وفاقی بجٹ میں مسلسل تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے؟

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور صوبوں سے مختلف معاملات پر اختلافات کی وجہ سے 5جون کو پیش کئے جانے والے اگلے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تاخیر کا امکان ہے اور اب یہ بجٹ 10 یا 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ غیر معمولی حالات میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت کی خواہش تھی کہ بجٹ مقررہ وقت پر پیش کیا جائے، لیکن صوبوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی ملتوی کرنا پڑ گیا اور بجٹ کی تاریخ آگے بڑھنے کا امکان پیدا ہوگیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق بظاہر یہ معاملہ صرف بجٹ کی تاریخ کا نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، مالی خودمختاری، قومی سلامتی اور آئی ایم ایف کے سخت معاشی مطالبات کے درمیان ایک بڑے تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اس وقت دو محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف ہے جو ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کسی قسم کی کمی قبول کرنے پر تیار نہیں، جبکہ دوسری طرف صوبے ہیں جو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی یا قومی ترجیحات کے نام پر وسائل کی منتقلی پر رضامند دکھائی نہیں دیتے۔
مبصرین کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کے مالی حصے میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جس سے صوبوں کو مالی خودمختاری ملی۔ تاہم موجودہ معاشی اور سکیورٹی صورتحال میں وفاق چاہتا ہے کہ صوبے رضاکارانہ طور پر دفاع اور قومی سلامتی کے شعبوں کیلئے اضافی وسائل فراہم کریں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ تقریباً 3.138 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام صرف 1.126 ٹریلین روپے تک محدود ہے۔ پنجاب اکیلا 1.41 ٹریلین روپے کے ترقیاتی بجٹ کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ ایسے میں وفاقی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ قومی سطح کے بڑے منصوبوں اور سکیورٹی ضروریات کیلئے صوبوں کو بھی زیادہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کا مؤقف پہلے سے زیادہ سخت نظر آتا ہے۔ فنڈ نے واضح کردیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 میں تقریباً 15,264 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہر صورت یقینی بنانا ہوں گی۔ آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قرض پروگرام کے اہداف پورے کرنے کیلئے محصولات میں کمی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کیلئے بجٹ تیار کرنا ایک پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ اگر ٹیکس ہدف برقرار رکھا جاتا ہے تو عوام اور کاروباری شعبے پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ اگر اخراجات کم کیے جاتے ہیں تو ترقیاتی منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر صوبوں سے وسائل مانگے جاتے ہیں تو وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی ترجیحات کیسے طے کرے گا؟ کیا قومی سلامتی کے تقاضے ترقیاتی منصوبوں پر فوقیت حاصل کریں گے؟ کیا صوبے اپنی مالی خودمختاری میں کمی قبول کریں گے؟ اور کیا حکومت آئی ایم ایف کی شرائط مانتے ہوئے عوامی ردعمل سے بچ سکے گی؟آنے والے دنوں میں یہی فیصلے نہ صرف بجٹ کی حتمی شکل کا تعین کریں گے بلکہ پاکستان کی معاشی سمت، وفاقی اکائیوں کے تعلقات اور مستقبل کی مالی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026-27 کا بجٹ محض ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مستقبل کا اہم امتحان بن چکا ہے۔
