لاہور دھماکے میں بھارتی اور افغان ایجنسیاں ملوث نکلیں


قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے مکان کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں شامل دس افراد کا نیٹ ورک پکڑا لیا ہے جس کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ واردات بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی مشترکہ کارروائی تھی۔
انسداد دہشت گردی کے محکمہ سی ٹی ڈی نے لاہور ، جھنگ ، کراچی اور راولپنڈی سے ملزمان کا سراغ لگایا، بتایا گیا ہے کہ جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ تھا اور اسکامقصد پیرس میں ایف اے ٹی ایف اجلاس پر اثر انداز ہونا تھا۔ یاد رہے کہ اس دھماکے کے وقت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری تھا جس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسلام آباد شدت پسند جہادی تنظیموں کے سربراہوں کے خلاف عدالتی کارروائیاں تیز کرے تاکہ انہیں سزائیں دی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور ائیر پورٹ سے دھماکے کے ماسٹر مائنڈ پیٹر پال ڈیوڈ نے گرفتاری کے بعد تفتیش میں سچ اگل دیا جس کے نتیجے میں دھماکے میں ملوث 10 افراد پر مبنی نیٹ ورک کی گرفتاری عمل میں لائی جاچکی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا۔
لاہور دھماکے کے مرکزی ملزم عید گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسکی تصویر بھی جاری کر دی گئی ہے، معلوم ہوا ہے کہ محکمہ انسداد دہشتگردی سی ٹی ڈی پنجاب نے بارود سے بھری گاڑی جوہر ٹاؤن میں پارک کرنے والے ملزم کو راولپنڈی سے گرفتار کیا۔ ملزم کو گرفتار کرکے لاہور منتقل کردیا گیا ہے جہاں اسکی تفتیش جاری ہے۔جوہر ٹاؤن دھماکے میں پیٹرپال ڈیوڈ اور ایک خاتون سمیت 10 افراد زیرحراست ہیں۔ یہ بھی۔معلوم ہوا ہے کہ دھماکے کے الزام میں گرفتار دہشت گرد عید گل اوراس کے دو سگے بھائی حکومت پنجاب کے فورتھ شیڈول میں شامل تھے جبکہ عید گل اور پیٹرپال نے پیسوں کے لالچ میں دھماکہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ جب مرکزی ملزم کو پکڑ کر سی ٹی ڈی پولیس پہلے سے گرفتار پیٹر پال ڈیوڈ کے پاس لائی تو اس نے بھی اپنے ساتھی دہشگردکی شناخت کر لی۔ پال ڈیوڈ نے دھماکے میں استعمال ہونے والی کار عید گل کو دی تھی۔ پال ڈیوڈ نے یہ کار دھماکے سے 7 روز پہلے گجرانوالہ سے خریدی تھی۔ گاڑی کی ڈکی میں موجود سلنڈر میں دھماکہ خیز مواد فٹ کیا گیا تھا جسے لاہور میں داخل ہونے سے پہلے بابو صابو انٹرچینج پر پولیس نے چیکنگ کے لیے روکا لیکن ڈرائیور نے بہانہ کیا کہ اسکی ڈکی خراب ہے اسلئے لاک نہیں کھل پا رہا۔ بعد ازاں لاہور پہنچ کر ملزم عید نے بارود سے بھری گاڑی حافظ سعید کے گھر سے ڈیڑھ سو میٹر دور کھڑی کر دی کیونکہ آس سے آگے ناکہ تھا۔ اس کے بعد عید گل فرار ہو گیا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ پیٹر پال کی طرح عید گل بھی گزشتہ سالوں میں متعدد مرتبہ بیرون ملک جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق عید گل وزیرستان سے جھنگ شفٹ ہونے کے بعد خاندان کے ساتھ رہائش رکھے ہوئے تھا اور کام کے لیے بھائیوں کے ساتھ پنڈی میں زیادہ وقت گزارتا تھا۔ عید گل اور پیٹرپال کا چند سال قبل رابطہ ہوا، دونوں نے پیسوں کے لالچ میں لاہور دھماکہ کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عید گل کا فورتھ شیڈول میں ہونے کے باوجود بیرون ملک اور دوسرے شہروں میں جانا پنجاب پولیس پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد پولیس کی اجازت کے بغیر اپنے شہر سے باہر نہیں نکل سکتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش اور معلومات کے مطابق ملزم عید کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان یعنی ٹی ٹی پی کے گیدڑ گروپ سے بھی رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اسی تنظیم کے محتلف گروہوں کے ساتھ مختلف اوقات میں کام کرتا رہا اور متعدد بار افغانستان بھی جا چکا ہے۔‘ یہ بھی یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے پہلے بھی مل کر پاکستان مخالف کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتا لگایا گیا جسکے ذریعے انکی گاڑی موٹروے سے لاہور داخل ہونے سے لے کر جائے وقوعہ پر کھڑی کرنے تک کی فوٹیج حاصل کی گئی۔ تفتیشی ٹیموں کو بدھ کے روز ہونے والے دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور ان افراد کا سراغ ملا ہے جن کے استعمال میں یہ گاڑی ماضی میں رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ گاڑی چھ سے سات مختلف افراد نے ‘اوپن لیٹر’ پر حاصل کی اس لیے سرکاری طور پر اس کی ملکیت اب بھی پہلے مالک کے نام ہے کیونکہ جن لوگوں کے زیر استعمال یہ گاڑی رہی انھوں نے اس کو باقاعدہ اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروایا۔ سی ٹی ڈی کے تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی کے پہلے مالک کا تعلق حافظ آباد سے ہے جبکہ یہ 2009 سے اب تک جن لوگوں کی ملکیت میں رہی ہے ان میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر اور ایک وکیل بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ جوہر ٹاؤن میں ہونے والا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی علاقے میں واقع گھروں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ اس واقعے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ‘دھماکہ کے نتیجے میں جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔ گھروں کے اندر اور باہر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔’ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ یہ کار بم دھماکہ تھا جس کا ‘ہدف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے۔’ جس جگہ دھماکہ ہوا وہ جگہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ سے قریب تھی۔ بورڈ آف ریونیو سوسائٹی، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ حافظ محمد سعید کا یہ گھر تقریبا 15 سال قبل تعمیر ہوا تھا اور وہاں تک جانے کے لیے تین مختلف راستے یا گلیاں ہیں جہاں پر پولیس اور ان کے اپنے سکیورٹی اہلکار مسلسل تعینات رہتے ہیں۔ ان کے مطابق حافظ سعید کے گھر تک جانے والی مرکزی گلی میں دو پولیس چیک پوسٹیں ہیں جن میں سے ایک بالکل حافظ سعید کے گھر کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ ان کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر لگی پہلی چیک پوسٹ کے قریب ہوا کیونکہ ڈرائیور گاڑی اس سے آگے لے جا ہی نہیں سکتا تھا۔ ان کے مطابق ‘جہاں دھماکہ ہوا وہاں اور حافظ سعید کے گھر کے درمیان محض 100 سے 150 میٹر کا فاصلہ ہو گا۔‘

Back to top button