معاہدہ یا نیا محاذجنگ؟ ایران اور امریکہ کےمابین کیا ہونے والا ہے؟

مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک جانب سفارتکاری، مذاکرات اور امن معاہدے کی باتیں ہو رہی ہیں جبکہ دوسری جانب میدانِ جنگ میں بارود کی بو اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی حملوں نے پورے منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران اب بھی امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے حتمی معاہدے کے متن کا جائزہ لے رہا ہے۔ ابھی تک ایران نے نہ تو اس معاہدے کو قبول کیا ہے اور نہ ہی مسترد کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ کن مرحلہ ابھی باقی ہے اور آنے والے دن خطے کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک بڑی پیش رفت قریب ہے۔ ان کے مطابق ایران کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ موجودہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی۔ ٹرمپ اس ممکنہ معاہدے کو اپنی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ امن معاہدہ کسی بھی فوجی فتح سے زیادہ اہم ثابت ہو سکتا ہےلیکن زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے مسلسل جاری ہیں اور تازہ کارروائیوں میں متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے حزب اللہ کو سخت مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
حزب اللہ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی جزوی یا عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اگر اسرائیل اپنے فوجی آپریشن جاری رکھتا ہے تو مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ اس اعلان نے ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں ایران کا کردار انتہائی اہم بنتا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو تہران نہ صرف امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات روک سکتا ہے بلکہ براہ راست تصادم کے راستے پر بھی جا سکتا ہے۔ یہ بیان محض سفارتی انتباہ نہیں بلکہ خطے کی بڑی طاقتوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے۔
دوسری جانب امریکا بھی اپنے مطالبات پر سختی سے قائم ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کردیا ہے کہ صرف جنگ بندی یا آبنائے ہرمز کی بحالی سے ایران پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوں گی۔ واشنگٹن اب بھی ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے معاملے پر بنیادی رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ فریقین جنگ بندی کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل سکیورٹی ضمانتیں چاہتے ہیں، ایران پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے جبکہ حزب اللہ مکمل اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے بغیر کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں۔
نتیجتاً خطہ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر ایران معاہدے کو قبول کرتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر لبنان میں حملے جاری رہے اور حزب اللہ و ایران مزید سخت ردعمل اختیار کرتے ہیں تو موجودہ سفارتی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔
اس وقت دنیا کی نظریں تہران، واشنگٹن، بیروت اور تل ابیب پر مرکوز ہیں کیونکہ آنے والے چند دن یہ فیصلہ کریں گے کہ خطہ امن کی جانب بڑھتا ہے یا ایک نئے اور زیادہ خطرناک تصادم کی طرف۔
