نیازی کے ساتھ جیل میں خفیہ مذاکرات کون کر رہا ہے؟


عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کے مکمل مائنس ہونے کے بعد اب وفاق میں پی ٹی آئی کے پاس بچا کھچا ٹھکانہ بھی چھن گیا ہے۔ ایوان وزیر اعظم پر شہباز شریف کے قبضے کے بعد اب ایوان صدر میں عمرانڈو صدر علوی کی جگہ آصف علی زرداری مکین ہو چکے ہیں تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی ٹھنڈے پیٹوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو مل کر اقتدار کے مزے لوٹنے دے گی اور وہ خاموشی سے بیٹھ کر تماشا دیکھے گی یا اپنے احتجاج میں شدت لے کر آئے گی؟ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت یعنی عمران خان کو بالواسطہ طور پر مذاکرات میں انگیج کرنے کی پالیسی برقرار رہے گی جس کی تصدیق گزشتہ روز شیر افضل مروت نے بھی کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ہمارے رابطے ہوئے ہیں مگر ان کی شرائط سخت ہیں جن پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔۔۔اسی طرح چند روز پہلے بیرون ملک بیٹھ کر خوفناک پروپیگنڈا کرنے والے دو یوٹیوبرز سے لا تعلقی کا اعلان بھی اسی جانب ایک قدم دکھائی دیتا ہے۔۔تو ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ گاجر اور چھڑی یعنی کیرٹ اینڈاسٹک والی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔ اگر وہ حکومت کے لیے زیادہ مسائل پیدا نہیں کرتے تو اس کے عوض انہیں ریلیف دیا جائے گا۔۔یہ ریلیف اسیر رہنماؤں کی معقول تعداد میں رہائی کی صورت بھی ہو سکتا ہے اور کے پی حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دینے کی صورت میں بھی روبہ عمل آ سکتا ہے۔
دوسری طرف چھڑی کی پالیسی کے تحت محسن نقوی کو مرکز میں بطور وزیر داخلہ لے لیا گیا ہے جو پی ٹی آئی کے لیے سخت پالیسی کی نمائندگی کرتے دکھائی دیں گے ۔۔
سو یہ طے ہے کہ شہباز حکومت کی پشت پر اسٹیبلشمنٹ پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور اسے پرسکون انداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ہر طرح سے فیسلیٹیٹ کیا جائے گا اور اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔۔
موجودہ مخلوط سیٹ اپ کو اگرچہ شاخ نازک پر آشیانہ قرار دیا جا رہا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سیٹ اپ میں تمام بڑے پلیئرز کو کچھ نہ کچھ حصہ ملا ہے۔۔مرکز میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ساتھ ہیں تو پنجاب نواز لیگ کے حوالے ہے، سندھ پر پیپلز پارٹی کا راج ہے تو بلوچستان میں یہ دونوں اتحادی مل کر حکومت کریں گے جبکہ کے پی میں پی ٹی آئی کو بھاری اکثریت کے ساتھ بااختیار حکومت کی کمان حاصل ہو گی ۔۔ تو اس طرح اپنی اپنی ڈومین میں سب کو کارکردگی دکھانے کا بھی پورا موقع حاصل ہوگا۔۔جس کے اثرات اور نتائج آنے والے الیکشن میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یعنی اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے الیکشن میں کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک کارکردگی پر ہوگا۔۔
ایک اور خوش آئند بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے نامزد صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی نے کھلے دل سے نو منتخب صدر کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں اختلافات برقرار رکھتے ہوئے ملک چلانے کے لیے ایک پیج پر آ جائیں۔۔
ان تمام تر خوش کن خیالات اور تصورات کے باوجود فیصل واوڈا کے اس بیان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پیپلز پارٹی نے فی الوقت تو نواز لیگ کو گلے لگالیا ہے مگر وہ آگے چل کر اسے دھکا دے دے گی اور موجودہ اتحاد کی مدت دو سال سے اگے نہیں بڑھے گی۔۔۔جاننے والے جانتے ہیں کہ فیصل واوڈا کن حلقوں کے خود ساختہ ترجمان ہیں، بلکہ ایک لحاظ سے انہوں نے شیخ رشید کی خالی ہونے والی گدی سنبھال لی ہے۔۔تو فیصل واوڈا کے بیان میں شہباز حکومت کے لیے پیغام بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بطور اتحادی اپنے معاملات درست رکھیں بصورت دیگر تخت سے تختہ ہونے میں دیر نہیں لگے گی کیونکہ جہاں ایوان صدر میں زرداری کا براجمان ہونا شہباز حکومت کے تحفظ کی ضمانت ہے تو وہیں سب سے بڑی اتحادی کے طور پر پیپلز پارٹی کے طوطے میں شہباز حکومت کی جان ہوگی۔۔ اور یہ طوطا "چین کے طوطے” کی طرح کوئی بھی کرتب دکھا سکتا ہے۔۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر آصف علی زرداری سیاسی حرارت کو نیچے لانے میں بڑا کردار ادا کریں گے،تا اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کس حد تک اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ صدر آصف زرداری مفاہمت کی سیاست کرتے ہیں دیکھنا ہوگا اب وہ کیا اعلان کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ تسلسل سے سسٹم اور آئین کی پاسداری کرتی رہی ہے اور آگے بھی یہی امید کی جاسکتی ہے کہ سیاسی حرارت کو نیچے لانے میں بڑا کردار ادا کریں گے۔ سیاسی استحکام نظر آنے کی امید ہے لیکن معاشی معاملات یقیناً قابل غور رہیں گے اور چیلنجز بھی بہت سخت ہیں اگلے دو سال مسلم لیگ نون بھی کہہ چکی ہے کہ مشکل رہیں گے اور دیکھنا ہوگا عوام پر اس کا ردِ عمل کیسے آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی نے یہی کہا تھا کہ ایشو ٹو ایشو بات کریں گے لیکن وہ گورنمنٹ کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ 2018 میں ہم پر ہائبرڈ نظام مسلط کر دیا گیا۔اس وقت جوڈیشری سمیت کم و بیش میڈیا بھی اس عمل میں شامل رہا۔ تاہم اب ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ، ایوان وزیراعظم اور ایوان صدر ایک مفاہمتی پیج پر آ چکے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مفاہمتی سیٹ اپ جارحانہ رویہ اپنانے والی تحریک انصاف کے ساتھ کیسے ڈیل کرتا ہے۔

Back to top button