ISI افسر کے زیر عتاب پولیس والے کو انصاف کون دے گا؟

آئی ایس آئی کے ایک افسر کو اسلام آباد کے مساج سینٹر سے گرفتار کرنے والے پولیس اہلکار ظہور احمد کے مشکل دن ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔ 31 دسمبر کے روز اسلام آباد کی عدالت نے ایک غیر ملکی ڈپلومیٹ کو خفیہ معلومات فروخت کرنے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیے جانے والے اس پولیس اہلکار کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی ایف آئی اے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اُسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ وفاقی ادارہ برائے تحقیقات کے انسدادِ دہشتگردی ونگ نے ظہور کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا اور مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تاہم ایڈیشنل سیشنز جج محمد سہیل نے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ چونکہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی کوئی قابلِ فہم وجہ فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اُسے 6 جنوری 2022 تک کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گرفتار پولیس اہلکار اے ایس آئی ظہور احمد کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کا اندراج 13 دسمبر کو کیا گیا تھا جبکہ 14 دسمبر کو ملزم کو پہلی بار ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے انسداد دہشت گردی وِنگ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گولڑہ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اے ایس آئی کو خفیہ دستاویزات یا معلومات ’غیر ملکی سفیر/ایجنٹ‘ کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بتایا جاتا ہے کہ ظہور احمد کا اصل قصور یہ ہے کہ اس نے اسلام آباد کے ایک مساج سینٹر پر چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے ایک افسر نوید خان کو اسکے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔ چنانچہ انتقام لینے کی خاطر نوید خان نے ظہور احمد کو ایک جھوٹے کیس میں گرفتار کروادیا۔
ایف آئی اے کی جانب سے ظہور کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ باوثوق ذریعے نے بتایا تھا کہ اے ایس آئی گولڑہ ظہور احمد ایک غیر ملکی سفیر/ ایجنٹ سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایف آئی آر میں اس شخص کی سفید ٹویوٹا کرولا کا رجسٹریشن نمبر بھی درج ہے اور ساتھ لکھا گیا ہے کہ اے ایس آئی کی ملاقات کا مقصد خفیہ معلومات یا دستاویزات فراہم کرنا تھا جو کہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے ایس آئی نے غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ سے میٹرو بس سٹیشن کے پاس جناح ایونیو پر ملنا تھا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی بنا پر ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو وہاں پہنچی۔ وہاں موجود ذریعے نے تصدیق کی کہ ٹویوٹا کرولا میں جس کے شیشے کالے تھے، اے ایس آئی کو کہیں لے جایا گیا ہے، تاہم ایف آئی اے کی ٹیم کو تجویز دی گئی کہ وہ وہیں انتظار کریں۔ ایف آئی آر کے مطابق کچھ دیر بعد وہی ٹویوٹا کرولا اے ایس آئی کو واپس اسی مقام پر اتار کر چلی گئی جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے انھیں گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ اے ایس آئی کے پاس دو فون تھے اور اُن کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا لیکن وہ غیر ملکی سفیر کے ساتھ ملاقات کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکے۔ ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے موقع پر ہی انکشاف کیا کہ وہ غیر ملکی سفیر/ ایجنٹ کو خفیہ معلومات یا دستاویزات فراہم کرنے کے بدلے پیسے لے رہے ہیں۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ بادی النظر میں اے ایس آئی کا یہ اقدام 1923 کے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور انسداد کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
تاہم اے ایس آئی ظہوراحمد کے خاندانی ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ایف آئی آر جھوٹ کا پلندہ یے اور یہ کیس آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نوید خان کے دباؤ پر کیا گیا جسے ظہور احمد اور انکی ٹیم نے کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کے ایک مساج سنٹر سے اسکے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔
