عوام عمران خان سے انتقام لینے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں؟


معروف صحافی اور تجزیہ کا نصرت جاوید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں شکست فاش کے بعد عوام دشمن منی بجٹ لانے کا منصوبہ ترک کر دینا چاہیے ورنہ اگلے الیکشن میں ان کی جماعت کا حشر اس سے بھی برا ہوگا.
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے وزراء سمیت کئی سرکردہ رہ نما کھلے دل سے اعتراف کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخاب میں ان کی جماعت کو مہنگائی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرناپڑا۔ لیکن عمران ان کے تجزیے سے اتفاق نہیں کر رہے۔ ان کے خیال میں تحریک انصاف کی شکست کا بنیادی سبب غلط امیدواروں کا چناؤ تھا۔ اس تناظر میں مزید تحقیق کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو بالآخر اپنے لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہو گی۔ بقول نصرت، عمران حکومت مہنگائی کی حقیقت تسلیم کرلے تو اسے قومی اسمبلی کے جلاس میں منی بجٹ پیش کرنے سے اجتناب برتنا ہو گا۔ اس بجٹ کے ذر یعے ساڑھے تین سو ارب کے اضافی ٹیکس لاگو کرنا ہیں۔ بازار میں میسر ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء کے سیلز ٹیکس میں بھی اضافہ کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کے نرخ بھی ہیں جنہیں آئی ایم ایف کی ہدایت کے مطابق معقول بنانا ہے۔
نصرت کہتے ہیں کہ سرکار کی چاکری کرتے ماہرین معیشت جب ”معقول’‘ نرخوں کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ بجلی کا فی یونٹ پیدا کرنے اور اسے میرے اور آپ کے گھروں تک پہنچنے کے لئے کتنی رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کے بعد کاروبار کا یہ بنیادی اصول یاد دلایا جاتا ہے کہ صارفین کے استعمال کی جو شے تیار ہو اسے بیچتے ہوئے منافع نہ سہی کم ازکم لاگت تو وصول ہو۔ بجلی کے ضمن میں گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہورہا۔ حکومت شہری آبادی کو مطمئن رکھنے کے لئے بازار سے مہنگے داموں بجلی خرید کر اسے صارفین کو نسبتاً سستے داموں فراہم کرتی ہے۔ لاگت اور قیمت میں جو فرق ہے وہ حکومت کو پلے سے پورا کرنا ہوتا ہے اور ہمارا قومی خزانہ بقول مشیر خزانہ شوکت ترین اب خالی ہو چکا ہے۔ سرکار کے پاس لوگوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کی سکت ہی باقی نہیں رہی۔ بجلی پیدا کرنے والوں کو بروقت ادائیگیاں نہیں ہوپارہیں۔ گردشی قرضے پہاڑ کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ لہذا مہنگائی سے فرار ممکن نہیں۔ دوسری جانب حکومت مہنگائی کے وجود ہی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم بارہا اصرار کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے اسی لایعنی موقف کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے وزراء دیہاتوں میں خوش حالی کو موٹرسائیکلوں کی ریکارڈ سیل کا ڈھول بجاتے ہوئے اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ خوشحالی کے باعث ہوٹلوں میں جگہ نہ ملنے کا دعوی بھی مسلسل ہو رہا ہے۔ خوش حالی ثابت کرتے اعداد و شمار ہی شاید کپتان حکومت کو یہ حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ عوام پر ساڑھے تین سو ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگا دے۔
دوسری جانب بقول نصرت، اہنے کپتان کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کو مہنگائی کی سونامی میں ڈبونے والے مشیر خزانہ شوکت ترین کو ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں مردان کا رہائشی ڈکلیئر کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی سے سینٹ کا رکن بنوا دیا گیا یے۔ اب ان کے پیش کردہ منی بجٹ پر حکومتی اراکین بلاچوں چرا انگوٹھے بھی لگادیں گے لیکن اس کا خمیازہ حکومت کو اگلے الیکشن میں بھگتنا پڑے گا۔ نصرت کے بقول پاکستانی عوام اپنے منتخب نمائندوں سے امید لگانا چھوڑ چکے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن کے لوگ ہوں یا حکومت کے، ان کا مفاد ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔ مہنگائی ان کی زندگی کا مسئلہ ہرگز نہیں ہے۔
لہذا ہمارے عوام کے پاس اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے فقط ووٹ کی ایک پرچی ہے۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخاب کے دوران عوام کی اکثریت نے اپنے غصے کے اظہار کے لئے اس کا بھرپور استعمال کیا اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو۔مسترد کر دیا۔ دوسری جانب کپتان حکومت کی مذمت کرنے والے مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلمائے اسلام عوام کی مقبول ترین ترجیح بنتی نظر آئی۔ اس مقبولیت کی بابت ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ کوئی پسند کرے یا نہیں جولائی 2018 کے انتخاب ختم ہونے کے پہلے دن سے مولانا انتہائی ثابت قدمی سے عمران خان کی قیادت میں بنائے بندوبست کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے نیک نیتی سے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی کو ان سے رشتہ بناتے ہوئے اپنا لبرل تشخص یاد آ جاتا ہے۔ مسلم لیگ (نون) پر حاوی سنجیدہ اور تجربہ کار سیاست دانوں کا گروہ مولانا کے جوش خطابت سے گھبرا جاتا ہے ۔ مولانا مگر بددل نہیں ہوئے۔ گزشتہ تین برسوں سے مسلسل پاکستان کے تقریباً ہر شہر اور قصبے میں جاکر کسی نہ کسی نوع کے سیاسی عمل کو متحرک رکھتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخاب کے دوران ووٹ کی پرچی استعمال کرتے ہوئے عوام کی اکثریت نے ان کی ثابت قدمی اور استقلال کو سراہا ہے۔
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اس سب کے باوجود یہ فرض کرلینا بھی خام خیالی ہوگی کہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخاب عمران خان کی قیادت میں بنے بندوبست کے خالقوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کو مائل کریں گے۔ اگست 2018 میں متعارف کروایا گیا یہ بندوبست ہماری ہر نوع کی اشرافیہ نے طویل سوچ بچار اور منظم منصوبہ بندی سے تیار کیا ہے۔ اس بندوبست کے اہم ترین شراکت داروں کا مسئلہ مہنگائی ہر گز نہیں ہے۔ وہ آئی ایم ایف کی ہدایات کو ہر صورت عمل پیرا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر عوام دشمن منی بجٹ کی منظوری کے دوران کسی حکومتی رکن یا اتحادی جماعت نے اڑی دکھانے کی کوشش کی تو فون کھڑکیں گے اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔ چنانچہ بقول نصرت جاوید، نئے سال کا آغاز ہوتے ہی مہنگائی کی ایک اور شدید ترین لہر آئے گی جو عام پاکستانیوں کو بلبلانے پر مجبور کرے گی۔ تاہم کپتان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ایسا ہوا تو عوام اپنے ووٹ کی پرچی سے اس ذیادتی کا انتقام ضرور لیں گے، چاہے اس کے لیے انہیں الیکشن 2030 تک انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے گا۔

Back to top button