منی بجٹ سے عام آدمی کی چیخوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟


عوام سے مہنگائی ختم کرنے اور انہیں کروڑوں نوکریاں اور لاکھوں گھر فراہم کرنے کے وعدے کر کے برسرِ اقتدار آنے والے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے وعدون کے برعکس ایک منی بجٹ کے ذریعے عام آدمی پر دو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا دیے ہیں اور 343 ارب روپے کے دیگر ٹیکسوں کی چھوٹ واپس لے لی ہے۔ یعنی منی بجٹ کے ذریعے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام پر 345 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ منی بجٹ پر اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے بھاڑے پر بھرتی کیے گئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ خوامخواہ مہنگائی کا واویلا نہ مچایا جائے کیونکہ چند ارب روپے کے نئے ٹیکسوں سے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے مارے عوام کی چیخیں اب آسمانوں تک جا رہی ہیں۔
قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے پر اپوزیشن کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا اور بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’ساری قوم شرمسار ہے کہ اسمبلی میں کیا ہو رہا ہے۔ آپ قوم کو معاشی غلام بنا رہے ہیں۔ آج عوام کی زبان بند کرکے پاکستان کی معاشی خودمختاری بیچی جا رہی ہے۔‘ جے یو آئی کے رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ’آپ ملک کی معاشی خود مختاری داؤ پر لگا رہے ہیں۔ آپ نے قومی اسمبلی کو بے توقیر کیا ہے۔‘ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے سربراہان، بلاول بھٹو اور شہباز شریف موجود نہیں تھے۔
منی بجٹ 2021 کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیکس اصلاحات آئی ایم ایف کے چھٹے ریویو مشن کے تحت ناگزیر تھیں۔ منی بجٹ میں روزمرہ استعمال کے 42 آئٹمز پر ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کی گئی ہے جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں نکلے گا او اس کا بوجھ عوام پر آئے گا۔ مقامی سطح پر فروخت ہونے والی اشیا، بیکری آئٹمز، ڈبل روٹی اور سویٹس، فلائٹس میں استعمال ہونے والی خوردنی اشیا، پولٹری کی برانڈڈ مصنوعات، مقامی سطح پر پیدا ہونے والے سرسوں اور تل کے بیجوں، سپرنکلز، ڈرپ اور سپرے پمپس پر ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔ برانڈڈ پیکنگ میں فروخت ہونے والے ڈیری آئٹمز پر 10 فیصد، سونے چاندی کے زیورات پر ایک سے 17 فیصد، مختلف قسم کے پلانٹس اور مشینری پر پانچ سے 10 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔
ماچس پر 17 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے جبکہ ساشے میں فروخت ہونے والی اشیا کا ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ پوسٹ کے ذریعے پیکٹ بھیجنے پر 17 فیصد، زرعی بیجوں، پودوں، آلات اور کیمیکل پر 5 سے 17 فیصد، ادویات کے خام مال پر 17 فیصد، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد اور پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ڈیری مصنوعات اور الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد، پراسس کیے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر 10 سے بڑھا کر17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ برانڈڈ مرغی کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔اسی طرح 200 سے 500 ڈالر کی قیمت کے درآمد شدہ موبائل فونز پر 17 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
بچوں کے دودھ پر صفر سے 17 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس پر بھی پانچ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ غیر ملکی ٹی وی سیریلز پر 10 لاکھ روپے فی قسط، ڈرامے پر 30 لاکھ روپے جبکہ اشتہارات میں غیرملکی اداکاروں کو دکھانے پر پانچ لاکھ روپے فی سیکنڈ ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ 1000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں بھی 17 فیصد اضافے جبکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس بھی دگنا کرنے کی تجویز ہے۔
کپتان حکومت کے منی بجٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف سروسز جیسا کہ ہیلتھ کلبز، جمز اور فٹنس سینٹرز، شادی ہالز اور آٹو ورکشاپس پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ منی بجٹ میں متعدد اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی صورت میں لگ بھگ 150 اشیا مہنگی ہو جائیں گی۔ منی بجٹ کے حوالے سے معاشی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’یہ کسی بھی صورت عوام دوست نہیں ہے۔ اس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا۔ آئی ایم ایف گذشتہ 10 برسوں سے پاکستان کی حکومتوں سے ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن ماضی کی حکومتیں اس کے لیے دوسرے راستے نکالتی تھیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس حکومت نے تین برس میں اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا، ٹیکس کے حوالے سے یہاں کوئی گروتھ نہیں ہوئی۔ بلکہ انہوں نے ٹیکس اصلاحات کے لیے خود جو کوششیں شروع کی تھیں، انہیں بھی ختم کردیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے تین برسوں میں امیر طبقے کو جو سبسڈیز دی ہیں، اب ان کی قیمت غریب عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کی طرف جاتی ہے لیکن اس حکومت نے نئے ایریاز تلاش نہیں کیے۔ انہوں نے ضروری اشیا پر ٹیکس لگا دیا ہے جس کا براہ راست اثر مہنگائی کے مارے عوام پر ہی پڑے گا۔ لہذا کپتان حکومت کے پیش کردہ منی بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دینا غلط نہ ہو گا۔

Back to top button