عمران خان نے صدر بائیڈن کا فون نہ آنے کی وجہ بتا دی


وزیراعظم عمران خان نے تصدیق کی ہے کہ چھ ماہ پہلے صدارت کا حلف لینے کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن کا ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شاید صدر بائیڈن کی ترجیحات ابھی کچھ اور ہیں، لیکن ان کے پاس جب بھی وقت ہو وہ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کے میزبان نے ایک انٹرویو کے دوران عمران خان سے پوچھا کہ آیا انھوں نے کبھی امریکی صدر جو بائیڈن سے بات چیت کی ہے تو ان کا جواب تھا کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’کیوں‘؟ تو جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’جب بھی ان کے پاس وقت ہو وہ میرے سے بات کر سکتے ہیں لیکن شاید اس وقت ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔‘
یاد رہے کہ آجکل اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں یہ سوال زیربحث ہے کہ کیا وجہ ہے کہ صدر بائیڈن نے صدارت سنبھالنے کے چھ ماہ بعد بھی پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ نہیں کیا جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ ماضی میں نئے امریکی صدور حلف لینے کے چند ہفتوں کے اندر ہی پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کر لیا کرتے تھے۔ بائیڈن کے برعکس صدر ٹرمپ نے حلف اُٹھانے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کر دیا تھا۔ تاہم جو بائیڈن کے جنوری 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کا عمران خان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہو سکا حالانکہ انکی انتظامیہ پاکستانی عسکری حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ لیکن اب عمران خان نے بائیڈن سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ بھی بیان کردی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے ایک ایچ بی او سے انٹرویو کے اشتہاری پرومو میں ان کی جانب سے ’ایبسلوٹلی ناٹ یعنی بالکل نہیں کے الفاظ مکمل انٹرویو کے جاری ہونے سے پہلے ہی زیر بحث تھے مگر اب یہ انٹرویو اتوار کو نشر کیا جا چکا ہے جس میں ان کے مزید بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او پر ’ایکزیوس‘ نامی پروگرام کے لیے صحافی جوناتھن سوان نے عمران خان کا انٹرویو کیا جس میں انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغانستان میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے پاکستان ہرگز امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘ اس انٹرویو میں جہاں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر، چین اور امریکی تعلقات کے پس منظر میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات چیت ہوئی وہیں عمران خان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ’فحاشی کے بڑھنے سے معاشرے پر اس کے اثرات‘ کے بیان کے بعد اُن پر ریپ کی متاثرہ خواتین کو ہی اس کا مورد الزام ٹھہرانے کا الزام کیا درست ہے، جس پر عمران خان نے وضاحت پیش کی کہ ’اگر کسی خاتون نے بہت کم کپڑے پہنے ہیں، اس کے مرد پر اثرات تو ہوں گے۔‘
انٹرویور نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان پر نظر رکھ سکے۔ تو آیا پاکستان اس کی اجازت دے گا، اس پر عمران خان نے کہا ’ایبسلوٹلی ناٹ یعنی بالکل نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں کسی قسم کی سرگرمی کی ہم بالکل اجازت نہیں دیں گے۔‘ انکا کہنا تھا کہ امریکی جنگ میں شریک ہو کر پاکستان نے 70 ہزار جانیں گنوائیں۔ ہم اپنی سرزمین سے مزید فوجی کارروائیاں برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم امن میں شراکت دار ہوں گے، لڑائی میں نہیں۔‘
