ملی نغمے ’’دل دل پاکستان‘‘ کا اصل خالق کون تھا؟

60 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے آغاز سے پاکستانی ناظرین کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کے ساتھ تفریح فراہم کرنے کا آغاز کیا گیا اور اس کاوش نے تین نسلوں کو متاثر کیا، پہلی کاوش 1967 کے دوران اپنی نوعیت کے پہلے پروگرام ’’کسوٹی‘‘ کا آغاز تھا، اس کے بعد 1969 میں ڈرامہ سیریل ’’خدا کی بستی‘‘ اور تیسری کاوش 1987 میں میوزک بینڈ وائٹل سائنز کی تھی جس نے دل دل پاکستان کا ملی نغمہ گا کر جیسے پورے پاکستان کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔’دل دل پاکستان‘ کو آج پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ تصور کیا جاتا ہے۔ ساڑھے تین عشرے گزر گئے، مگر اس کا سحر اب بھی قائم ہے۔ وائٹل سائنز کے سابق رکن اور پی ٹی آئی کے لیڈر، سلمان احمد کے بقول ’یہ کچھ پاکستانی نوجوانوں کے دل کی آواز تھی، جو وقت کے ساتھ پوری قوم کی آواز بن گئی۔’دل دل پاکستان‘ کے بعد وائٹل سائنز کی شہرت کو تو جیسے پر لگ گئے۔ دل اور جاں کے الفاظ ملی نغموں کا لازمی جزو قرار پائے، بالی وڈ بھی خود کو روک نہ سکا اور ’دل دل ہندوستان‘ کے عنوان سے اس کا چربہ بنا ڈالا۔وقت گزرا، مگر اس کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ بی بی سی ورلڈ سروس کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پبلک پول میں جب سات ہزار گیتوں میں سے 10 بہترین گیتوں کا انتخاب کیا گیا، تو ’دل دل پاکستان‘ نے اس انتخاب میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کی اثر پذیری اور مقبولیت کی کئی وجوہات تھیں۔ جیسے جذبہ حب الوطنی کو سہل اشعار اور جدید مغربی موسیقی میں گوندھ کر پیش کرنا، پھر وجیہہ نوجوان گلوکار، ان کا منفرد انداز: یہ سب ناظرین کو بھا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ’دل دل پاکستان‘ ایک ’کرشمہ‘ بن گیا تھا۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یہ سوال خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ اس کا شاعر کون تھا اور دھن کس نے ترتیب دی؟عام خیال ہے کہ اس کہانی کا آغاز 1987 میں ہوا تھا، جب پی ٹی وی کے مختلف مراکز کے درمیان قومی نغموں کا ایک مقابلہ منعقد کیا گیا اور اس مقابلے میں اسلام آباد مرکز نے ’دل دل پاکستان‘ پیش کیا۔ محقق عقیل عباس جعفری کی کتاب ’پاکستان کرونیکل‘ اس خیال کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کے مطابق ’اسے نثار ناسک نے تحریر کیا تھا اور شعیب منصور نے پیش کیا تھا۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’یہ نغمہ ناظرین میں بے حد مقبول ہوا اور اس کے ساتھ وائٹل سائنز گروپ کی شہرت کا بھی آغاز ہوا، ’دل دل پاکستان‘ پی ٹی وی پر جشن آزادی کی مناسبت سے منعقدہ مقابلے کا نتیجہ تھا، جو سب سے پہلے شعیب منصور کو سوجھا۔لاہور میں موجود شعیب منصور نے راولپنڈی میں بیٹھے نوجوان بینڈ سے رابطہ کیا، بول بتائے، دھن یاد کرائی۔ چند روزہ ریہرسل کے بعد آڈیو کی ریکارڈنگ کا مرحلہ طے ہوا، جس کے بعد اسلام آباد میں ویڈیو شوٹ ہوئی۔ اور یوں اس دل پذیر کہانی کا آغاز ہوا۔عام خیال ہے کہ 1987 میں جب شعیب منصور نے اس کی دھن ترتیب دی، تب ہی نثار ناسک نے اس گیت کو صحفہ قرطاس پر اتارا۔ ابصار احمد کے مطابق جنید جمیشد نے 1999 میں پی ٹی وی کے ایک پروگرام ’مڈل ایسٹ ٹائمز‘ میں یہ کہا تھا کہ بچپن سے ان کے ذہن میں خواہش تھی کہ اگر زندگی نے موقع دیا، تو وہ دو گیت ’دل دل پاکستان‘ اور ’قسم اس وقت کی‘ کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
اپنی ہے زمیں اپنا آسماں
ایسے جہاں سے جانا اب کہاں
بڑھتی رہے روشنی کی ہر کرن
ہر دل میں رہے بس یہی لگن
دل دل پاکستان
جاں جاں پاکستان
گو اشعار تو زیادہ تبدیل نہیں ہوئے، مگر ابصار احمد کے مطابق 1987 میں پیش کردہ ملی نغمے کی دھن یکسر مختلف ہے، وہ بچوں کا روایتی کورس تھا، جب کہ شعیب منصور کی پیش کش میں آنے والا نغمہ پاپ میوزک پر مشتمل تھا۔پاکستان کو ’دل دل پاکستان‘ جیسا لازوال نغمے دینے والے نثار ناسک 15 فروری 1943 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ وہ ترقی پسند نظریات کے حامل ایک قلم مزدور تھے، راولپنڈی میں تین جولائی 2019 کو ان کا انتقال ہوا، آج نہ تو نثار ناسک دنیا میں ہیں، نہ ہی جنید جمشید، البتہ ان فن کاروں کا دیا ہوا گیت پاکستان کی گلی گلی میں گونج رہا ہے۔

Back to top button