مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کیخلاف ایس او پیز کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج

پولیس نے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ عمران نذیر کی گرفتاری کے بعد پولیس اسٹیشن پہنچنے والے پارٹی کے دیگر رہنما کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔
چوہنگ پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری، سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، عطا تارڑ اور دیگر کے خلاف اس تھانے پر کہ جہاں گرفتار رکن صوبائی اسمبلی کو رکھا گیا تھا، مجمع اکٹھا کرنے پر اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر ایس ایچ او کی درخواست پر درج کی گئی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے 21 رہنماؤں کو نامزد جب کہ 40 نامعلوم کارکنان کا ذکر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کے خلاف چوہنگ پولیس اسٹیشن کے نزدیک ملتان روڈ پر ٹریفک روک کر دھرنا دیا تھا۔
متعدد پارٹی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کیس سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور لاہور پولیس میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کو ہدف بنانے کےلیے ایک خصوصی ونگ بنایا گیا ہے۔ رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ خواجہ عمران نذیر کی گاڑی کی شناخت اور بلاک کرنے میں سیف سٹی کیمروں سے مدد لی گئی۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے رہنما کی گرفتاری اور نئے کیس کے اندراج کو حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن کے 11 رکنی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے آئندہ ماہ ہونے لاہور میں ہونے والے جلسے کو نقصان پہنچانے کا اقدام قرار دیا۔
خیال رہے کہ لاہور پولیس نے 7 نومبر کو مسلم لیگ (ن) لاہور کے جنرل سیکریٹری اور رکن پنجاب اسمبلی خواجہ عمران نذیر کو گرفتار کیا تھا۔ خواجہ عمران نذیر کے زیر استعمال گاڑی ’ایل ای اے 8029‘ پولیس کو مریم نواز کی پیشی کے موقع پر نیب دفتر پر پتھراؤ سے متعلق مقدمے میں مطلوب تھی۔ پولیس نے مذکورہ گاڑی کو سیف سٹی اتھارٹی کی مدد سے ماڈل ٹاؤن لنک روڈ پر روکا تھا جس میں رکن صوبائی اسمبلی سوار تھے۔ بعد ازاں پولیس خواجہ عمران نذیر اور مطلوبہ گاڑی کو تھانہ فیصل ٹاؤن لے گئی، جہاں سے چوہنگ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔ رکن اسمبلی کی گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے مریم نواز نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ عمران نذیر نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کی گرفتاری لاہور جلسے سے قبل پیشگی حملہ ہے جو ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button