غیر ضروری وزارتوں کے خاتمے سے سالانہ 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے: سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ غیر ضروری وفاقی وزارتوں اور محکموں کو ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کی جا سکتی ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیرِ صدارت اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد میں کمی اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی ارکان نے رائے دی کہ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرہ اختیار میں کام کرنا چاہیے، جبکہ غیر ضروری وزارتوں کے خاتمے سے قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے باقاعدہ اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنانے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان متعدد مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، جس پر کمیٹی کے ارکان نے اتفاق کیا۔
جوز بٹلر کا ٹی ٹوئنٹی میں اہم اعزاز: کرس گیل کو پیچھے چھوڑ دیا
کمیٹی کا کہنا تھا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا، جبکہ غیر ضروری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت ممکن ہے۔