عمران خان سے پوچھا گیا کہ آیا انھوں نے اب تک امریکی صدر جو بائیڈن سے بات چیت کی ہے تو ان کا جواب تھا کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ ’کیوں‘ کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’جب بھی ان کے پاس وقت ہو وہ میرے سے بات کر سکتے ہیں لیکن ظاہر ہے اس وقت ان کی ترجیحات اور ہیں۔‘ عمران خان نے یہ امید ظاہر کی کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے امریکہ کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھنے کے خدشات پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے جوہری ہتھیار رکھنے کا مقصد انڈیا کے ساتھ کسی کشیدہ صورتحال کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جس لمحے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، مجھے لگتا ہے، دونوں ملکوں کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘
عمران خان سے پوچھا گیا کہ سرحد پار مغربی چین میں چینی حکومت نے تعلیمِ نو کے کیمپوں میں 10 لاکھ اویغور مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے۔ جوناتھن سوان نے کہا کہ ’چینی حکومت نے مسلمانوں پر تشدد کیا ہے، انھیں زبردستی سٹیرلائز یعنی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کیا ہے، انھوں نے سنکیانگ میں مساجد گِرائی ہیں، مسلمانوں کو روزہ رکھنے، نماز پڑھنے یا اپنے بچوں کو مسلم نام دینے پر سزائیں دی ہیں۔ آپ یورپ اور امریکہ میں اسلاموفوبیا پر اتنی بات کرتے ہیں لیکن مغربی چین میں مسلمانوں کے قتل عام پر بالکل خاموش کیوں ہیں؟‘ اس کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’چینی حکومت سے جو ہماری بات چیت ہوئی ہے اس میں پتا چلا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے، چین کے مطابق بھی ایسا ہی ہے۔‘ انٹرویور نے بتایا کہ ان الزامات کے بہت زیادہ اور ٹھوس شواہد موجود ہیں جس پر عمران خان نے کہا کہ ’چینی حکومت کے ساتھ ہمارے جو بھی مسائل ہوتے ہیں، ہم ان کے بارے میں بند کمروں کے اندر بات کرتے ہیں۔ ہمارے مشکل وقتوں میں چین ہمارا بہترین دوست ثابت ہوا۔ جب ہماری معیشت مشکلات کا شکار تھی تو چین ہماری مدد کو آیا۔ ہم اس بات کا احترام کرتے ہیں کہ وہ کیسے ہیں اور آپسی مسائل پر بند کمروں کے اندر بات چیت کرتے ہیں۔‘
عمران خان نے سوال کیا کہ ’مغربی دنیا کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ کیوں ہے؟ کشمیر کے لوگوں کو نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے؟‘ ’اویغوروں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کے موازنے میں ایک لاکھ کشمیریوں کا قتل کیا گیا ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ لاکھ انڈین فوجی ہیں۔ یہ واقعی کشمیر کے لیے یہ بڑا قید خانہ ہے۔ یہاں 90 لاکھ کشمیریوں کو رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک مسئلہ کیوں نہیں ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ منافقت ہے۔‘ انٹرویور نے سوال پوچھا کہ ’چین آپ کے لیے بڑا پارٹنر ثابت ہوا ہے لیکن کیا کسی سطح پر آپ کو بُرا نہیں لگتا کہ ان کے دیے ہوئے پیسوں کی وجہ سے آپ کو خاموش رہنا پڑتا ہے۔؟‘ عمران خان نے اس کے جواب میں کہا کہ ’میں دنیا پر نظر دوڑاؤں تو پتا چلتا ہے کہ فلسطین، لیبیا، صومالیہ، شام، افغانستان میں کیا ہو رہا ہے۔ کیا میں ہر چیز پر بات کرنا شروع کر دوں؟ میں اس پر توجہ دوں گا کہ میرے ملک کی سرحدوں کے اندر کیا ہو رہا ہے۔‘
اس پر انٹرویور نے کہا کہ ’یہ بھی تو آپ کی سرحد پر ہی ہو رہا ہے۔‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ’کشمیر پاکستان کا حصہ ہے، یہاں ایک لاکھ لوگ مر رہے ہیں۔ مجھے اس کی زیادہ فکر ہے کیونکہ آدھا کشمیر پاکستان میں ہے۔‘ جوناتھن سوان نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہے جس کے جواب میں عمران خان کہتے ہیں کہ ’مجھے اس پر یقین نہیں۔ چین سے ہماری بات چیت میں یہ بات سامنے نہیں آئی۔‘ انٹرویور نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کی مثال دی اور کہا کہ ظاہر ہے چینی آپ کو یہی بتائیں گے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر پوچھا کہ ’کیا آپ کو سنکیانگ میں اویغوروں کی کوئی فکر نہیں؟‘ عمران خان نے جواباً ایک بار پھر کہا کہ ’چین سے ہماری بات چیت ہمیشہ بند دروازے کے پیچھے ہو گی۔‘

Back to top button