معاہدے کے باوجود چین میں قید پاکستانی جیلوں میں مرنے لگے


پاکستان اور چین کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ ہونے کے باوجود حکومت پاکستان کی جانب سے چین میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے سینکڑوں پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس لانے کی بجائے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس پر قیدیوں کے لواحقین سراپا احتجاج ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ جیلوں میں جسمانی مشقت کرنے والے کئی پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن کی لاشیں واپس بھیجیں گئی ہیں۔
چین میں قید پاکستانیوں کے لواحقین نے حال ہی میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا سوال تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے باوجود وہاں پر قید پاکستانیوں کو وطن واپس کیوں نہیں لایا جا رہا۔ مظاہرے میں کسی حکومتی شخصیت نے شرکت نہیں کی اور نہ ہی کسی نے انہیں کوئی تعاون کرنے کی یقین دھانی کرائی لہذا ایک گھنٹہ تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کے بعد یہ لوگ پرامن طور پر منتشر ہو گئے تھے۔ ستم در ستم یہ ہے کہ اس اہم معاملے کے حوالے سے نہ تو چینی سفارت خانہ مؤقف دینے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کوئی جواب دینے پر آمادہ ہے۔ ایسے میں لواحقین کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ ہونے کے باوجود چین میں قید افراد کو آخر کب پاکستان واپس لایا جائے گا تاکہ وہ یہاں پاکستان کی جیلوں میں اپنی قید مکمل کریں اوران کی پیارے انہیں ایک نظر دیکھ سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت عوامی جمہوریہ چین کی جیلوں میں 533 قیدی موجود ہیں جن میں سے 235 کی نادرا کی طرف سے تصدیق بھی ہو چکی، ان میں سے بیشتر افراد کے اہلِ خانہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس بارے میں وزارتِ خارجہ کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے اختتام پر ایسے پاکستانیوں کی تعداد 484 تھی جن میں 20 خواتین بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان 2018 میں ہونے والے معاہدہ کے تحت چین اور پاکستان میں گرفتار ایسے افراد جنہیں ان کے جرائم پر عدالتوں کی طرف سے سزا سنائی جا چکی ہے وہ اپنی باقی سزا اپنے ملک کی جیلوں میں گزار سکتے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط کے بعد 2020 میں ہی چینی حکومت نے بھی اس معاہدہ کی توثیق کر دی تھی۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مختلف جزیات بھی طے کی جا چکی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد ابھی تک مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔
وزارتِ داخلہ نے سزا یافتہ قیدیوں کی فہرستیں بھی تیار کر لی ہیں تاہم ان کے پاکستانی ہونے کی تصدیق اور سفری دستاویزات تیار ہونے کے بعد انہیں پاکستان لایا جا سکے گا۔ چین کی جیل میں قید راحیل اختر کے بھائی سہیل اختر کہتے ہیں کہ میرا بھائی 18 برس قید کاٹ چکا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ بھی ہے، لیکن اس کے باوجود میرا بھائی پاکستان نہیں آ رہا۔ تمام تر دستاویزات مکمل ہیں لیکن معمولی کاغذات کی وجہ سے آج تک وہ وہیں بیٹھا ہوا ہے۔ پاکستانی عدالتوں کے احکامات اور پاکستان، چین معاہدے کے باوجود ہم اپنے بھائی کو واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ سہیل اختر نے بتایا کہ ہم نے پاکستان کی عدالتوں میں درخواستیں دائر کیں جس پر 2018 میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ چھ ماہ کے اندر میرے بھائی کو واپس لایا جائے۔ اس حوالے سے وزارتِ داخلہ نے چینی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا اور تین نومبر 2018 کو معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کے بعد اس معاہدہ کی تمام جزیات طے ہونے کے بعد 15 اکتوبر 2020 کو اس پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے کام کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے ہم نے کئی مرتبہ وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا ہے لیکن معمولی دستاویزات کا کہہ کر تاخیر کی جا رہی ہے۔ سہیل اختر کا کہنا تھا کہ وزارتِ داخلہ کہہ رہی ہے کہ ہمارے پاس چین سے تصدیق شدہ کاپیاں موجود نہیں ہیں۔ اس پر ہمیں کہا جا رہا ہے کہ چینی حکام کو کہیں کہ وہ تصدیق شدہ کاغذ بھیجیں، ہم نے ان سے کہا کہ ہم چینی حکومت کو کیسے کہہ سکتے ہیں، آپ حکومتی سطح پر بات کریں، وہاں سے قیدی تصدیق شدہ کاغذات بھجوائیں لیکن جیل میں قید افراد سے ایسا مطالبہ کرنا ہی عجیب ہے۔
سہیل اختر کا کہنا ہے کہ چین کی جیلوں میں پاکستانیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، ہم کہتے ہیں کہ انہیں رہا نہ کرو لیکن کم سے کم وہاں سے یہاں لے کر تو آؤ، کم از کم لوگ اپنے پیاروں سے مل تو سکیں گے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے تین برسوں میں پانچ پاکستانیون کی لاشیں واپس آئی ہیں جو جیلوں میں فوت ہو گئے۔ انکا۔کہنانتھا کہ چین میں قیدیوں سے مشقت لی جاتی ہے اور بیمار ہونے کے باوجود ان سے کام لیا جاتا ہے۔ سہیل اختر کا کہنا تھا کہ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کے آپس کے معاملات کی وجہ سے ہمارے پیارے وطن واپس نہیں آ رہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ صرف 18 سے 20 افراد ہی آ سکیں گے جب کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تمام افراد پاکستان واپس آئیں، یہاں کم سے کم ان کے گھر والے انہیں دیکھ تو سکیں گے۔

Back to top button