نواز شریف کو نااہل کروانے والا عمران مکافات عمل کا شکار

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو پانامہ کیس کا مدعی بن کر سپریم کورٹ سے سزا دلوانے والے عمران خان کو بھی سیشن کورٹ نے کرپشن اور بددیانتی کے مجرم قرار دے دیا جس کے بعد انہیں بھی نواز شریف کی طرح گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے . یاد رہے کہ پناما گیٹ سکینڈل کی سپریم کورٹ میں سماعت یکم نومبر 2016ء سے 23 جنوری 2017ء تک جاری رہی۔ یہ مقدمہ عدالت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان لے کر آئے تھے جنہوں نے نواز شریف پر منی لانڈرنگ، رشوت ستانی اور متضاد بیانات کی بنیاد پر یہ مقدمہ دائر کیا۔ یہ الزامات اس وقت عائد کیے گئے جب پاناما دستاویزات میں شریف خاندان اور آٹھ غیر ملکی کمپنیوں کے مابین تعلق کا انکشاف ہوا تھا۔ عدالت نے اس کے متعلق 23 فروری 2017ء کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا یہ مقدمہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہوا، اسے پاکستانی تاریخ کا رخ بدل دینے والا واقعہ بھی کہا جاتا ہے۔ عدالت نے 20 اپریل 2017ء کو فیصلہ سنایا کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو پناما لیکس کی روشنی میں شریف خاندان پر عائد رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیق کرے۔ 28 جولائی 2017ء کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف قرار دے دیا اور ان کے حلاف مقدمہ شروع کرنے کا حکم دیا . اس پس منظر میں سیاسی حلقے اور تجزیہ کار پانچ اگست کے روز عمران خان کو سنائی گئی سزا کو مکافات عمل قرار دے رھے ہیں .

دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کرپشن کے الزامات پر ہمیشہ سویلین حکمرانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا مگر پاکستان کے آئین کو بوٹوں تلے روندنے والی شخصیات کو ہاتھ لگانے کی جرات کسی کو نہیں ہوتی. وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ابھی عمران کو صرف توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی ہے ابھی ساٹھ ارب روپے کی کرپشن سمیت درجنوں کیس اور ہیں جن میں عمران خان پر جرم ثابت ہوں گے . انہوں نے کہا آج ایک سابق وزیر آزم نہیں بلکہ ایک چھوڑ کو گرفتار کیا گیا ہے . عمران خان کو سیاسی طور پر گرفتار کرنا ہوتا تو شہباز شریف کی حکومت کے پاس ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کو سعودی ولی عھد کی تحفہ کردہ گھڑیاں مبینہ طور پر خریدنے والے ارب پتی تاجر عمر فاروق ظہور نے کہا ہے کہ الحمدللہ میں درست ثابت ہو گیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کرپشن کے مرتکب قرار پائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے میرا مؤقف درست تسلیم کر لیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 20 لاکھ ڈالرز میں مجھے گھڑی فروخت کی۔عمر فاروق ظہور کا کہنا ہے کہ عدالت نے میرا مؤقف درست تسلیم کر لیا کہ گھڑی فرح گوگی کے ذریعے دبئی میں بیچی گئی۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ عمران خان کو سنائی گئی سزا کوئی غیر متوقع فیصلہ نہیں پورے پاکستان کو پتہ تھا کہ اس کیس میں عمران خان کو سزا ہو گی اسی لئے وہ سیشن کورٹ کی ہر فیصلے کو اعلی عدلیہ میں چلنج کر رہے تھے مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمیشہ وزرائے اعظم اور سیاستدانوں کو سزا ملتی ہے مگر پاکستان کے آئین کو بوٹوں تلے روندنے والی شخصیات کو ہاتھ لگانے کی جرات کسی کو نہیں ہوتی . پہلے حسین شہید سہروردی، پھر ذوالفقار علی بھٹو ، پھر بینظیر بھٹو پھر نوا ز شریف اور اب عمران خان ۔۔۔۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا کہ جن الزامات پر نواز شریف کو سزا ہوئی ان کی نسبت عمران پر توشہ خانہ کیس پر جو الزامات عائد کیۓ گئے تھے وہ بہت سنگین تھےاسی لئے عمران خان اس کیس کو گیارہ مہینے لٹکتے رہے ان کی پوری کوشش تھی کہ یہ کیس نہ چلے کیوں کہ انہیں پتہ تھا کہ اس کیس میں انہیں سزا ہو کر رہے گی. تاہم نواز شهریف کی نسبت عمران خان کو یہ فائدہ ضرور ملا ہے کہ انہیں سزا سیشن کورٹ نے دی ہے جس کے خلاف وہ ہائی کورٹ میں اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں. عمران خان کو سنائی گئی سزا پر رد عمل دیتے ہوۓ تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فیصلے کو اعلیٰ عدالت کے روبرو چیلنج کیا جاۓ گا توشہ خانہ مقدمے کے ذریعے نظامِ عدل کی پیشانی پر ایک اور سیاہ دھبّہ لگایا گیا،متعصب جج ہمایوں دلاور کی جانب سے تاریخ میں بیہودہ ترین انداز میں ٹرائل چلایا گیا اور انصاف کے قتل کی کوشش کی گئی، سیشن عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام اور انجینئرنگ کی بدترین مثال ہے ناقص، مضحکہ خیز اور ٹھوس قانونی بنیادوں سے محروم فیصلے کے ذریعے جمہور اور جمہوریت کیخلاف شرمناک یلغار کی گئی،
قوم کے مقبول اور معتبر ترین سیاسی قائد کیخلاف سازش اور انتقام کی ایسی بھونڈی کوشش قوم ہرگز قبول نہیں کرے گی،
فسطائیت کو میسّر عدالتی پناہ اور بدترین ریاستی جبر کے سامنے ہرگز سرنگوں نہیں ہوں گے

Back to top button