محب وطن راتوں کو جاگ کر غداروں سے کیسے نمٹتے ہیں؟

پاکستانی فوج سیاست کا جزولازم کیا بنی ہمارے تو محاورے بھی تبدیل ہو گئے۔ ایک زمانہ تھا جب ہم سنا کرتے تھے کہ پاکستانی عوام سکون کی نیند اس لیے سو پاتے ہیں کہ ہماری فوج کے جوان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ تاہم آج کے زمانے میں پاکستانی سیاست میں فوج کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے بعد اب یہ سننے میں آتا ہے کہ جب پاکستانی عوام سکون کی نیند سو رہے ہوتے ہیں تو ہمارے شیر جوان جگ راتا کر کے وسیع تر قومی مفاد میں جگہ جگہ غداروں کے خلاف بینرز لگارہے ہوتے ہیں تاکہ ملکی دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے معاملے پر ایک بیان کے بعد سے انہیں غدار وطن قرار دے دیا گیا ہے اور جگہ جگہ ان کے خلاف بینرز آویزاں کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے لے کر ڈی جی آئی ایس پی آر تک ہر شخص بھارتی پائلٹ کی رہائی کے حوالے سے ایاز صادق کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غدار قرار دے رہا ہے۔ تاہم یہ سوال کرنے کی جرات کسی میں نہیں کہ آیا بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے والے غدار ہیں یا اس کی رہائی پر تبصرہ کرنے والے۔
دوسری طرف تمام تر سرکاری اور عسکری ملامت اور دباؤ کے باوجود سردار ایاز صادق نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے ابھی نندن کی رہائی سے ایک روز پہلے انہیں بڑے واضح انداز میں بتایا تھا کہ اگر پاکستان نے ابھی نندن کو فوری رہا نہ کیا تو بھارت ہم پر حملہ آور ہو جائے گا۔ ایاز صادق کے اس موقف کی تصدیق بی بی سی کی ایک رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ابھی نندن کی رہائی کے فیصلے کے پیچھے سعودی دباؤ اور بھارتی دھمکی کارفرما تھیں۔ تاہم حکومتی وزراء کا یہ موقف ہے کے ایاز صادق کے بیان سے پاکستان کی بھارت کے خلاف فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حکومتی موقف کے بعد ایاز صادق کے خلاف حکومتی وزراء نے غداری کا فتوی جاری کر دیا اور ایک تھانے میں ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی درخواست بھی دے دی۔ تاہم یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں پر غداری کے فتوے لگائے جانے کے باوجود انہیں اس عوامی غیض و غضب کا سامنا نہیں جو کہ کسی پشتون، بلوچ یا سندھی سیاستدان کو کرنا پڑتا ہے۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نواز کے تمام بڑے رہنماؤں نے ایاز صادق کے موقف کی تائید کی ہے۔ ایاز صادق نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے شاہ محمود قریشی کی کانپتی ٹانگوں کا ذکر کیا تھا اور کسی جرنیل کی طرف اشارہ نہیں کیا تھا۔ مگر بظاہر یہ معاملہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال لاہور میں ایاز صادق کے حلقے میں ان کے خلاف شروع کی گئی تشہہری مہم ہے جہاں سے وہ انتخاب جیت کر رکن قومی اسمبلی بنے تھے اور وزیراعظم عمران خان کو شکست دی تھی۔
پچھلے کچھ روز سے رات کے اندھیرے میں ایاز صادق کے خلاف بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے جا رہے ہین، جس میں انھیں غدار وطن قرار دیا گیا ہے۔ ان بینرز میں ایاز صادق کے ماتھے پر تلک لگا کر ان کے چہرے پر ابھینندن والی لمبی مونچھیں لگا دی گئی ہیں اور ساتھ میں بھارت کا جھنڈا بھی دکھایا گیا ہے۔ ایاز صادق کے حلقے کے لوگ روزانہ صبح ان بینرز اور پوسٹر کو اتارتے ہیں اور پھر راتوں رات نئے بینرز اور پوسٹرز شہر کے مختلف علاقوں میں آویزاں ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ لاہور شہر میں حکومت کے ذیلی ادارے پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی پوسٹر یا بینر آویزاں نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایاز صادق کے خلاف تشہیری مہم خفیہ ہاتھوں کی مرضی اور۔منظوری سے شروع کی گئی ہے اور جب شہر لاہور کے باسی رات کو میٹھی نیند سو رہے ہوتے ہیں تو بھائی لوگ جگراتا کاٹ کر ایک غدار وطن کے خلاف شہر بھر میں بینرز اور پوسٹرز آویزاں کر رہے ہوتے ہیں۔
