امریکی ایف بی آئی کو اسلام آباد میں کس کی تلاش ہے؟

اپنے شوہر کے ساتھ جائیداد کے لین دین کا تنازعہ حل کرنے کی خاطر اسلام آباد پہنچنے والی پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی 16 اکتوبر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لئے امریکی سفارت خانے پہنچنے والی ایف بی آئی ٹیم پاکستانی پولیس سے مل کر مغویہ کو بازیاب کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے بھی اسلام آباد پولیس کو 10 دسمبر تک وجیہہ کو بازیاب کروانے کی مہلت دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق امریکی سفارتخانہ چاہتا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ وجیہہ زندہ بھی ہیں یا قتل ہو چکی ہیں۔
یاد رہے کہ 46 سالہ وجیہہ سواتی کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ پچھلے کئی برسوں سے امریکہ میں رہائش پذیر تھیں اور دوسرے شوہر کے ساتھ جائیداد کے لین دین کا معاملہ حل کرنے کی خاطر فقط چار روز کے لیے پاکستان آئی تھیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں، 22 سالہ بڑا بیٹا اس وقت امریکہ میں ہے جبکہ دو بیٹے جن کی عمریں بالترتیب 15 اور 10 برس ہیں، عارضی طور پر اپنی خالہ کے گھر برطانیہ میں مقیم ہیں۔
پر اسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والی امریکی شہری وجیہہ کی وکیل شبنم اعوان کا کہنا ہے کہ مغویہ تقریباً ہر سال پاکستان آتی تھیں، ان کے پہلے شوہر ماہر امراض دل تھے جنہیں پاکستان میں سال 2014 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ شبنم نے بتایا کہ وجیہہ اپنے شوہر کا آلات جراحی کا کاروبار سنبھالتی ہیں اور پراپرٹی سیکٹر میں بھی انویسٹ مینٹ کرتی رہتی تھیں۔ شبنم اعوان کے مطابق وجیہہ کی اپنے دوسرے شوہر رضوان سے پہلی ملاقات یو اے ای میں ایک بروکر کی حیثیت سے ہوئی۔ وجیہہ کے بہنوئی مقصود کے مطابق رضوان نے طلاق کے بعد وجیہہ کے پیسوں سے خریدا گیا ایک گھر انکے نام کرنا تھا لیکن اب وہ ٹال مٹول کر رہا تھا۔ اسی لئے وجیہ پاکستان بھی آئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں وجیہہ نے بتایا کہ رضوان نے اس کے پیسوں سے خریدی گئی گاڑیاں بھی اپنے نام کروا لی ہیں اور وہ بھی اس سے واپس حاصل کرنی ہیں. رضوان نے ستمبر 2020 میں وجیہہ کو زہریلی دوا دے کر مارنے کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔
اہلِ خانہ کی جانب سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق مغویہ کی اپنے دوسرے شوہر رضوان سے طلاق ہو چکی تھی، تاہم رضوان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی ان کی بیوی ہیں۔ ڈیڑھ مہینے کی تفتیش کے بعد پولیس نے وجیہہ کی گمشدگی بارے عدالت میں ہونے والی نویں سماعت پر بتایا ہے کہ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور وجیہہ سواتی کے ’سابق‘ شوہر یعنی مرکزی ملزم رضوان حبیب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ اب جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم کی گرفتاری کو زیر التوا رکھا گیا تھا کیونکہ اس کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کا عمل جاری تھا۔ یاد رہے کہ وجیہہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر 2 نومبر 2921 کو کاٹی گئی۔ یہ ایف آئی آر ان کی پہلی شادی سے ہونے والے 22 سالہ بیٹے عبداللہ نے کٹوائی جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ درخواست میں انہوں نے اپنے سوتیلے والد رضوان حبیب پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ان کی والدہ کو اغوا کیا ہے۔
وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بینچ کے جسٹس شاہد محمود عباسی کی عدالت میں رٹ پٹیشن کی سماعت ہوئی تو عدالت نے پولیس کی سرزنش کی اور اسے 30 دسمبر تک گم شدہ خاتون کو برآمد کرنے کی مہلت دی۔ ایف آئی آر کے مطابق عبداللہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ 16 اکتوبر کو پاکستان آئی تھیں۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ 15 سالہ بھانجا ایان بھی تھا۔ عبداللہ کے مطابق 22 اکتوبر کی رات کو ان کی والدہ کی پاکستان سے برطانیہ واپسی کی فلائٹ تھی، میرا کزن ایان تو واپس برطانیہ پہنچ گیا لیکن میری والدہ نہیں آئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کے پاس ہی ان کے کزن کا پاسپورٹ تھا اور ان کی والدہ کے اغوا کے بعد ان کے کزن کو نئے سفری دستاویزات بنوانے پڑے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ انھیں اور ان کے بھائی کو چھوڑ کر کچھ روز کے لیے پاکستان گئی تھیں جس کی وجہ اپنے سابقہ شوہر رضوان کے ساتھ جائیداد اور دیگر تنازعات کو حل کرنا تھا۔
