میجر جنرل نے فوج سے جبری ریٹائرمنٹ کو چیلنج کر دیا؟


فوج سے اپنی جبری برطرفی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے والے سابق میجر جنرل منظور احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے خلاف ’صدر پاکستان کو لکھے گئے خط کے بعد انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے میجر جنرل کی برطرفی کے خلاف درخواست واپس کرتے ہوئے انھیں لاھور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی تجویز دی ہے۔ فوج سے برطرف ہونے والے میجر جنرل منظور احمد نے حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی برطرفی کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے اسے ایک ’غیر قانونی‘ اور ’غیر منصفانہ‘ اقدام قرار دیا تھا۔ اپنی درخواست میں برطرف کیے جانے والے افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آرمی میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کا کوئی واضح اور شفاف طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ برطرف افسر نے عدالت میں دائر درخواست میں سیکریٹری دفاع، ایڈجوٹینٹ جنرل، ملٹری سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل آف آرمز کو فریق بنایا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس مقدمے کو ترجیجی بنیادوں پر سُنتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ درخواست فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز یعنی جی ایچ کیو کے ایک فیصلے کے خلاف ہے اسی لیے بہتر ہو گا کہ یہ درخواست بھی لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جائے۔ عدالت کی آبزرویشن کے بعد برطرف میجر جنرل نے اپنی درخواست واپس لے لی اور یہ اعلان کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے یہ درخواست دائر کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں میجر جنرل منظور احمد کے ساتھ ان کے وکیل عابد ساقی بھی موجود تھے۔ عدالت نے غور سے میجر جنرل کی استدعا سُنی اور پھر کیس نمٹا دیا۔ عابد ساقی کے مطابق راولپنڈی بینچ کے سامنے سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کا بھی کچھ اسی نوعیت کا کیس زیر سماعت ہے۔ فوج کے ترجمان سے اس پر مؤقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم فوجی ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے میجر جنرل کی درخواست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کیا ہے۔ اُن کے مطابق درخواست میں جو الزامات عائد کیے گئے ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ فوج میرٹ پر یقین رکھتی ہے۔ فوج میں اس حوالے سے میرٹ کے نظام سے متعلق ہم نے سابق اعلیٰ فوجی افسران سے بھی بات کی ہے مگر آئیے پہلے ایک نظر برطرف کیے جانے والے میجر جنرل منظور احمد کے کیس پر ڈالتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنے مقدمے کی تفصیلات بتاتے ہوئے میجر جنرل منظور احمد نے بتایا کہ انھیں ملٹری سیکریٹری کی طرف سے گذشتہ برس 29 جون کو ریٹائرمنٹ کے احکامات موصول ہوئے جن میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے ان کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی معمول کی ریٹائرمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد جنرل منظور احمد نے اپنی بھاگ دوڑ شروع کی اور اپنی ’جبری ریٹائرمنٹ‘ کے خلاف وفاقی حکومت کو گذشتہ برس 13 جولائی کو خط لکھا۔ مگر ان کے مطابق اُن کا یہ خط صدر پاکستان کو بھیجنے کے بجائے ملٹری سیکریٹری نے فوج کے ہیڈ کوارٹرز میں ایڈجوٹینٹ جنرل کو انکوائری کے لیے بھیج دیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اے جی سیکریٹریٹ نے انھیں بلا کر دو آپشن دیے: اپنے خط کو واپس لے لو یا پھر برطرفی کے ساتھ کورٹ مارشل کا سامنا کرو۔ اُن کے مطابق جب وہ ان آپرشنز کو زیر غور نہ لائے تو ڈپٹی ملٹری سیکریٹری نے اُن کی ریٹائرمنٹ اور کورٹ آف انکوائری کو التوا میں ڈال دیا۔ خیال رہے کہ یہ انکوائری کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود کی سربراہی میں کی جا رہی تھی اور برطرف کیے جانے والے میجر جنرل کو اس کور کے ہی سپرد کر دیا گیا۔ میجر جنرل منظور احمد کے مطابق ان کی وقت سے پہلے جبری ریٹائرمنٹ اور پھر انکار پر برطرفی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی جو کہ آرمی ایکٹ کے بھی خلاف ورزی ہے اور بدنیتی ظاہر کرتی ہے۔ اُن کے مطابق اس کارروائی کے چھ ماہ بعد رواں برس انھیں نو مارچ کو آئی جی آرمز نے طلب کیا اور ملازمت سے برطرفی کا نوٹیفکیشن تھما دیا مگر اس میں بھی کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ وجہ بتائی گئی کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ برطرف میجر جنرل کے مطابق یہی وہ نکتہ تھا کہ انھوں نے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
میجر جنرل منظور احمد کے مطابق انھوں نے فوج میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے موجودہ آرمی چیف کو بتایا تھا کہ اس ترقی کے لیے فوج میں مختلف خطوں یا صوبوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس کے فوج کے ادارے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ برطرف کیے گئے جنرل نے وفاقی حکومت کے سامنے بھی فوج میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ترقی کے معیار پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس طریقہ کار میں مختلف صوبوں، قومیتوں اور زبانوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس سے فوج کے ادارے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میجر جنرل کے مطابق اُن کی تجاویز کو زیر غور لانے کے بجائے انھیں ملازمت سے ہی فارغ کر دیا گیا۔ میجر جنرل منظور احمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی 35 برس کی سروس میں فوج میں اہم ذمہ داریوں پر فرائض سر انجام دیے ہیں، جن میں چھ ماہ تک لیفٹیننٹ جنرل کے معیار کے ایک عہدے آئی جی آرمز کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے مگر بجائے اس کے انھیں اگلے رینک میں ترقی دی جاتی اس بات نے اعلیٰ بااثر افسران کو ان کے خلاف بھڑکا دیا اور انھوں نے پھر ان کی برطرفی کی سازش تیار کی۔
برطرف کیے گئے میجر جنرل منظور احمد کے وکیل عابد ساقی نے بتایا کہ ان کے مؤکل کے مطابق ان کے خلاف فوج میں گروپ بندی ہوئی اور انھیں ہدف بنا کر فوج سے نکالا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے ابھی ان افسران کے نام نہیں بتائے جنھوں نے، اُن کے مطابق، ان کے خلاف دھڑے بندی کی۔ برطرف میجر جنرل نے الزام عائد کیا کہ تین سال قبل ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلائی گئی۔ خیال رہے کہ میجر جنرل منظور احمد کو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، لیفٹیننٹ جنرلز شمشاد مرزا، شاہین مظہر محمود اور ندیم ذکی منج کے ساتھ سنہ 2015 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ جنرل ظہور کے مطابق ان پر نہ تو کوئی سنگین ضابطہ کار کی خلاف ورزی کا کیس بنا، نہ انھوں نے کوئی اہم ملکی راز فاش کیے۔۔۔ اور نہ کبھی ان کے خلاف کوئی تحقیقات ہوئیں اور پھر بھی انھیں برطرف کر دیا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ عسکری حکام نے غیر قانونی قدم اٹھایا ہے۔
دوسری طرف عسکری حکام کے مطابق مطابق فوج میں میرٹ کا ایک نظام موجود ہے اور اہم ذمہ داریوں پر ترقی علاقائی بنیادوں پر نہیں دی جاتی بلکہ اوپن میرٹ کا ایک واضح نظام موجود ہے۔ ان کے مطابق صرف میجر جنرل منظور احمد ہی وہ واحد افسر نہیں ہیں کہ جن کو میجر جنرل سے لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی نہیں دی گئی بلکہ فوج میں دو درجن سے زائد ایسے میجر جنرلز ہیں جنھیں حالیہ عرصے میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی نہیں دی گئی۔

Back to top button