لیکن اس حوالے سے جب لاہور میں متعلقہ سرکاری محکمے کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں آویزاں کیے جانے والے بینرز سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ہارٹیکلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر مدثر اعجاز نے بتایا کہ ان کے محکمہ ایسے بینرز نہ لگاتا ہے اور نہ ہی کسی اور قسم کے بینرز لگائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ لاہور میں ایاز صادق کے خلاف کیوں اس قسم کے بینرز لگائے گئے ہیں تاہم ان کے مطابق وہ اب اپنی ٹیم سے اس معاملے کی جانچ کا کہیں گے۔ مدثر اعجاز کے مطابق ان کے نوٹس میں نہیں لایا گیا کہ کس نے یہ بینرز لگانے کی اجازت حاصل کی۔ ان کے مطابق عمومی طور پر اس طرح کے معامالات کو ان کے محکمے کا مارکیٹنگ کا شعبہ دیکھتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق وہ خود اس معاملے کے بارے میں جانچ پڑتال کریں گے۔
ایاز صادق کے خلاف بینرز کس نے اور کس کے کہنے پر لگائے؟ اگر ان بینرز پر غور کیا جائے تو ان پر درج ہے کہ یہ ’اہلیان علاقہ‘ کی طرف سے ہیں یعنی یہ مہم ایاز صادق کے اپنے حلقے این اے 129 کے عوام کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔ بینروں اور پوسٹروں پر ایاز صادق کی تصاویر پر ’ابھینندن والی مونچھیں‘ لگا کر ساتھ ابھینندن کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ انڈین وزیر اعظم مودی کی تصاویر بھی ان بنیرز پر لگائی گئی ہیں۔ اس حوالے سے ملک کے نام نہاد وزیر داخلہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ پاک فوج کے خلاف بولنے والوں کو امرتسر چلا جانا چائیے۔ ان کے مطابق ایاز صادق کے خلاف اسلام آباد اور لاہور میں آرٹیکل چھ یعنی سنگین غداری کے تحت درخواستیں موصول ہوئی ہیں جنھیں قانونی مشاورت کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کسی بھی عدالت کی طرف سے یہ آرٹیکل آج دن تک صرف فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، جس نے دو مرتبہ پاکستانی آئین کو توڑا تھا۔ اس جرم میں مشرف کو ایک خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی لیکن بھگوڑا جرنیل پاکستان سے مفرور ہے۔
جب لاہور کے کچھ مخصوص علاقوں میں ایاز صادق کے خلاف یہ مہم چلائی جا رہی تھی تو حزب اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحمان اس وقت ایاز صادق کے گھر ان سے ملاقات کر رہے تھے۔ اس ملاقات کے بعد جب وہ ایاز صادق اور دیگر لیگی رہنماؤں کے ہمراہ باہر نکلے تو میڈیا ان کا منتظر تھا۔ ان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ غداری کی تعریف کیا ہے۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ ’غداری کے تعریف کے لیے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو سامنے لایا جائے۔‘
انھوں نے حکمراں جماعت کے رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سیاست کو حدود میں رکھیں۔ ان کے مطابق جب کوئی کسی کی حب الوطنی کو تباہ کرتا ہے تو پھر اسے اس کے حقیقی مقام پر لانا کوئی مؤقف سے پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔ دوسری طرف ایاز صادق کا کہنا ہے کہ معاشرے میں ہر طرح کی سوچ ہے ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں، نہ کسی کو حق نہ میں کسی کو غدار کہوں گا۔ ان کے مطابق ’بھارت جو چاہتا ہے وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے گا، بھارت کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘ ایاز صادق کا کہنا ہے کہ ’میرے متعلق پوسٹرز آویزاں کرنا اچھا نہیں ہے، پی ٹی آئی نے بھارتی میڈیا کے ہاتھوں میں کھیل کر اچھا نہیں کیا۔‘ ان کے مطابق ’میری بات پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر سیاسی بات کو جو رنگ دیا گیا اس سے پاکستان کے بیانیے کو فائدہ نہیں ہوا۔ ایاز صادق کے مطابق افواج پاکستان کے بیان کو ان کے بیان سے ملانا قومی خدمت نہیں ہے۔ ’میں نے حکومت کے متعلق بات کی۔ مہربانی کرکے افواج پاکستان کو اس لڑائی سے پاک رکھیں۔‘
