واٹس ایپ کی متبادل پاکستانی ایپ ’’بیپ پاکستان‘‘ متعارف

حکومت نے موجودہ ٹیکنالوجی کے دور کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے بین الاقوامی ایپ ’’واٹس ایپ‘‘ کی جگہ پاکستانی ایپ ’’بیپ پاکستان‘‘ متعارف کروا دی ہے، جوکہ اپنے معیار اور فیچرز کے حساب سے کسی صورت واٹس ایپ سے کم نہیں ہے۔ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر سید امین الحق نے ایپلی کیشن کو متعارف کرایا، ایپلی کیشن کو نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) بورڈ نے بنایا اور اسے ابتدائی طور پر وزارت کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔ایپلی کیشن کو متعارف کرائے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امین الحق نے بتایا کہ ’’بیپ پاکستان‘‘ کو ابتدائی طور پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور این آئی بی ٹی کے افسران استعمال کریں گے، ایک ماہ بعد ایپلی کیشن کی آزمائش کو بڑھا کر تمام وفاقی سرکاری ملازمین تک پھیلایا جائے گا اور ہر ملازم کو ایپلی کیشن تک رسائی دی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین ایک سال تک مذکورہ ایپلی کیشن کو استعمال کرتے رہیں گے، جس کے بعد اسے عام صارفین تک پھیلایا جائے گا، سید امین الحق نے ایپلی کیشن کی بعض سیکیورٹی خوبیاں بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’بیپ پاکستان‘ محفوظ ایپ ہے، جس میں دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز کے لیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ ایپلی کیشن کے ڈیٹا تک تیسرے فرد کی رسائی نہیں ہوگی۔انہوں نے ’بیپ پاکستان‘ کے فیچر بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں آڈیو، ویڈیو کالز سمیت کانفرنس کالز بھی ہوں گی اور اس میں ’’زوم‘‘ ایپلی کیشن جیسے فیچر بھی شامل کیے گئے ہیں، آزمائش کے بعد جلد ہی اس حکومتی سوشل میڈیا ایپ کو عام صارفین کے لیے بھی دستیاب کر دیا جائے گا، ابھی اس ایپ کی آزمائش کا سلسلہ جاری ہے۔
