عمران خان کی حکومت جا نہیں رہی بلکہ جا چکی ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے حکومتی جماعت تحریک انصاف میں کھلی بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت جا نہیں رہی بلکہ جا چکی ہے اور اب صرف رخصتی کی رسمی کارروائی باقی ہے۔
ملک کے سیاسی منظر نامے کی تصویر کشی کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے دو درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی کی کھلی بغاوت اور وزیر اعظم پر اظہار عدم اعتماد کے بعد اب ان کا اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے چمٹا رہنا بنتا نہیں اور انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ اب اگر وزیراعظم اپنا اقتدار بچانے کے لیے کوئی غیر آئینی کام کرتے ہیں تو ان کی بچی کھچی عزت کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے عمران خان کو سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کرکے میدان چھوڑ دینا چاہیے۔ سیٹھی نے کہا کہ عوامی جلسوں میں "کسی کو نہیں چھوڑوں گا” اور "آخر تک تمہارا پیچھا کروں گا” جیسی دھمکیاں دینے والے عمران خان کو خود سب چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اب وہ چھوڑنے والوں کا پیچھا کرنے میں مصروف ہیں۔ نجم نے کہا کہ عمران کے اقتدار کا سورج غروب ہونا لازمی ہے اور اب وہ صرف کوئی غیر آئینی قدم اٹھا کر حکومت بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خود عمران کو بھی معلوم ہے کہ اسمبلی کے اندر اور باہر ان پر عدم اعتماد ہو چکا ہے اور ان کی حکومت گرنے سے پہلے ہی گر چکی ہے۔
نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے داخل ہونے کے بعد عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے اعلان کے بعد جو سیاسی ماحول بن رہا ہے، اس نے سب کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ صورت حال کافی سنجیدہ اور ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے، عمران خان آئین کے تحفظ کی بجائے اپنا اقتدار بچانے کی خاطر آئین شکنی پر تل بیٹھے ہیں۔ وہ اپنے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا قومی اسمبلی میں کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے باہر عوامی طاقت دکھا کر کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب وہ یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی سے بغاوت کرنے والے ممبران قومی اسمبلی کو ان کا ووٹ ڈالنے کا آئینی حق بھی نہیں دیا جائے گا۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں کوشش کرنی چاہیے کہ سب کچھ ملکی آئین کے اندر رہتے ہوئے ہی ہو ورنہ معاملات سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہے۔ ان کے اتحادیوں میں سے بیشتر نے ان کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے درجنوں اراکین اسمبلی بھی پارٹی چھوڑ کر پرواز کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ہیں جبکہ مزید اراکین بھی ان کے ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔ سیٹھی کے بقول، میری چڑیا کی اطلاع کے مطابق بہت جلد پنجاب حکومت کیخلاف بھی ووٹ آف نو کانفیڈنس لایا جا رہا ہے تاکہ کپتان اور ان کے وسیم اکرم پلس، دونوں کی آگے پیچھے چھٹی کروا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو واضح نظر آ رہا ہے کہ سندھ ہائوس کے اندر ان کے درجوں اراکین اسمبلی موجود ہیں۔ میرے خیال میں ان سب کو گن لیں تو اپوزیشن کے پاس نمبرز گیم 200 سے اوپر چلی جاتی ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید اضافے کا امکان ہے، لہٰذا عمران خان کا بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کر لیں اور باعزت طور پر اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں تو اس میں ان کا اور پاکستان دونوں کا فائدہ ہے، لیکن اگر انہوں نے اسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کیا تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
نجم نے کہا کہ عمران خان کے اقتدار کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ اب ان کے پاس اسے روکنے کیلئے غیر آئینی طریقے تو موجود ہیں لیکن کوئی آئینی طریقہ موجود نہیں ہے۔ تاہم یہ جو مرضی کر لیں اب ان کی کرسی نہیں بچے گی۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اپنی حکومت کو جاتا دیکھ کر عمران خان فرسٹریشن کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن ایسا کرنا آئینی طور پر اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ عمران خان کے لیے مزید شرمندگی کا سامان پیدا کرے گا لہذا اس سے پرہیز ہی بہتر ہے۔
