عمران نے ریلیف کے نام پر عوام کو مزید تکلیف کیسے دی؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے لیے ریلیف کے اعلان پر اپوزیشن اور عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا کہ اگر عوام کو واقعی ریلیف دینی ہے تو حکومت فوری طور پر مستعفی ہو جائے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ وزیراعطم کا ریلیف پیکج ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق صرف چند خاندان صرف 6 ماہ کے لیے گھی، آٹا اور دالوں کی خرید میں مستفید ہوں گے جو کہ ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے، انہون نے کہا کہ موجودہ حکومت کے تین برسوں میں گھی 108 فیصد، آٹا 50 فیصد اور گیس 300 فیصد مہنگی ہو چکے لیکن وزیر اعظم نے چھ ماہ کے لیے آٹے اور گھی کی قیمتوں میں جو کمی کرنے کا اعلان کیا ہے وہ صرف پانچ فیصد تک ہے۔ دوسری جانب حکومت نے پچھلے تین برسوں میں گیس کی قیمت میں 300 فیصد اضافہ کرنے کے بعد اب صرف سردیوں کے لیے اسکی قیمت میں 30 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ایک اور سنگین مذاق ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے عوام کے لئے زندگی مشکل تر کر دی ہے اور انکے مسائل کا واحد حل کپتان حکومت کی اقتدار سے رخصتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ عمران خان کے خطاب سے عوام کا کرب مزید بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا خطاب اپنی نااہلی، بے بسی اور انتظامی جمود کا واضح اعتراف تھا، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے عوام کے لئے ریلی کا اعلان کرنے کی بجائے ان کو پٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانے کی دھمکی دی جو کہ قابل مذمت ہے۔ شہباز نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت عوام کے لیے ایک عذاب بن گئی ہے اور حکومتی وزرا یہ کہتے پھرتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کے ریلیف کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ عوام نے کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔ عمران نے عوام کو ریلیف کی امید دلوا کر ایک مرتبہ پھر ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور اور اسی وجہ سے ان کی تقریر کے فوری بعد گھی کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے۔ مریم نے کہا کہ اگر عمران خان نے عوام پر مہنگائی بم ہی چلانے تھے تو ٹی وی پر آکر ان کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
وزیراعظم کے ریلیف پیکج پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وزیرِ الزام نے عجیب و غریب تقریر کی جس میں عوام کے لیے ریلیف تو نہیں لیکن تکلیف کافی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران نے معاشی بحران، آسمان کو چھوتی مہنگائی، بے مثال عوامی قرضوں، گرتے ہوئے روپے کی ذمہ داری تو قبول نہیں کی لیکن عوام کو مہنگائی میں مذید اضافے کے لیے تیار ہونے کی ہدایت ضرور کر دی۔ شیری نے کہا کہ 22 کروڑ میں سے 2 کروڑ کے لیے چگ مہینے کے لیے ایک ’ریلیف پیکج‘ اگر ایک بیہودہ مذاق نہیں تو اور کیا یے۔ انکا کہنا تھا کہ عمران اس فراڈ پیکیج کے اعلان کے بعد استعفیٰ دے دیں جس سے عوام کی تکلیف کم ہو گی اور انہیں کچھ ریلیف ملے گی۔
وزیراعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ عمران کی جانب سے عوام کو آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی کی وارننگ نے ان کی ساری تقریر کا تاثر منفی کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملکی معیشت کی موجودہ صورت حال پر نظر دوڑائی جائے تو آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اگلے 6 ماہ میں مہنگائی، بے روزگای اور معاشی بحران میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس، کپاس، پیٹرول مذید مہنگے ہو جائیں گے۔ ایسے میں عوام کے لیے ریلیف تو کہیں بھی نظر نہیں آتی۔
وزیرا عظم عمران خان کی جانب سے ’دو خاندان‘ سے لوٹی ہوئی رقم واپس لانے پر اشیا کی قیمتوں میں نصف کمی کے بیان پر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ جناب وزیر اعظم صاحب، یہ کام کرنے کا وعدہ تو آپ نے قوم سے کیا تھا، لہذا اسے پورا کرنا بھی آپ کا فرض ہے، عوام کا نہیں۔
