علی وزیر پر غداری کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کی مذمت


پشتون تحفظ موومنٹ نے کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے اپنے رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر فرد جرم عائد ہونے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی اداروں کی جانب سے انتقامی کاروائی قرار دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایسے منفی اقدامات سے پی ٹی ایم کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔
یاد رہے کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین نومبر کے روز زیر حراست علی وزیر اور دیگر 10 افراد پر سہراب گوٹھ کراچی میں ایک ریلی سے خطاب میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے کیس میں غداری کے الزام پر فرد جرم عائد کی تھی۔ تاہم پشتون تحفظ موومنٹ کا کہنا ہے کہ علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف غداری کا مقدمہ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں اور ریاستی اداروں کی جانب سے عدالت پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
اس سے قبل اس کیس کی گزشتہ سماعت میں عدالت نے منظور پشتین، محسن داوڑ اور دیگر دو افراد کو مفرور قرار دیا تھا۔ سہراب گوٹھ میں ہونے والے جلسے میں ان دونوں پی ٹی ایم رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی اور ان پر بھی ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج ہے۔ تاہم کراچی پولیس نے ابھی تک منظورپشتین اور محسن داوڑ کو گرفتار کرنے کے لیے کوئی کاروائی نہیں کی۔ اس دوران محسن داوڑ نے پشتون تحفظ موومنٹ سے علیحدہ ہو کر اپنی سیاسی جماعت بنا لی ہے۔ تاہم پشتون تحفظ موومنٹ کا موقف ہے کہ اس وقت ریاستی اداروں کا اصل ٹارگٹ علی وزیر ہیں اور اسی لیے ان کو پچھلے ایک برس سے حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس نے علی وزیر اور پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین، رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، محمد شفیع اور ہدایت اللہ پشتین سمیت کئی ارکان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔ کراچی پولیس نے 6 دسمبر 2020 کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں پی ٹی ایم کے جلسے کے دوران ریاستی اداروں اور فوج، پولیس، رینجرز کے خلاف ہتک آمیز، اشتعال انگیز، ناپسندیدہ زبان استعمال کرنے کے الزامات پر علی وزیر اور متعدد پی ٹی ایم رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے متعلقہ ایس ایچ او کے ذریعے ریاست کی مدعیت میں ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ علاوہ ازیں سندھ پولیس کی درخواست پر پشاور میں رکن اسمبلی کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں سخت سیکیورٹی میں کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 20 دسمبر 2020 کو علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر 3 رہنماؤں کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
3 نومبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کے دوران عدالت نے استغاثہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو گزشتہ برس 6 دسمبر کو مقدمے میں نامزد ملزمان سمیت پی ٹی ایم کے 1800 سے 2000 کارکنوں کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ سہراب گوٹھ میں الآصف اسکوائر کے عقب میں واقع میدان میں متعلقہ محکمے سے اجازت کے بغیر ریلی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ جس کے بعد ملزمان اور مفرور افراد نے ریلی سے خطاب کیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ تقریریں ریکارڈ کرکے ان کا ترجمہ کیا گیا، جس میں انکشاف ہوا کہ وہ نفرت انگیز تقریریں مسلح فورسز، سول فورسز، پاکستان کے اداروں، ریاست پاکستان اور ایک کمیونٹی کے خلاف تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان تقریروں کا مقصد ‘سازش کرنا، مختلف گروپس کےدرمیان نفرت اور امیتاز بڑھانا اور ان گروپس اور پاکستان کی برادریوں کے درمیان نسلی فسادات کروانا اور پاکستان کے خلاف جنگ شروع کرنا تھا’۔ عدالت نے ملزمان پر تعزیرات پاکستان کی سیکشنز مجرمانہ سازش کی سزا کی سیکشن 120 بی، پاکستان کے خلاف جنگ کی اور سازش کی کوشش کرنے اور کشیدگی پھیلانے اور اکسانے کے الزامات پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 7 کے تحت فرد جرم عائد کر دی تھی۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

Back to top button