہولیات کی کمی کی شکایت کی ہے اور میں نے ہدایت کی ہے کہ متاثرین کی شکایات کو جلد از جلد دور کیا جائے اور ان کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں،ہم نے فی الفور انتظامیہ کے خلاف ایکشن لینا ہے جس نے یہاں موجود متاثرین کو کھانا نہیں پہنچایا، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے اور متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے گی اور اس سلسلے میں پائی جانی والی تمام خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کریں گے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا سیلاب سے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو وفاق کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں، آج بھی یہاں چیک تقسیم کیے جائیں گے، جن لوگوں کے مکان مکمل طور پر منہدم ہوگئے ہیں ان کو 5 لاکھ روپے اور جن کے گھروں کو جزوی نقصان ہوا ہے ان کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا سیلاب سے تباہ ہونے والی فصلوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد مزید متاثرین کی بھی مدد کی جائے گی، سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے جس کا مل کر مقابلہ کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، میڈیکل کیمپ کا جال پھیلایا جائے، غیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے،قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کےساتھ انفرااسٹرکچر تباہ ہوا، وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آباد کاری کے لیے پرعزم ہیں، آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے، مخیر حضرات بھی متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔
اس موقع پروزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجوکا کہنا تھا کہ یہاں دورے کے دوران کئی مسائل کی نشاندہی ہوئی، ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں موجود لوگوں کو راشن فراہم کیا گیا ہے اور اگر راشن فراہم نہیں کیا گیا جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں تو ان کے خلاف فوری کارروائی ہوگی اور تمام ذمہ دار افسران کو معطل کیا جائے گا۔
انہوں نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کریں اور غفلت کے ذمہ داران معطل ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرین کو فوری امداد اور تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔
کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، اس سلسلے میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے ایئر فورس اور نیوی کے ہیلی کاپٹرز بھی مہیا کیے جا رہے ہیں، پینے کے صاف پانی کے لیے ایم ڈی ایم نے 2 واٹر پلانٹ لگائے ہیں جو آئندہ ایک دو روز میں فعال ہوجائیں گے جبکہ اس دوران متاثرین کے لیے بوتلوں میں پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا میں نے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے کے دوران بارشوں کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں امدادی چیکس پورے پاکستان میں تقسیم کردیے جائیں اور اسی طرح جو لوگ زخمی ہیں ان کو فوری طور پر چیک فراہم کیے جائیں۔
دوسری جانب طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، بھاری مالی نقصان کے ساتھ اموات کی تعداد 136 سے تجاوز کر گئی ہے۔
سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 136 اموات ہوچکی ہیں جن میں 56 مرد، 47 بچے اور 33 خواتین شامل ہیں جبکہ بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 70 افرادزخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 13535 مکانات کو نقصان پہنچا اور 3406 مکانات مکمل تباہ ہوگئے، مختلف اضلاع میں 16پلوں اور 640کلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔
بارشوں اور سیلابی ریلوں میں بہہ کر 23 ہزار13مویشی ہلاک ہوئے، سیلابی ریلوں سے 8 ڈیم اور کئی حفاظتی بند متاثر ہوئے جبکہ بارشوں سے ایک لاکھ 98 ہزار ایکڑ پر کاشت ہونیوالی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
