فیصل واوڈا کی فوجی بوٹ ٹیبل پر رکھ کر اپوزیشن پر سخت تنقید

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں ’بوٹ‘ ٹیبل پر رکھ کر اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا کی جانب سے اے آر وائی کے پروگرام میں ‘فوجی بوٹ’ لانے اور سیاسی مخالفین کے خلاف سخت طنزیہ جملے ادا کرنے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما پروگرام چھوڑ کر چلے گئے۔
اے آر وائی کے پروگرام ‘آف دی ریکارڈ’ میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا کے برابر والی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے قمرزمان کائرہ اور مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر جاوید عباسی موجود تھے۔ دوران گفتگو صورتحال اس وقت انتہائی مضحکہ خیز ہوگئی جب فیصل واڈا نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے’۔ اس کے ساتھ ہی فیصل واڈا نے فوجی بوٹ اٹھا کر اپنے سامنے ٹیبل پر رکھا اور کہا کہ ‘یہ ہے آج کی جمہوری مسلم لیگ، لیٹ کر چوم کر بوٹ کو عزت دو’۔ اس دوران پروگرام کے میزبان کاشف عباسی خاموش رہے اور مسکراتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا۔
فیصل واڈا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘قوم نے ان کی اصلیت دیکھ لی، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ہسپتال کا ڈرامہ کر کے باہر بھاگ گئے’۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور سابق وزیراعظم چیخ چیخ کر لوگوں کو بتائیں کہ جب ہماری چوری پکڑی جائے گی تو ہم لیٹ کر اور چوم کر بوٹ کو عزت دیں گے، ہم اس حد تک گر جائیں گے کہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجائیں گے’۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے، بوٹ کو چوم کر عزت دی ہے، کوئی شرم اور حیا ہے؟ قوم نے ان کی اصلیت دیکھ لی۔ انہوں نے کہا کہ جب پی پی ترامیم لے کر آئی تھی تو جھاگ کی طرح واپس کیوں لی؟ اس دوران پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ’اگر بوٹ سامنے رکھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ جو کرایا ہے فوج نے کرایا ہے تو ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ان کے کہنے پر نہیں فوج کے دباؤ پر ووٹ دیا ہے‘۔ اس صورتحال کے بعد قمر زمان کائرہ اور ن لیگ کے جاوید عباسی پروگرام چھوڑ کر چلے گئے۔
وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ن لیگ بوٹ کو چوم کراور نیچے لیٹ کر اقتدار میں آئی۔ اس بوٹ میں چمک اس وجہ سے ہے کہ ن لیگ والوں نے اسے ہاتھ سے نہیں بلکہ زبان سے صاف کیا ہے، انھوں نے ہر موقع پر اسے چوما ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مریم نواز ووٹ کی عزت کے نعرے مارتی پھرتی تھیں،اب ووٹ کی بجائے بوٹ کو ہر جگہ چومتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ لندن کے ریسٹورنٹ میں سارے بھگوڑے اوراشتہاری ایک ساتھ بیٹھے تھے، مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔اںھوں نے کہا کہ پہلے دن سے کہ رہا ہوں کہ نواز شریف کی بیماری ڈرامہ ہے، سمجھوتے کرنے والے اور بوٹ چاٹنے والے بڑھکیں نہیں مارتے پھرتے۔
قبل ازیں اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا کہ ٹویٹر پر مریم نواز کی خاموشی ثابت کرتی ہے یہ بزدل لوگ ہیں۔ کئی ہفتوں پہلے ہی ن لیگ کے رہنماؤں کی اصلیت بتا دی تھی۔فیصل واوڈا نے کہا کہ نام نہاد جمہوری لوگ اپنی چوری بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں، شاید وہ بھول گئے یہ 2013 ہے نہ اس دور کے لوگ موجود ہیں، اس وقت وزیراعظم عمران خان ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹویٹر پر مریم نواز کی خاموشی ثابت کرتی ہے یہ بزدل لوگ ہیں، حکومت ان لوگوں کو ملک سے بھاگنے نہیں دے گی.
اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ رہی کہ پروگرام کے میزبان کاشف عباسی نے فیصل واڈا کو فوجی بوٹ میز پر رکھنے سے روکا اور نہ ہی وفاقی وزیر کو ٹوکا۔ جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنما واپس جاننے لگے تب بھی کاشف عباسی کی جانب سے انہیں روکنے کی زحمت نہیں کی گئی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا کہ فیصل واڈا نے ثابت کردیا کہ سب کچھ فوج کروارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ٹی وی پر اس سے تضحیک آمیز عمل آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا’۔


صحافی مہربخاری نے کہا کہ ‘جب قانون کی بالا دستی نہ رہے، جب ریاستی اداروں کا اعتماد رسکی ہوجائے تو عوامی نمائندے قرآن پاک پر حلف لے کر الزام سے بری ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور وفاقی وزیر ٹی وی پر دوران پروگرام بوٹ ظاہر کرتے ہیں’۔


اس حوالے سے تجزیہ کار اور صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ‘سیاسی نوعیت کے بحث کے دوران بوٹ لا کر فیصل واڈا نے اداروں کی توہین کی’۔ مظہر عباس نے مزید کہا کہ ‘وفاقی وزیر نے ناصرف اپنی ذات بلکہ اپنی پارٹی کی حقیقت ظاہر کردی، اب دیکھنا ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کا ردعمل کیا ہوتا ہے اور ان تمام باتوں سے بڑھ کر ادارے کس طرح معاملے کو لیتے ہیں’۔


علاوہ ازیں ایک ٹوئٹر ہنڈلر نے کہا کہ ‘اسی طرح تحریک انصاف قومی اداروں کو سیاسی بنا کر توہین کرتی ہے، اپنی سیاست میں پاکستانی اداروں کو شامل کرنے شرم آنی چاہیے’۔


حمزہ نامی ٹوئٹر ہنڈلر نے کہا کہ ‘اس طرح کے رویے کی سخت سے مذمت کرنی چاہیے، میں تحریک انصاف کا سپورٹر ہوں لیکن وزیراعظم عمران خان سے درخواست کروں گا کہ فیصل واڈا کے غیر اخلاقی عمل کا سختی سے نوٹس لیں’۔


واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے انکشاف کیا تھا کہ لندن پہنچنے پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت سے متعلق پارٹی فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ لندن میں نواز شریف سے ملاقات میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر کس نے اختلاف کیا اور کس نے حمایت کی، اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ جو لوگ نواز شریف کے بیانیہ پر تنقید کر رہے ہیں وہ ووٹ کو عزت کی بات کرنے والے نواز شریف کی قربانیاں بھی دیکھیں۔
پارلیمنٹ میں آرمی ترمیمی ایکٹ کے منظور ہونے کے چند روز بعد ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر خان نے اشارہ دیا تھا کہ پارٹی کی قیادت پر اس قانون سازی کے لیے دباؤ تھا۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ‘اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق ہے، ہم اسے مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت رہے گی’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button