13 پاکستانی کمپنیوں پر جوہری معاونت کا امریکی الزام


برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ تجارت کی پابندیوں کا نشانہ بننے والی ان تمام 13 کمپنیوں نے خود پر لگائی جانے والی امریکی پابندیوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ بادی النظر میں ان کمپنیوں کا پاکستان کے جوہری یا میزائل پروگرام سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یہ کمپنیاں تجارت، انجینیئرنگ اور درآمدات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
بی بی سی کے مطابق لاہور میں قائم دو کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے اشرف اور فرخ کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو امریکی محکمہ تجارت نے 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیوں کے نفاذ کے ضمن میں جاری کی ہے۔ 1990 سے امریکی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام میں چین اور شمالی کوریا مدد کر رہے ہیں اور ان کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
واشنگٹن میں قائم ’تھنک ٹینکس‘ کی ترتیب وار رپورٹس میں پاکستان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا اور چین سے میزائل درآمد کیے گئے جنھیں مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ امریکی حکام نے اکثر یہ الزام پاکستان پر عائد کیا ہے کہ اس نے شمالی کوریا سے ’نوڈونگ‘ میزائل اور چین سے ’ایم۔11‘ میزائل درآمد کیے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے یہ بیلسٹک میزائل مقامی طور پر اپنی صلاحیت و مہارت سے تیار کیے ہیں جن میں غوری اور شاہین نسل کے میزائل شامل ہیں۔
امریکہ کی طرف سے مسلسل دہرائے جانے والے مؤقف کے مطابق غوری شمالی کوریا کے نوڈونگ میزائل کا چربہ ہے یعنی نوڈونگ میزائل پر نیا رنگ و روغن کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح شاہین میزائل پر بھی الزام ہے کہ یہ چینی ٹیکنالوجی سے تیار شدہ ہے۔
امریکی انتظامیہ کی کتابوں اور دفاتر میں پاکستانی جوہری پروگرام کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا گیا ہے تاہم امریکی تحقیق اور الزامات کے مطابق اس کی بنیادی ٹیکنالوجی چین سے درآمد نہیں کی گئی بلکہ پاکستان کے جوہری پروگرام میں استعمال ہونے والی جوہری مواد افزودہ کرنے کی ٹیکنالوجی یورپی ذرائع سے آئی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مئی 1998 میں پاکستان کے جوہری دھماکوں کے تجربے کے وقت امریکی ذرائع ابلاغ میں بعض ایسے الزامات بھی سامنے آئے کہ پاکستان کے جوہری بم کا ڈیزائن چین نے دیا تھا۔
چین اور کوریا کی ٹیکنالوجی سے تیار ہونے والا میزائل پروگرام امریکہ سے ٹیکنالوجی اجزاء کے ذریعے کیسے مزید ترقی کر سکتا ہے یا اسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے، یہ وہ سوال ہے جو سمجھ میں آنا مشکل ہے، جیسا کہ ان 13 پاکستانی کمپنیوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکہ سے حساس ٹیکنالوجی کی درآمد میں ملوث ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام سے متعلق جن 13 کمپنیوں کے زیادہ تر عہدیداروں پر پابندیاں لگائی ہیں، وہ بظاہر مکمل اندھیرے اور لاعلمی کا شکار ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا یا ان پابندیوں کے قانونی مضمرات کیا ہیں؟ 26 نومبر 2021 کو امریکی محکمہ تجارت نے نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کے ذریعے 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ یہ وہ کمپنیاں تھیں جو امریکہ کے ساتھ تجارت اور کاروبار کر رہی تھیں۔ امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ نے ان 13 پاکستانی کمپنیوں کے نام ’اینٹٹی لسٹ‘ میں شامل کر دیے جو ’ان اداروں کی نشاندہی کرتی ہے جن کے بارے میں اس خیال کے لیے مخصوص، قابل بیان اور قابل قبول جواز و حقائق موجود ہوں کہ وہ ادارے امریکہ کے خارجہ پالیسی مفادات یا قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں یا اس وقت بھی ملوث ہیں۔‘
