لاپتہ افراد پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کو پاکستان کی بدنامی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں حکمرانوں کی ترجیحات ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اگر آپ کے شہری محفوظ نہیں ہوں گے تو کوئی آپ کو ڈالر نہیں دے گا۔
لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ بار بار ڈائریکشنز جاری کرتے ہیں لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا، لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں لیکن ریاست کچھ بھی نہیں کرتی، ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ لاپتہ افراد کیسز دنیا میں پاکستان کے نام پر سیاہ دھبہ لگا رہے ہیں۔ وزیراعظم اس عدالت میں پیش ہوئے لیکن انہوں نے بھی عدالت کو گمراہ کیا۔کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئندہ سماعت پر دلائل دیں گے۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں عدالت کے سامنے کہتی ہیں کہ ہم نے نہیں اٹھایا، ہر کوئی جانتا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرتی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کمیٹی بنی تو پھر کیا ہوا سب کو پتہ ہے، عملی کام کریں۔ جسٹس میاں گل حسن نے کہا اٹارنی جنرل وزیراعظم سے ملیں اور پیش رفت رپورٹ لے کر آئیں، اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں، کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
