عمران خان کے خلاف لندن پلان میں تیزی


اپوزیشن جماعتوں کے بعد اب انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے صحافی حضرات بھی اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک کثیف سی بو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی فضا تبھی بنتی ہے جب حکومت کے چل چلاؤ کا وقت ہو جائے۔
اسلام آباد کے مخصوص صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ لندن اور اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے چھٹکارے کا منصوبہ تیار ہو رہا ہے اور ان کی جگہ متوقع امیدواروں میں خورشید شاہ اور خاقان عباسی کے نام لیے جا رہے ہیں۔ لیکن بڑے مسئلے صرف دو ہیں، ایک یہ کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے اکٹھے ہوئے بغیر تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانا ممکن نہیں اور دوسرا یہ کہ عمران خان سے جان چھڑوانے کے بعد اگلا سیٹ اپ کیا ہوگا، یہ بھی طے ہونا ہے کہ اگلا سیٹ اپ عبوری ہوگا یا اسمبلیوں نے باقی ماندہ مدت پوری کرنی ہے۔ اس معاملے پر اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اسمبلیوں کی بقیہ مدت پوری کرنے کے حق میں ہیں جبکہ نواز لیگ فوری نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہے۔
بھائی لوگوں سے قریبی تعلق رکھنے والے اے آر وائے نیوز کے صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق لندن میاں صاحب کے لیے ایک اہم پیغام لے کر گئے ہیں جس میں عمران کو گھر بھیجنے کا فارمولہ بھی شامل ہے۔ اپنے پروگرام ‘دا رپورٹرز’ میں ساتھی میزبان چوہدری غلام حسین سے بات کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا ہے کہ لندن میں اس وقت ‘مائنس ون’ فارمولے پر گفتگو ہو رہی ہے اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے اصولی طور پر اس حوالے سے اتفاق کر لیا ہے۔ خورشید شاہ، ایاز صادق اور خواجہ آصف اس میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور کچھ اور جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں۔ صرف یہ طے کیا جا رہا ہے کہ اگر ہم کامیاب ہو جاتے ہیں تو کس کو کیا ملے گا، اگلا سیٹ اپ کتنے عرصے تک قائم رہنا چاہیے۔ صابر شاکر کے مطابق مسلم لیگ نواز چاہتی ہے کہ اس نئے سیٹ اپ کا دورانیہ کم سے کم ہونا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ چار سے پانچ مہینے اور اس کے لئے پیپلز پارٹی سے گارنٹی لی جا رہی ہے کہ یہ نہ ہو کہ عمران خان کو ہٹانے کے بعد پیپلز پارٹی نئے سیٹ اپ کو لمبا کھینچنے کی کوشش کرے۔ اس طرح کے تمام اختلافی معاملات پر بات ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے مسلم لیگی رہنما خرم دستگیر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایاز صادق بطور سابق سپیکر تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین سے رابطے میں رہتے ہیں، اور وہ پارلیمان کی صورتحال اور اپنے آپشنز کے بارے میں نواز شریف سے بات کرنے لندن گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ بھی اس سے قبل تقریباً وہی پوزیشن اختیار کر چکے ہیں جو ن لیگ کا مؤقف بھی سمجھی جاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے ایک نیا وزیر اعظم لایا جا سکتا ہے جو پارلیمان کو انتخابات کی طرف لے جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز اس تجویز سے سو فیصد اتفاق کرے گی۔
خواجہ آصف بھی اے آر وائے نیوز پر کاشف عباسی سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اب ایک نیا وزیر اعظم لایا جائے جو بیشک تحریکِ انصاف سے ہو اور اس کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ حکومت توڑ کر نئے انتخابات کروائے۔ تاہم اس معاملے پر لندن میں موجود چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت اپنی ٹرم پوری کرے گی، اسے عدم اعتماد کے ذریعے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ انکا۔کہنا تھا کہ ماضی میں اس طرح کی کوششوں نے اپوزیشن کو کمزور ثابت کیا ہے۔ حسب سابق غلام حسین کا دعویٰ تھا کہ اس بار بھی اپوزیشن کی عمران۔مخالف سازش ناکام ہوگی اور شاید وہ تحریکِ عدم اعتماد لائیں ہی ناں۔ تاہم چوہدری غلام حسین نے تصدیق کی کہ ایاز صادق نون لیگ میں شمولیت کے خواہشمند جن ممبران قومی اسمبلی کی لسٹ لیکر نواز شریف کے پاس آئے ہیں ان میں تحریکِ انصاف کے ایسے اراکین کی اکثریت ہے جو مستقبل کے حوالے سے مایوس ہیں اور آگے پی ٹی آئی کے ٹکٹ نہیں لینا چاہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ اگلے الیکشن میں نواز لیگ کی ٹکٹ کا وعدہ کریں تو ہم تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کو تیار ہیں۔ بقول غلام حسین، ایک گروپ کا لیڈر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے جب کہ دوسرے کا تعلق فیصل آباد سے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے یہ اراکین پہلے بھی نواز لیگ سے رابطوں میں رہے ہیں لیکن جب تک انہیں یقین نہیں ہو جائے گا کہ عمران خان کے گھر جانے والے ہیں وہ کھل کر سامنے نہیں آئیں گے۔
دوسری جانب صابر شاکر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنے تمام وزرا اور اراکین کو کہا ہے کہ اگلے تین ماہ بہت اہم ہیں اور اس دوران کوئی پاکستان سے باہر نہیں جائے گا۔ یقیناً ان کے پاس بہت سی معلومات ہیں جو ہمارے پاس شاید نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اختلاف سندھ اور وفاق دونوں میں اسمبلیوں سے استعفے دینے پر تھا
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں ڈیڈ لاک: طالبان کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
اور پیپلز پارٹی اس پر متفق نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے۔ مسلم لیگ نواز اس پر پہلے صاف ردِ عمل دیتی تھی کہ ایسا ممکن نہیں۔ لیکن اب درمیانہ راستہ نکالا جا رہا یے اور تجویز یہ یے کہ جو بھی سیٹ اپ آئے، وہ تین سے پانچ ماہ کے لئے ہونا چاہیے، اس دوران جو قانون سازی کرنی ہے، وہ کی جائے اور پھر الیکشن کروا دیا جائے۔ پیپلز پارٹی اس پر سوچ بچار کر رہی ہے۔ یہ دعوے ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب سیاسی تجزیہ کار بار بار اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک کثیف سی بو کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی تبھی بنتی ہے جب کسی حکومت کے چل چلاؤ کا وقت ہو۔

Back to top button