رانا شمیم کو اصل حلف نامہ پیش کرنے کیلئے آخری موقع
اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کو اصل حلف نامہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے رانا شمیم، میرشکیل الرحمان، انصارعباسی اور عامر غوری کو 13 دسمبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے گذشتہ سماعت کا 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا جج نے ریمارکس دیئے کہ رانا شمیم ، میر شکیل الرحمان سمیت تمام فریقوں کے جواب غیر تسلی بخش ہیں ، بے بنیاد بیان حلفی اور غلط خبر پر کیوں نہ تمام فریقوں پر فردجرم عائد کریں؟
تحریری حکم نامے میں رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصارعباسی اور عامرغوری کو 13دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔ رانا شمیم نے بتایا کہ کسی کے ساتھ بیان حلفی شیئر نہیں کیا، اصل بیان حلفی لندن کے لاکرمیں ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ رانا شمیم کو بیان حلفی ہائی کورٹ میں جمع کروانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ، اٹارنی جنرل نے لندن میں مدد کیلئے خط و خطابت کی کاپیاں ریکارڈ پر رکھی ہیں۔
رانا شمیم نے الزام عائد کیا کہ حلف نامے کی کاپی شیئر نہیں کی اور نہ انصار عباسی، عامر غوری ، میرشکیل الرحمان سے حلف نامہ شیئر کیا۔رانا شمیم نے الزام لگایا کہ حلف نامہ ان کی رضا مندی سے نہیں شائع ہوا۔
اس پورے معاملے کے ذمہ دار کے خلاف سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، حلف نامے کے مندرجات پھیلانے کے ارادے سے جلد بازی میں شائع کیا ۔ بیان حلفی میں ایک ایسے جج کا نام آیا جو بیرون ملک چھٹیوں پر تھے ۔ رانا شمیم نے 15 جولائی 2018ء کی گفتگو کا حوالہ دیا،رانا شمیم نے جواب میں واضح کہا کہ انہوں نے بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف ، حمزہ شہباز 16 ارب کی ٹریل دینے میں ناکام
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے رانا شمیم کو آخری موقع دے رہے ہیں ، رانا شمیم کی تین سال تک خاموشی ان کی ساکھ پر سنجیدہ سوال اٹھا رہی ہے ، بادی النظر میں اس وقت بیان حلفی کے پیچھے نیک نیتی نہیں ، عدالت نے 13 دسمبر کو رانا شمیم سمیت تمام فریقوں کو طلب کر لیا۔
