عمران کی 30 سالہ بیٹی ٹیری انکے گلے پڑنے والی ہے؟

فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیسز میں نااہلی کے خطرے سے دوچار سابق وزیراعظم عمران خان اب اپنی بیٹی ٹیری وائٹ کو اپنے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر بھی نااہلی کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف ایک شہری کی جانب سے دائر کردہ کیس کو 20 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ عمران نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں، انہوں نے اپنے بچوں کی تفصیل میں دو بیٹوں کا ذکر کیا لیکن بیٹی ٹیریان وائٹ کی معلومات چھپائیں جو انکی زیر کفالت ہیں اور جس کی گارڈین انکی سابقہ بیوی جمائما خان ہیں۔ یاد رہے کہ ٹیری کی پیدائش 1992 میں ہوئی تھی اور اب وہ 30 برس کی ہوچکی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کی نااہلی کے کیس کو 20 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے جس کی کاز لسٹ جاری کردی گئی ہے۔ عدالت نے عمران خان، الیکشن کمیشن اور وفاق کو پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر رکھا ہے۔
درخواست گزار محمد ساجد کے مطابق چونکہ عمران نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ کے بطن سے پیدا ہونے والی بیٹی ٹیری کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا انہیں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ہم نے عمران کی جانب سے 2004 میں لاہور سے امریکی عدالت کو بھجوایا گیا تصدیق شدہ حلف نامہ امریکہ سے منگوایا ہے، جسکی امریکی سفارت خانے سے بھی تصدیق کروائی گئی ہے، اب عمران کو یا تو اپنی ناجائز بیٹی ٹیری وائٹ کو تسلیم کرنا ہوگا یا پھر اس کی سرپرستی سے انکار کرنا ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ عمران نے اب تک الیکشن کمیشن میں جتنے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ان میں کسی میں بھی ٹیری وائٹ کا ذکر نہیں ہے، چنانچہ اپنی بیٹی کو چھپانے اور کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر ان کو نااہل کیا جانا چاہئے۔
عمران کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والے ساجد سے پوچھا گیا کہ ماضی میں جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی عمران کے خلاف یہی کیس دائر کیا تھا لیکن اس کا بنا کچھ نہیں۔ اس پر ساجد نے بتایا کہ ان کے پاس وہ دستاویزی ثبوت نہیں تھے جو میرے پاس ہیں۔ ہمارے پاس موجود تصدیقی شواہد سے ملزم کا جرم صاف ظاہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پارلیمنٹرین اپنی اولاد چھپاتا ہے تو اسکی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی بنتی ہے جوکہ تاحیات نااہلی بھی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف ٹیری وائٹ کیس کی بنیاد پر نا اہلی کی پٹیشن سب سے پہلے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے دائر کی تھی جو کہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ ٹیریان اس وقت عمران کے دونوں بیٹوں کے ہمراہ جمائما کے زیر پرورش ہیں۔ ٹیریان عمران کی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ کی اولاد ہیں جن کے انتقال کے بعد عمران کی خواہش پر جمائما نے اسےگود لے لیا تھا۔ٹیریان وائٹ کے بارے میں سیتا وائٹ کا دعویٰ تھا کو وہ عمران کی اولاد ہے لیکن خان نے ہمیشہ اس سے انکار کیا۔ ماضی میں پاکستانی اخبارات نے اس بارے میں برطانوی اخبار مرر اور امریکی اخبار دی نیو یارک پوسٹ کی رپورٹیں چلائی تھیں جن کے مطابق سیتا وائٹ عمران کی گرل فرینڈ تھیں اور دونوں کی شادی کے بغیر محبت کے نتیجے میں ٹیریان پیدا ہوئی۔ سیتا کی موت کیلیفورنیا میں سانتا مونیکا کی یوگا کلاس کے دوران ہوئی جو بیورلے ہلز میں ان کے شاندار مکان کے قریب میں واقع ہے۔ ان کی موت سے صرف چند ہفتے پہلے ہی انہیں آٹھ سال کی قانونی لڑائی کے بعد اپنے مرحوم باپ کی جائیداد سے ایک تصفیہ کے ذریعے تین ملین ڈالر کی رقم ملی تھی۔
سیتاوائٹ ایک یوگا اسٹوڈیو میں قدیم ورزشوں اور روحانی مشقوں کی تعلیم دیا کرتی تھیں۔ ٹیریان عمران سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ سیتا وائٹ نے ٹیریان کو عمران کی اولاد ثابت کرنے کے لیے لاس اینجلس کی ایک عدالت میں دعوی ٰدائر کیا تھا جس کا فیصلہ 1997 میں آ گیا تھا اور امریکی جج نے عمران کو لڑکی کا باپ قرار دیا تھا۔امریکی عدالت کے فیصلے اور ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق عمران خان ہی ٹیریان کے اصل والد ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی مرر کی سال 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران نے ٹیریان وائٹ کو اس لئے اپنی بیٹی تسلیم نہیں کیا کیونکہ پاکستان ایک قدامت پسند ملک ہے جہاں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کو نہ تو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی خاندان میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ ٹیریان وائٹ دراصل عمران کی جمائما سے شادی سے تین سال قبل پیدا ہوئی اور اب تک جمائما کے زیر کفالت ہے۔ اسکی والدہ سیتا وائٹ کی وفات کے بعد جمائمہ گولڈ سمتھ نے ٹیریان وائٹ کو گود لے لیا تھا۔
ٹیریان کی والدہ سیتا وائٹ نے اپنی زندگی میں بیٹی کی پیدائش کے بعد ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح عمران خان اس کی بیٹی کو اپنا لیں تاہم عمران خان کے ٹیرن کو بیٹی ماننے سے انکار پر سیتا وائٹ نے اس حوالے سے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیااور 7 سال بعد 2004 میں امریکی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو ٹیریان کا باپ قرار دے دیا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ آنے کے کچھ ہی دنوں بعد سیتا کی موت واقع ہو گئی۔ ٹیریان لندن میں جمائما کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ ڈیلی مرر کے مطابق عمران کی سابقہ اہلیہ جمائما اور ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کے ساتھ ٹیرن ایک فیملی کی طرح خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے اور انہوں نے انسٹا گرام پر اپنا ایک گروپ فوٹو بھی حال ہی میں شیئر کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ عمران تو آج بھی ٹیریان کو اپنی بیٹی تسلیم نہیں کرتے تاہم جمائما کھلے عام اسے اپنی سوتیلی بیٹی کہتی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس کیس میں عمران خان کے مستقبل کا کیا فیصلہ کرتی ہے۔
