ہم ٹی وی پر بیٹھنے سے کسے تکلیف ہوئی؟


چند روز پہلے ہم ٹی وی کے پروگرام میں شریک ہونے کی وجہ سے محمد مالک کا چلتا شو اچانک بند کر دینے پر اب سینئر صحافی حامد میر نے ایک شعر کی صورت میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
یاد رہے کہ ہم نیوز چینل کے اینکر محمد مالک کو جیو ٹی وی سے آف ائیر کر دیے جانے والے حامد میر کو اپنے شو میں بطور مہمان بلانے کا خیمازہ یوں بھگتنا پڑا تھا کہ ان کا پروگرام صرف 15 منٹ بعد ہی آف ایئر کر دیا گیا تھا۔ اس ایشو پر سینئر صحافی اسد طور نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ محمد مالک کا شو اسلام آباد کے ایک طاقتوار ادارے کے سینئر افسر کی فون کال پر بند کیا گیا اور وجہ حامد میر کی اس پروگرام میں موجودگی تھی۔ اب اس معاملے پر حامد میر کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ حامد میر نے شعر کی صورت میں تبصرہ کرنے کے علاوہ چند ٹویٹس بھی کی ہیں۔ ایک ٹویٹ میں حامد میر کہتے ہیں کہ کل والی فون کال کا پتہ چل گیا ہے، موصوف بھائی بھائی کرتے ہوئے پیچھے سے وار کرتے ہیں۔ اپنی ایک اور ٹویٹ میں حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں عقاب کو صرف تندی باد مخالف کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ گولیوں اور بموں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر آپ ان سے بچ نکلو تو غداری کے الزامات کے ساتھ قتل اور اغوا کے جھوٹے کیسز بھی بنا دیے جاتے ہیں، اگر آپ ان سے بھی بچ نکلو تو توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اپنی ایک اور ٹویٹ میں حامد میر نے کہا کہ ہمیں گالیاں دلوانے کے لیے طاقتوروں کو ایسے لوگ استعمال کرنا پڑتے ہیں جو دشمن ملک میں جا کر پیسوں کی خاطر اپنا سب کچھ اتار دینے کے لیے مشہور ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز پہلے ہم ٹی وی کے پروگرام اینکر محمد مالک نے اپنے شو میں حامد میر کو خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں صحافتی تبصرہ کرنے کیلئے بلایا تھا۔ ہم نیوز پر یہ شو تقریبا 15 منٹ ہی چلا تھا کہ اسے اچانک آف ایئر کر دیا گیا۔ مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے محمد مالک کا پروگرام آف ائیر کرنے کی شدید مذمت کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے دعووں کی قلعی کھل گئی۔ اب حامد میر نے خود بھی اس معاملے پر ردعمل دے دیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ میڈیا آزاد ہے جی۔ خیال رہے کہ مئی 2021 میں حامد میر نے پی ایف یو جے کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک احتجاجی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد علی طور پر ان کے فلیٹ میں گھس کر تشدد کرنے کی مذمت کی تھی اور اس واردات کو جنرل رانی کے ساتھیوں کی حرکت قرار دیا تھا۔
اس واقعے کے بعد جیو کی انتظامیہ نے حامد میر کو انکا 8 بجے کا پروگرام کیپٹل ٹاک کرنے سے روک دیا تھا حالانکہ حامد میر نے یہ تقریر جیو ٹی وی پر نہیں بلکہ اسلام آباد پریس کلب کے باہر کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی تقریر میں حامد میر نے نہ تو کسی فرد کا نام لیا تھا اور نہ ہی کسی ادارے کا لیکن چونکہ چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے اس لیے پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی نے جیو نیوز کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر انہیں پروگرام سے علیحدہ کروا دیا۔ حامد میر کے خلاف اس ایکشن کے بعد انہیں ملک بھر کے صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور حمایت ملی اور جیو نیوز کی انتظامیہ کے یکطرفہ فیصلے کی مذمت کی گئی۔ تاہم حامد میر کے ہم ٹی وی پر بیٹھنے پر محمد مالک کا شو بند کیے جانے سے اس الزام کی تصدیق ہو گئی کہ پاکستانی میڈیا مالکان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حامد میر جیو ٹی وی سے آف ائیر کیے جانے کے بعد اب معروف امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے لیے مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔

Back to top button