ریاست کیسے پگھل رہی ہے اور پاکستان کیوں تباہ ہو رہا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ میں آج تسلیم کرتا ہوں کہ ہم واقعی کسی گہری سازش کا شکار ہیں اور کسی ایسے قومی پاگل پن میں مبتلا ہو چکے ہیں جسکے باعث ہم نے ملک کے تمام اہم اختیارات غیر متوازن لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیے ہیں اور یہ لوگ اس ملک کے ساتھ وہ سلوک کر رہے ہیں جو کوئی دشمن بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ نہیں کرتے۔ آنکھیں کھولیں، یہ ریاست تیزی سے پگھل رہی ہے اور ہم نے اگر پاگل پن کا سلسلہ نہ روکا تو یہ ملک ایک دو برسوں میں تباہ یو جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ کو اگر یقین نہ آئے توآپ دو سوالوں کا جواب دے دیں۔ کیا تحریک انصاف حکومت اور تحریک لبیک کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد آئی جی پنجاب راؤسردار علی خان اپنی فورس سے کام لے سکے گا۔ کیا یہ اپنے بےموت مارے جانے والے اپنے جوانوں کے خاندانوں کا سامنا کر سکے گا۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر خدانخواستہ یہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا تو کیا ہم اگلے معاہدے کی گارنٹی کے لیے امام کعبہ کو بلائیں گے اور کیا پولیس امریکا سے آئے گی؟ لہٰذا خدا خوفی کریں۔ اس ملک پر رحم کریں، یہ اپنی اوقات سے زیادہ سزا بھگت چکا ہے، اس میں مزید سکت نہیں رہی چناں چہ بس کر دیں۔
تحریک لبیک کے مظاہرین کے ہاتھوں تشدد سے جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کا ذکر کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں یہ سوال کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ کیا ہم واقعی پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں؟ میں کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ آج مجھے اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ریاست کے رہے سہے بھرم کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اور کیا ہم سب عاشق رسولؐ نہیں ہیں اور کیا گستاخی پولیس یا عوام نے کی تھی کیوں کہ اس کی سزا تو یہی بھگت رہے ہیں؟ وہ یاد دلاتے ہیں کہ گستاخی تو 2007 میں ہوئی تھی اور گستاخی کرنے والا لارس ولکس بھی ذلت کی موت مر چکا۔ پھر مسئلہ کیا ہے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اہل مغرب بھی اسلامی دنیا کے ردعمل کے بعد اپنے رویوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں لیکن ہم گستاخوں کی گستاخی پر 15 برسوں سے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے چلے رہے ہیں۔ ہم اپنی املاک اور اپنی ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دوسرا سنی علماء نے چھ ماہ قبل جیل میں سعد رضوی سے مذاکرات کے بعد فرنچ سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ واپس لے لیا تھا۔ جواب میں حکومت نے لبیک سے پابندی ہٹانے، اسکے اکاؤنٹس بحال کرنے اور ساتھ رضوی کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن پھر یہ اچانک دوبارہ ناموس رسالتؐ کا ایشو کیسے کھڑا یو گیا اور خون ریزی تک کیسے چلا گیا؟ کیا ہم ریاست پاکستان سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں؟ بقول جاوید چوہدری، ٹی ایل پی سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے۔
اسے سیاست کا پورا پورا حق ہے لیکن اسے کسی مذہبی نعرے کی بنیاد پر سڑکیں بند کرنے کا حق کس نے دیا‘ اسے پولیس پر حملے کا اختیار بھی کس نے دیا؟ لیکن بات پھر 2014کے دھرنوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ آج کے وزیراعظم جب ماضی میں سول نافرمانی کا اعلان کرتے تھے‘ جب پورا ملک بند کرنے کا حکم دیتے تھے اور یہ جب کرینیں لے کر پارلیمنٹ ہاؤس پر چڑھ دوڑے تھے تو ریاست نے اس وقت انھیں نہیں روکا تھا لہٰذا ریاست اب ٹی ایل پی کو کس منہ سے روکے گی؟ یہ وقت کی وہ گانٹھ ہے جو ہمیں اب دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہے اور یہ نہ جانے کب تک کھولنی پڑے گی۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اب ذرا حکومت کی طرف آ جائیے۔ سنی علماء نے جب چھ ماہ پہلے معاملات طے کر دیے تھے تو آپ سعد رضوی کو وعدے کے مطابق رہا کر دیتے۔ آپ تب پابندی واپس لے لیتے، اسکے اکاؤنٹ کھول دیتے اور اسکے کارکنوں کو رہا کر دیتے۔ آج کم از کم ریاست کا بھرم تو بچ جاتا۔ دوسرا آپ جب وعدے پورے نہیں کر سکتے تھے تو آپ نے ٹی ایل پی کے ساتھ چار معاہدے کیوں کیے؟ کیا۔کوئی ریاست اسطرح بھی منافقت کرتی ہے؟ تیسرا یہ کہ جب وزیراعظم نے 27 اکتوبر کو کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ ہم ریاست کی رٹ اسٹیبلش کریں گے اور پوری فورس کے ساتھ لبیک کو روکیں گے تو پھر اچانک حکومت ایک ہی رات میں آسمان سے زمین پر کیوں آ گئی حالانکہ ایک روز پہلے ہی وفاقی وزرا لبیک کو بھارتی فنڈنگ لینے والی عسکریت پسند تنظیم قرار دے چکے تھے۔ اب حکومت دوبارہ سے یوٹرن لیتے ہوئے نہ صرف لبیک پر عائد پابندی ختم کرنے پر تیار ہو گئی ہے بلکہ سعد رضوی کو بھی رہا کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ لبیک کے دو ہزار کارکنوں کو پہلے ہی رہا کر دیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب یہ سب کیوں؟ آپ نے اگر یہ ہی کرنا تھا تو پھر آپ کو دھمکیاں دینے کی کیا ضرورت تھی جس نے بلا وجہ اتنے لوگ مروا دیے اور پوری دنیا میں ملک کا تماشا بھی بنا دیا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میرے ذاتی خیال میں وزیر اعظم نے شیخ رشید اور فواد چوہدری کو آگے لگا کر ان سے کسی گستاخی کا بدلہ لیا ہے۔ انہوں نے ان دونوں کا سیاسی کیریئر ختم کر دیا ہے۔ یہ اب مذہبی ووٹرز سے ووٹ نہیں مانگ سکیں گے۔ مجھے مفتی منیب الرحمن نے خود بتایا کہ ’’ہم جب فائنل راؤنڈ کے لیے گئے تو میں نے وزیراعظم سے کہا‘ شیخ رشید اور فواد کے ہوتے مذاکرات نہیں کریں گے اور میرے مطالبے پر وزیر اعظم نے دونوں وزراء کو سائیڈ پر کر دیا اور یوں شاہ محمود‘ علی محمد اور اسد قیصر نے معاہدے پر دستخط کیے اور چند طاقتور ترین شخصیات نے معاہدے پر عمل درآمد کی گارنٹی دی۔ یہ ہے حکومت کی وہ رٹ جو یہ اسٹیبلش کرنا چاہتی تھی اور اس رٹ کے بعد اسی حکومت کے وفاقی وزراء کھلے عام لبیک سے معاہدے کو گرینڈ سرینڈر قرار دے رہے ہیں۔
