افغانستان سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہے: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی کا جاری خطرہ پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے اپنی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، جبکہ افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 560 پاکستانی شہید ہوئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان دہشت گرد عناصر کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کو افغان حکام پر زور دینا چاہیے کہ وہ انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں۔

علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا پائیدار راستہ ہیں۔

انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم پیش رفت پاکستان کے دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔

 

پاکستان روبوٹکس،  اے آئی کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے: شزا فاطمہ

نائب وزیراعظم نے کہا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔

Back to top button