ان 13 پاکستانی کمپنیوں کی تقسیم اس طرح سے کی گئی ہے کہ یہ امریکہ سے حساس ٹیکنالوجی کی درآمد کے ذریعے پاکستان کے جوہری پروگرام میں مدد دے رہی ہیں اور یہ امریکہ سے ٹیکنالوجی کی درآمد کے ذریعے پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔
امریکی محکمہ تجارت کی دستاویز کے مطابق ’کیو اینڈ این ٹریڈرز، یو ایچ ایل کمپنی، جیوڈنگ ریفریجریشن اینڈ ایئر کنڈیشننگ ایکویپمنٹ کو (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کے سافٹ انٹرپرائیزز، سلجوق ٹریڈرز (ایس ایم سی پرائیویٹ) لمیٹڈ، گلوبل ٹیک انجینئرز، عاصے ٹریڈ اینڈ سپلائیز، اور جیڈ مشینری پرائیویٹ لمیٹڈ، تمام ہی پاکستان میں کام کرنے والی کمپنیاں ہیں جو پاکستان کی غیر محفوظ جوہری سرگرمیوں میں حصہ دار ہیں۔‘ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق کچھ پاکستانی کمپنیاں امریکہ سے حساس ٹیکنالوجی کے حصول میں چینی کمپنیوں کی بھی معاونت کر رہی تھیں۔ محکمے کے مطابق یہ کمپنیاں پاکستانی جوہری پروگرام کے لیے امریکہ سے نہ صرف حساس آلات خرید رہی تھیں بلکہ پاکستانی کمپنیوں کو ’فرنٹ‘ یعنی آڑ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
امریکی محکمہ تجارت کی دستاویز کے مطابق ’پولی ایشیا پسیفک لمیٹڈ (پی اے پی ایل) اور پیک ٹیک کمپنی لمیٹڈ کو (فہرست میں) شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں کمپنیاں چین میں قائم ہیں اور پاکستان کی غیر محفوظ جوہری سرگرمیوں میں حصہ دار ہیں۔‘
اینڈ یوزر ریویو کمیٹی (ای آر سی) نے القرطاس کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جو پاکستان میں قائم ہے کیونکہ ’یہ پاکستان کی غیر محفوظ جوہری سرگرمیوں میں حصہ دار ہے۔‘ امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ نے ’پاکستان میں قائم براڈ انجینئرنگ کو پاکستان کے غیر محفوظ بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام میں حصہ دار ہونے کی بنا پر شامل کیا ہے۔‘ ’ای آر سی نے پاکستان میں قائم پرائم ٹیک اور اس کے دو ملازمین محمد اشرف اور محمد فرخ کے نام فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جو پاکستان میں کام کرتے ہیں۔ اُنھیں پاکستان میں قائم ادارے ٹیک لنکس کے لیے مطلوبہ لائسنس کے بغیر ایسی اشیا حاصل کرنے پر ’اینٹری لسٹ‘ میں شامل کیا گیا جن پر ’ای اے آر‘ (ایکسپورٹ ایڈمنسٹریشن ریگولیشنز یعنی برآمدات کے انتظام سے متعلق ضابطے) کی شرائط لاگو ہوتی ہیں جنھیں ہم نے ستمبر 2018 میں فہرست میں شامل کیا۔‘
ان تمام کمپنیوں پر براہ راست امریکہ میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے بلکہ امریکی محکمہ تجارت نے ان کمپنیوں کے لیے لازمی شرط عائد کی ہے کہ وہ امریکہ سے کچھ درآمد کرنے سے پہلے لائسنس حاصل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں ڈیڈ لاک: طالبان کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دوسری جانب پاکستانی کمپنیوں کے زیادہ تر عہدیداروں نے امریکی انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بی بی دیجیے مطابق جب پاکستانی کمپنیوں کے ملازمین سے حکومت پاکستان سے تعلق کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو وہ اس بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔

Back to top button