ظہور احمد نے اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد ثانیہ حمید کے ہمراہ عوامی شکایت پر سیکٹر ای-الیون تھری میں جن مساج سنٹرز پر چھاپے مارے تھے ان میں سن شائن اور روز ایگزیکٹو نامی مساج سینٹر شامل تھے۔ یاد رہے کہ تھانہ گولڑہ اسلام آباد کا اسسٹنٹ سب انسپکٹر ظہور احمد نومبر کے مہینے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا ہو گیا تھا جسے کچھ روز بعد چھوڑ دیا گیا۔ لیکن چند روز پہلے اسکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ہاتھوں باقاعدہ گرفتاری کے بعد الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ایک غیر ملکی سفیر کو پاکستان کے اہم قومی رازوں ہر مبنی حساس معلومات بیچی ہیں۔ تاہم وائس آف امریکہ کے مطابق اے ایس آئی ظہور احمد کے خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نے گرفتاری سے پہلے انکشاف کیا تھا کہ اس نے اسلام آباد کے ایک مساج سنٹر پر چھاپہ مارا تھا جس کے بعد سے اسے ہراساں کیا جارہا تھا اور اس کا اغوا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ظہور احمد کو ایک خفیہ ایجنسی نے اغوا کر کے اپنی تحویل میں رکھا تھا۔ شاید اسی لیے اسلام آباد پولیس باضابطہ طور پر اس افسر کے حوالے سے کوئی بیان دینے سے گریزاں تھے۔
اس معاملے پر ظہور کے قریبی ذرائع کے بعد اب سوشل میڈیا پر موجود لوگ بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اسے ایک مساج سینٹر پر چھاپے کے بعد اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس کے کرتا دھرتا افراد کا بااثر شخصیات سے تعلق ہے۔ خیال رہے کہ ظہور احمد کے بارے میں گزشتہ ماہ 28 نومبر کو یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ غائب ہو گیا یے۔ اس کے اہل خانہ نے اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دیہ تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ظہور پراسرسر طور پر لاپتا ہے اور اسکے بارے میں اہل خانہ کو علم نہیں ہے جس پر ان کے بھائی نے تھانہ گولڑہ میں مقدمے کے اندراج کی درخواست دی تھی۔ البتہ اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج ہوا۔ بعد ازاں 29 نومبر کو ظہور احمد کی ایک آڈیو سامنے آئی۔ یہ آڈیو ظہور کی طرف سے اپنی اہلیہ کے واٹس ایپ پر بھیجی گئی تھی جس میں اسے یہ کہنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ وہ دوستوں کے ساتھ مری میں ہے اور سگنل نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں کر سکتا۔ یہ وائس میسج اس لیے مشکوک تھا کہ اگر کہیں پر سگنل نہیں تو پھر وائس میسج بھی نہیں آنا چاہیے تھا۔ تاہم بعد ازاں 30 نومبر کو ظہور واپس اپنے گھر پہنچ گیا۔ وہ زخمی حالت میں تھا اور اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔ البتہ اس معاملے پر بھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا بلکہ ایک بیان ریکارڈ کیا گیا جس میں ظہور احمد نے کہا کہ وہ دوستوں کے ساتھ مری سیر کرنے گیا تھا۔ ظہور کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے مری انہی لوگوں نے ہی پہنچایا تھا جو اکثر سر پھرے صحافیوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کروانے کے لیے اغوا کر لیتے ہیں۔
وائس آف امریکہ کے مطابق پولیس افسر ظہور کے غائب ہونے کے پیچھے ایک ایف آئی آر ہے جو اسکے غائب ہونے سے دو دن قبل تھانہ گولڑہ میں درج کی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد ثانیہ حمید کے ہمراہ پولیس نے عوامی شکایت پر سیکٹر ای-الیون تھری میں مختلف مساج سینٹرز کو چیک کیا جبکہ سن شائن نامی مساج سینٹر سے چھ مرد اور چار خواتین کو فحش حرکات کرنے کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح روز ایگزیکٹو مساج سینٹر سے بھی چھ خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان مساج سینٹرز کے مالکان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں گرفتار ایک شخص کے حوالے سے کہا جا رہا یے کہ وہ حساس ادارے کا اہلکار تھا اور اپنا تعارف کروا کر اس نے خود کو چھوڑنے کا بھی کہا۔ تاہم پولیس نے انکار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ بعد ازاں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی تھیں۔ وائس آف امریکہ کے مطابق یہ چھاپہ ہی ظہور احمد کے غائب ہونے کی وجہ بنا کیونکہ اپنی واپسی کے بعد اسے بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا اور پھر لمبی چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ اہم ملکی راز خریدنے والا سفیر کون تھا اور اسکا تعلق کس ملک سے تھا؟ یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا اس سفارتکار کو شامل تفتیش کیا گیا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب ظہور احمد کے وکیل جواد عادل کا کہنا یے کہ ان کے مؤکل پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج کردہ کیس جھوٹا، بوگس اور بدنیتی پر مبنی ہے اور عدالت میں یہ سب ثابت ہو جائے گا۔
