مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھی کیخلاف نیب ریفرنس دائر

قومی احتساب بیورو(نیب) خیبر پختونخواہ نے سابق ڈویژنل فاریسٹ آفیسر موسیٰ خان بلوچ کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا ہے جنہیں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا ساتھی بتاتے ہوئے ان پر غیر قانونی اثاثے جمع کرنے، سرکاری فنڈز کے غبن اور غیر قانونی تقرری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امکان ہے کہ جج نوید احمد خان کی عدالت میں دائر ریفرنس کی سماعت اگلے دو روز میں ہو گی۔مرکزی مشتبہ ملزم موسیٰ خان کے علاوہ نیب نے موسیٰ خان کے ایک ساتھی محمد ارسلان عزیز اور ڈیرہ اسماعیل خان جنگلات ڈویژن کے دو منتظمین محمد فاروق اور قیصر عباس بلوچ سمیت تین دیگر افراد پر بھی الزام عائد کیا ہے۔جے یو آئی(ف) کے رکن موسیٰ خان کو نیب خیبر پختونخوا نے گزشتہ سال ستمبر میں گرفتار کیا تھا۔وہ تحصیل پہاڑ پور، ڈی آئی خان کے جے یوآئی(ف) کے سربراہ بھی ہیں جبکہ ان کے بیٹے طارق بلوچ جے یو آئی(ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ذاتی سیکریٹری ہیں۔نیب کا دعویٰ ہے کہ یہ کُل 5کروڑ 60لاکھ روپے کا مقدمہ ہے جو موسی خان کے اثاثوں، اس کے بینک لین دین اور سرکاری فنڈز کے غبن کے بارے میں ہے۔نیب نے اس ریفرنس میں الزام لگایا ہے کہ تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ موسیٰ خان نے محکمے میں اپنے بیٹے اور بھتیجے کی غیرقانونی تقرری کی تھی اور انہوں نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر پائیدار لینڈ مینجمنٹ پروگرام کی خطیر رقم کا غبن کیا تھا۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 2017 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والے اہم ملزم کے پاس ایک کروڑ 92 اکھ 97ہزار روپے کے اثاثے تھے جو ان کی معلوم آمدن سے غیر متناسب ہے۔نیب کے مطابق تقریباً تین دہائی قبل 1993 میں مرکزی ملزم نے عمرہ ادا کرنے کے لئے 30ہزار روپے خرچ کیے تھے اور اس اخراجات میں سے 25ہزار 175 روپے نامعلوم ذرائع سے بنائے گئے تھے۔نیب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ موسیٰ خان نے مختلف بینکوں میں متعدد اکاؤنٹ برقرار رکھے تھے جس میں بھاری لین دین ہوا تھا۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بینک لین دین کی جانچ پڑتال میں 3کروڑ 29لاکھ 53لاکھ روپے بلا جواز پائے گئے۔
