عمران کا مستقبل ایک بار پھر فوج کے ہاتھ میں کیوں ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار کار نجم سیٹھی نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اہم ترین فیصلہ سازوں نے عمران خان کو بالاخر گھر بھجوانے کے لیے ذہن بنا لیا ہے لہذا پی ٹی آئی حکومت سال 2022 میں اقتدار سے باہر ہو جائے گی۔ چینل ٹونٹی فور پر سیاسی صورتحال بارے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ عمران خان نے جانا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کے اقتدار میں رہنے سے انکی بڑی سبکی ہو رہی ہے کیونکہ عمومی تاثر یہی ہے کہ چونکہ فوج پچھلے دروازے سے عمران خان کو اقتدار میں لے کر آئی تھی لہذا ملک کی معاشی تباہی اور ہوشربا مہنگائی کی ذمہ داری اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اسٹیبشلمنٹ کی ٹاپ لیڈر شپ اب سیاسی تبدیلی کا راستہ نہ روکنے کا فیصلہ کر چکی ہے لیکن ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس بارے میں کیا سوچ رہے ہیں کیونکہ ان کی سوچ بڑی اہم ہے، وجہ یہ ہے کہ ان کے بغیر ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی کا آنا لازم ہو چکا ہے اور نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت کے اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد کون سی حکومت آئے گی اور کتنا عرصہ اقتدار میں رہے گی، ان باتوں پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پیشگوئی میں کر دیتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت سال 2022 اقتدار میں پورا نہیں کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے کہا کہ پہلے یہ باتیں ضرور کی جاتی تھیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے اس لئے عمران خان ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ ان کی کارکردگی سے کسی کو خوش نہیں ہے۔ لیکن اب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے آپشنز اوپن کر دی ہیں۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ستمبر 2021 میں وزیراعظم عمران خان نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر فوجی قیادت کے ساتھ جو پنگا ڈالا تھا اس کے نتیجے میں اب ہائبرڈ نظام حکومت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ گیند اب اسٹیبلشمنٹ کی کورٹ میں ہے۔ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر عمران خان کو اپنا کندھا فراہم کر دیتی ہے جب کہ ان کے خلاف عوامی جذبات اپنے عروج پر ہیں تو یہ خود شدید تنقید کی زد میں آجائے گی۔ ایسا کرنے سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اپنی صفوں میں بے چینی کی لہر دوڑ جائے گی۔ لیخن اگر ایسا نہیں ہوتا تو عمران خان کی حکومت مفلوج ہو جائے گی۔ اسے چلتا کرنے کے امکانات واضح ہونے لگیں گے۔ ایسے منظر نامے میں عمران خان کی طرف سے بھی ردعمل آسکتا ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ قیادت کی جگہ کسی ایسے شخص کو لانے کی کوشش کرسکتے ہیں جو انہیں سہارا دیے رکھے۔ لیکن اس پیش رفت کے خلاف غیر متوقع ادارہ جاتی ردعمل آسکتا ہے اور اس کے شدید نتائج نکل سکتے ہیں۔ لہذا عین ممکن ہے کہ نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے کپتان خود ہی گھر چلے جانے کا فیصلہ کر لیں۔

Back to top button