مولوی فقیر کی رہائی TTP اور افغان طالبان کی دوستی کا ثبوت


افغان طالبان کی جانب سے کابل کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کے دوران پاک فوج پر دہشت گرد حملوں میں ملوث سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل مولوی فقیر محمد کو آزاد کرنے کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان آج بھی ایک ہی صفحے پر ہیں اور مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ دوسری جانب تحریک طالبان کے سابق نائب امیر مولوی فقیر محمد کی رہائی کے بعد ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی محسود نے افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو امیرالمومنین قرار دیتے ہوئے انہیں، افغان طالبان کے ملٹری چیف ملا محمد یعقوب اور اور افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے نگران ملا عبدالغنی برادر کو کابل پر قبضے کی مبارکباد پیش کی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر افغان طالبان کو چاہیے تھا کہ اس مطلوب ترین طالبان دہشتگرد کو پاکستان کے حوالے کرتے بجائے کے اسے آزاد کر دیا جاتا۔ افغان طالبان کے اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے ماضی کے دعووں اور وعدوں کے برعکس انہوں نے پاکستان دشمن تحریک طالبان بارے فرینڈلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ لہازا خدشہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغان طالبان کی مدد سے جیلوں سے رہا ہونے کے بعد پاکستان کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے سابق نائب سربراہ مولوی فقیر محمد کو آٹھ سال کی قید کے بعد کابل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائیریکٹوریٹ آف سیکیورٹی یا این ڈی ایس نے 26 فروری 2013 کو مولوی فقیر محمد کو چار دیگر ساتھیوں سمیت اُس وقت سرحدی صوبے ننگرہار کے ضلع نازیان سے گرفتار کیا تھا جب وہ طورخم سے ملحقہ پاکستان میں وادی تیراہ جا رہا تھا۔گرفتاری کے بعد مولوی فقیر محمد بگرام جیل میں زیرِ تفتیش رہا۔ افغان میڈیا کے مطابق مولوی فقیر محمد کے ساتھ رہائی پانے والوں میں ملا شاہد عمر، مولوی تراب اور مولوی حکیم اللہ شامل ہیں۔اس کے ساتھ گرفتار کیے جانے والوں میں شامل مولوی شہباز خان عرف منگل باغ لگ بھگ ایک سال قبل کابل کی ایک جیل میں بیماری کے باعث مر گیا تھا۔ مولوی فقیر محمد اور اسکے ساتھ گرفتار کیے گئے تمام افراد کا تعلق افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلعے باجوڑ سے تھا۔ رہائی کے بعد مولوی فقیر محمد ساتھیوں سمیت افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع مرورہ میں شوڑتن نامی علاقے میں اپنے عزیزوں کے پاس پہنچ چکا ہے۔ فقیر اور اس کے تین ساتھیوں کے رہائی کے بارے میں افغان حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
پاکستان کو مطلوب دہشت گرد فقیر محمد کا تعلق افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے ماموند سے ہے۔ اس نے ابتدائی مذہبی تعلیم علاقے کے مدارس سے ہی حاصل کی۔ فقیر محمد کے اساتذہ میں مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے مولوی عبد السلام بھی شامل ہیں جن کو گزشتہ برس مارچ میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ مولوی فقیر محمد 22 سال کی عمر میں مولانا صوفی محمد کی کالعدم تحریک نفاذ شریعت کا حصہ بن گیا تھا۔ صوفی نے ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کے لیے 1993 میں باقاعدہ طور پر احتجاج شروع کیا تھا۔ مولوی فقیر اس احتجاجی تحریکمکا۔انچارج ہونے کے علاوہ حکومت اور فوج کے ساتھ مذاکرات میں بھی پیش پیش تھا۔ کالعدم تحریک میں شامل ہونے کے ساتھ ہی مولوی فقیر کی سیاسی اور عسکری زندگی کا آغاز ہو گیا تھا۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جب مولانا صوفی محمد نے افغانستان میں امریکہ کی افواج کے خلاف طالبان حکومت کی حمایت کے لیے لشکر لے جانے کا فیصلہ کیا تو باجوڑ سے لشکر میں شامل افراد کو افغانستان منتقل کرنے کا کام مولوی فقیر محمد نے انجام دیا تھا۔ اس لشکر میں مولوی فقیر محمد کے دو بیٹے بھی شامل تھے جن کو بعد میں صوفی کے ساتھ افغانستان سے واپسی کے وقت ضلع کرم کے سرحدی علاقے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا قیام اسلام آباد کی لال مسجد کے فوجی آپریشن کے بعد دسمبر 2007 میں باقاعدہ طور پر عمل میں لایا گیا تھا جس کا پہلا سربراہ ملا بیت اللہ محسود تھا، اس کے ساتھ مولوی فقیر محمد ڈپٹی لیڈر کے طور پر سامنے آیا تھا البتہ امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان سے ملحقہ زیادہ تر قبائلی اضلاع میں طالبان کے نام پر تخریب کاری شروع ہو گئی تھی جس میں باجوڑ اور مہمند کے اضلاع سر فہرست تھے۔ ان پر تشدد کارروائیوں میں مولوی فقیر محمد کا کردار اہم تھا۔ اس دوران پاکستان آرمی نے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کیا تو مولوی فقیر محمد نے اسکے خلاف بھی دہشت گرد کارروائیاں کیں۔
اگست 2009 میں بیت اللہ محسود کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد مولوی فقیر محمد دو دن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کا قائم مقام سربراہ بھی رہا۔ پھر اس نے ہی حکیم اللہ محسود کے اس تنظیم کے سربراہ بننے کا اعلان کیا تھا۔
ویسے تو مولوی فقیر محمد کی گرفتاری کا اعلان افغان حکومت نے 17 فروری 2013 کو کیا تھا مگر کہاجاتا ہےکہ مولوی فقیر محمد 2009 کے آخر میں اہنے خاندان سمیت افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ کے ضلع مرورہ منتقل ہو گیا تھا۔ اس نے باقاعدہ طور پر شوڑتن گاؤں میں سکونت احتیار کی تھی۔ اس دوران پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں مولوی فقیر محمد کا ہاتھ ہے۔ 2010 میں مولوی فقیر نے باجوڑ کے سرحدی علاقوں میں پاک فوج کی چوکیوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ پاکستانی حکام نے پانچ مارچ 2010 کو باجوڑ میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر ہونے والے حملے میں مولوی فقیر محمد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ مگر جولائی 2011 میں وہ افغانستان میں منظرِ عام پر آگیا۔
اسکے 8 ماہ بعد تحریک طالبان کے تب کے ترجمان احسان اللہ احسان نے 5 مارچ 2012 کو مولوی فقیر محمد کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ اس نے فقیر محمد پر پاکستانی حکومت کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا الزام لگایا تھا۔ اس دوران ٹی ٹی پی کا سربراہ ملا فضل اللہ بھی ساتھیوں سمیت افغانستان منتقل ہو گیا۔ ملا فضل اللہ نے مولوی فقیر اور دیگر ساتھیوں سمیت افغانستان منتقل ہونے کے بعد افغان حکام کو پر امن رہنے کا یقین دلایا تھا۔شدت پسندوں کے افغانستان منتقل ہونے پر حکومتِ پاکستان نے صدر حامد کرزئی کی حکومت سے احتجاج بھی کیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ فقیر محمد اور دیگر طالبان رہنما رہائی کے بعد پاکستان میں دوبارہ سے منظم ہو کر دہشتگردی کی کارروائیاں شروع کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اس بات کا واضح امکان ہے کہ پاکستان یہ معاملہ افغان طالبان کے سامنے اٹھائے گا اور فقیر محمد کی حوالگی کا مطالبہ کرے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس مفتی نور ولی محسود نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے علیحدہ ہونے والے دھڑوں کو یکجا کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ کئی ایک دھڑوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اگر مولوی فقیر محمد مفتی نور ولی محسود کی کوشش کا حصہ بن گئے تو اس کے منفی اثرات سے قبائلی اضلاع کے امن و امان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب مولوی فقیر کے بارے میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ 8 برس بعد وہ اب ماضی کی طرح مؤثر نہیں رہا۔ رحیم اللہ کہتے ہیں کہ اب مولوی فقیر کے لیے اپنی تنظیم میں واپس آنا اور پرانی حیثیت حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2012 میں مولوی فقیر محمد کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان سے حکومت پاکستان کا ایک معاہدہ ہوا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اس معاہدے کے بعد مئی 2012 میں فقیر محمد پر سازش اور ساز باز کا الزام لگا کر اسے عہدے سے بر طرف کر دیا گیا تھا۔

Back to top button