فروری میں سینٹ الیکشن اور شو آف ہینڈ غیر قانونی کیسے؟

آئینی و قانونی ماہرین نے سینیٹ انتخابات میں شو آف ہینڈ کے ذریعے ووٹنگ کروانے کی حکومتی تجویز کو آئین پاکستان کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے اس میں کئی قباحتوں کی نشاندہی کی ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے اپنے 15 دسمبر کے اجلاس میں سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کروانے کا فیصلہ بھی کیا تاکہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کو کاونٹر کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ 152 رکنی سینیٹ کے آدھے اراکین 11 مارچ 2021 کو سبکدوش ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات ہونا ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین نے سینیٹ انتخابات میں شو آف ہینڈ کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار کو آئین پاکستان کی روح کے مخالف قرار دیتے ہوئے اس میں کئی قباحتوں کی نشاندہی کی۔
آئینی ماہر اور سابق چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کہتے ہیں کہ ‘معلوم نہیں حکومت کو یہ سب کچھ کرنے کے بارے میں کون بتا رہا ہے کیونکہ ایسا نہیں کیا جا سکتا۔’ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد نے بھی اسی طرح کی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کے آئینی ماہرین نے غلط راستہ دکھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ‘خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعہ سینیٹ  انتخابات کروانے کا اب وقت نہیں رہا۔’ یاد رہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 226 کے مطابق: ‘آئین کے تحت ہونے والے تمام انتخابات، ماسوائے وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے انتخابات کے، خفیہ رائے دہی کے ذریعے منعقد ہوں گے۔’

دوسری طرف پاکستان میں انتخابات کروانے سے متعلق رائج قانون الیکشنز ایکٹ 2017 کی شق 6 میں بھی پارلیمان کے ایوان بالا کے چناؤ کے لیےخفیہ رائے شماری یعنی سیکریٹ بیلٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین بنانے والوں نے چھوٹے صوبوں اور چھوٹی جماعتوں کو ایوان بالا میں نمائندگی دینے کے لیے سینیٹ کے انتخابات کا مخصوص طریقہ متعارف کروایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے کسی طریقے سے چھوٹی جماعتوں اور صوبوں کو سینیٹ میں نمائندگی نہیں مل سکتی۔
اسی مخصوص طریقے کی وجہ سے محض تین چار صوبائی اراکین والی جماعت بھی سینیٹ میں پہنچ سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق سینٹ کی آدھی خالی نشستوں پر 11 مارچ تک ہر صورت الیکشن کروا کر کامیاب سینیٹروں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے تا کہ 12 مارچ کو نئے اراکین حلف اٹھا کر ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی جگہ پر کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن مارچ میں خالی ہونے والی 52 نشستوں کا انتخابی شیڈول 1 فروری سے پہلے جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی طرح کاغذات نامزدگی داخل کروانے سے حتمی فہرست کا اعلان ہونے تک کم از کم 11 دن کا وقفہ درکار یو گا ہے۔ اس لیے سینیٹ کا الیکشن 20 فروری سے پہلے تو کسی بھی صورت کروانا ممکن نہیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ شو آف ہینڈ کے ذریعے سینٹ کا الیکشن کروانا آئین کی نفی ہو گا کیونکہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت صرف وزیراعظم اور وزیراعلی کے انتخاب ہی اس طریقہ کار کے مطابق ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف وفاقی کابینہ نے شو آف ہینڈ کا طریقہ اپنانے کی بنیادی وجہ ماضی کی ہارس ٹریڈنگ قرار دی یے۔
یاد رہے کہ ماضی میں سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں حکومت نے صادق سنجرانی کو بچانے کے لیے سیکرٹ بیلٹ سے جو فائدہ حاصل کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔ اب سینٹ کے انتخابات میں حکومت کو یہ خوف ہے کہ سیکریٹ بیلٹ کے قانون کی وجہ سے اس کے اراکین ٹوٹ کر دوسری طرف ووٹ دے سکتے ہیں لہٰذا شو آف ہینڈ کا قانون متعارف کروانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے 15 دسمبر کو کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سینیٹ الیکشن میں وفاداریوں کی خریدوفروخت کے الزامات ہمیشہ لگتے رہے ہیں اور اسی لیے حکومت آئندہ سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ کے طریقے سے کروانے کی خواہش رکھتی ہے۔ لیکن میاں رضا ربانی کہتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں شفافیت کا سوال اپنی جگہ موجود ہے لیکن اسے بہانہ بنا کر چھوٹے صوبوں اور جماعتوں کی نمائندگی کے حق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 

یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے سینٹ میں شو آف ہینڈ کا قانون متعارف کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 186 کے تحت صدر مملکت کسی عوامی اہمیت کے مسئلے پر رائے حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ لیخن دوسری طرف میاں رضا ربانی کہتے ہیں کہ صدارتی ریفرنس کی صورت میں اعلیٰ عدلیہ جو بھی فیصلہ دے، رائے شماری کا طریقہ کار بدلنے کے لیے آئین میں ترامیم کرنا لازمی ہے جو کہ پارلیمنٹ کے علاوہ کسی دوسری جگہ ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی رائے یا فیصلے کے نتیجے میں آئین میں ترمیم نہیں ہوتی بلکہ ہر صورت میں آئین میں تبدیلی پارلیمان نے ہی کرنا ہوتی ہے۔’

دوسری جانب سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ صرف رہنمائی ہی کر سکتی ہے فیصلہ نہیں۔ اور اگر عدالت کہہ بھی دے کہ ترمیم کی جائے اور حزب اختلاف کی جماعتیں راضی نہ ہوں تو ترمیم ممکن نہیں ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، جب ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن بنچز کے درمیان تعلق نسبتا بہتر تھا۔ اس وقت تو ایسی کوئی ترمیم اتفاق رائے سے منظور کروانا بالکل بھی ممکن نہیں ہو گا۔’

اس معاملے ہر سندھ کے وزیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹنگ کا طریقہ کار ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سپریم کورٹ کے پاس لے جانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
میاں رضا ربانی کی بھی رائے تھی کہ یہ ایک سیاسی اور پارلیمانی مسئلہ ہے اور ایسے مسائل مناسب فورمز پر ہی زیر بحث آنے چاہییں۔ بقول رضا ربانی: ‘آج یہ سوال لے کر آپ سپریم کورٹ کے پاس جاتے ہیں تو کل عدالت ایسی ہی دوسری چیزوں پر از خود نوٹس لے سکتی ہے، یہ تو اپنی داڑھی خود دوسروں کے ہاتھ میں دینے کے مترادف ہے۔’

فروری میں سینیٹ انتخابات کروانے سے متعلق وفاقی کابینہ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ کابینہ کو یہ فیصلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات تو بہرحال فروری میں ہی ہوں گے اور اس کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرنا ہے نہ کہ وفاقی حکومت نے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ نئے اراکین سینٹ کا انتخاب فروری میں ہی ہونا بنتا ہے تاکہ 11 مارچ کو جب آدھے سینیٹرز سبکدوش ہو جائیں تو ان کے متبادل موجود ہوں اور حلف اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات کے عمل میں کم از کم ایک مہینہ درکار ہوتا ہے جس کا ذکر متعلقہ قوانین میں بھی موجود ہے۔ مرتضیٰ وہاب کا بھی یہی کہنا تھا کہ ‘سینیٹ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ اور اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہوتا ہے، پتہ نہیں کہ وفاقی حکومت ایسا فیصلہ کیوں کر رہی ہے۔’

دوسری طرف حزب اختلاف کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے سینیٹ الیکشنز میں ووٹنگ شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کے فیصلے کو ‘حکومت کی بوکھلاہٹ’ قرار دیا ہے۔  سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو خطرہ ہے کہ سینیٹ انتخابات میں اس کے اپنے اراکین بھی پھسل سکتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے باعث حکومت مخالف احساسات اور جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی جماعتیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔  جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن نے کہا کہ ‘ان حکومتی حرکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کی تحریک سے کتنا زیادہ  ڈر رہی ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تو اتنا وقت بھی نہیں کہ اس سلسلے میں آئینی ترامیم کی جا سکیں۔  بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ حکومت ان ہتھکنڈوں کے ذریعے صرف اپنے وقت میں اضافہ کرنا چاہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس حکومت کو صرف عام انتخابات کروانے کی بات کرنی چاہیے تاکہ پاکستانی قوم کی ان سے جان چھوٹ سکے۔’ دوسری جانب پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمد عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے اپنی حکمت عملی بنانی ہے اور ان کا واحد مقصد تحریک انصاف حکومت کا خاتمہ ہے۔  انہوں نے کہا کہ ‘وفاقی کابینہ کے ان فیصلوں نے کنفرم کر دیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوں گے، بلکہ اس سے پہلے ہی وفاقی حکومت ختم ہو جائے گی۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button