ورلڈ کپ کے فاتح کپتان نے وزیراعظم بن کر کرکٹ کا جنازہ کیسے نکالا؟

بطور کپتان کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کا کریڈٹ لینے والے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد سے قومی کرکٹ ٹیم مسلسل ناکامیوں کے بھنور میں دھنستی چلی جارہی ہے اور پاکستانی کرکٹ کا جنازہ اٹھتا نظر آتا ہے۔
گزشتہ ڈھائی برس کے دوران صرف پاکستانی کرکٹ کا جنازہ ہی نہیں نکلا بلکہ اپنے وقت کے کامیاب کپتان اور بیٹسمین اور قومی ٹیم کے موجودہ کوچ مصباح الحق کے ستارے بھی پاکستانی ٹیم کی پے درپے شکستوں کے بعد گردش میں نظر آرہے ہیں، اور کہا جارہا ہے کہ انہیں اب چیف سلیکٹر کے بعد ہیڈ کوچ کے عہدے سے بھی برطرف کیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے قومی ٹیم نے دورہ نیوزی لینڈ میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں ٹی ٹوئنٹی میں دو ایک سے شکست اور ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ ہونا شامل ہے، اس بدترین صورت حال کے بعدچیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے والے مصباح الحق اب بطور ہیڈ کوچ بھی کرکٹ بورڈ کی ایک آنکھ نہیں بنا رہے۔
قومی ٹیم کی دورہ نیوزی لینڈ میں مسلسل مایوس کن کارکردگی پر برہم شائقین کرکٹ نے جہاں کھلاڑیوں کی تنقید کا نشانہ بنایا وہیں قومی ٹیم مینجمنٹ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی ٹیم کو ٹی20 سیریز میں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستان دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ جب کہ دوسرے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 176 رنز اور ایک اننگز سے شکست دے کر سیریز میں کلین سوئپ کر دیا۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ میں قومی ٹیم کی اوسط درجے کی کارکردگی کے بعد چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے والے مصباح الحق کا اب ہیڈ کوچ کا عہدہ بھی خطرے میں پڑگیا ہے اور رپورٹس ہیں کہ دورہ نیوزی لینڈ کے بعد وہ اس عہدے سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ مصباح نے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا جس کے بعد محمد وسیم کو یہ عہدہ سوپ دیا گیا تھا۔
پی ٹی وی اسپورٹس کے پروگرام ‘گیم آن ہے’ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرے دن کا کھیل شروع ہونے سے قبل میزبان نے کہا کہ یہ خبر زیر گردش ہے کہ شاید ہیڈ کوچ مصباح الحق کو بھی عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے پروگرام کے مہمان اور قومی ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف سے پوچھا کہ کیا مصباح کو ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس بات میں کافی حد تک حقیقت ہے۔ جب پروگرام میں موجود دوسرے مہمان اور قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف افواہ نہیں ہے، اس بارے میں بات چیت ہو رہی ہے۔ راشد لطیف نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مصباح کو ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹانے کے خیال سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ اب اس چیز کی متحمل نہیں ہو سکتی، ہم ٹیسٹ کرکٹ میں پچھلے کچھ برسوں میں بہت نیچے آئے ہیں اور بہت پیچھے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع کرتے ہیں کہ یہ افواہ حقیقت کا روپ نہیں دھار لے کیوں کہ ہم بڑی مشکل سے مصباح کو بطور چیف سلیکٹر لے کر آئے ہیں، ہم نے ہیڈ کوچ بھی بنایا اور وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے بھی کوچ رہے لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ ہر چیز چھوڑتے چلے گئے۔ سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ بڑے نام اس عہدے پر آنے کےلیے حامی نہیں بھرتے ہیں لیکن مصباح نے حامی بھر لی، اگر آپ نے مصباح کو ہٹا دیا تو وہ بالکل بھی نہیں آئیں گے، تو ایسا نہ کریں کہ ہمارے پرانے کھلاڑی بددل ہو جائیں اور امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایسا قدم نہیں اٹھائے گا۔
اس موقع پر شعیب اختر نے کہا کہ مصباح کی صلاحیت اور استعداد کا ہمیں بھی پتہ تھی اور انہیں بھی پتہ تھی، مصباح اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے، دیکھنے والے کی غلطی ہے کہ آپ کو یہ ‘بہترین’ نظر آیا تھا، دیکھنے والوں کی غلطی ہے کہ ان کا ‘بہترین’ ٹھیک نہیں ہے، وہ بہترین دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور سابق فاسٹ باؤلر نے دعویٰ کیا کہ تین مہینے میں پاکستان کرکٹ بالکل ٹھیک ہوسکتی ہے، میں گارنٹی دیتا ہوں، تین مہینے، تین بندے، تین ادارے پکڑوں گا، تین بندے لاؤں گا، نہ ٹیم صحیح ہو تو میرا نام تبدیل کر دینا، تاریخ میں سے میرا نام ہٹا دینا۔
دوسری جانب سابق کرکٹر عاقب جاوید نے ناقص پرفارم پر ہیڈکوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقاریونس کو خاص نشانے پر رکھ لیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ وقار یونس اور مصباح کو بغیر کوچنگ تجربے کے ٹیم کے ساتھ لگانے والوں سے باز پرس ہونی چاہیے، بغیر کوچنگ تجربے کے تو مصباح ایسا کوچ ہے جسے میرے خیال میں کوئی شاید اسکول میں بھی جاب نہ دے۔ پروفیشنل کوچز کو ٹیم کے ساتھ ہونا چاہیے۔ پھر ہی معاملات بہتر ہوتے ہیں۔ ہاکی کی طرح موجودہ صورت حال میں کرکٹ بھی ختم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ٹیم کی کوچنگ کی خواہش نہیں، میرے نزدیک تو پی سی بی کے موجودہ سسٹم میں سوائے بے عزتی کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر اور ڈائریکٹر لاہور قلندرز عاقب جاوید قومی ٹیم کی نیوزی لینڈ میں خراب کارکردگی پر بڑے برہم ہیں اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور منیجمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ 1952ء سے لیکر اب تک اتنی کمزور بیٹنگ اور بولنگ نہیں دیکھی، اور نہ ایسی ٹیم دیکھی ہے جس میں کوئی اسٹار ہی نہ ہو، میں نے موجودہ ٹیم کے میچز دیکھنا چھوڑ دیے ہیں، اس ٹیم کا کوئی امپکیٹ ہی نہیں ہے۔ عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیم میں یہاں گرنے کی کوئی وجہ تو ہوگی، جی اس کی وجہ ہے، ڈھائی برس پہلے کی آپ ٹیم دیکھ لیں وہ کہاں کھڑی تھی، اس ٹیم کا کپتان سرفراز احمد تھا، وہاں سے گرتے گرتے کپتانی اظہر علی کے پاس آتی ہے اور پھر بابر اعظم کے پاس آتی ہے اور اب وکٹ کیپر محمد رضوان کے پاس ہے، کتنا اور گرائیں گے؟
عاقب جاوید نے کہا کہ اس وقت ٹیم کا جو کوچ تھا وہ دنیا کا ایک نامور کوچ مکی آرتھر تھا، وہاں سے آپ مصباح الحق کے پاس گرتے ہیں جنہوں نے ایک دن کوچنگ نہیں کی، بابر اعظم کے پاس کوئی تجربہ نہیں، چیف سلیکٹر انضمام الحق جیسے لیجنڈ تھے فیصلہ کرنے اور بولنے والے شخص تھے، وہاں سے آپ گرتے ہیں پہلے مصباح الحق اور پھر گرتے ہیں محمد وسیم کے پاس، سب کے سامنے ہے پتہ نہیں ابھی ہم نے اور کتنا گرنا ہے۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ وقار یونس کا دس برسوں میں یہ مختلف عہدوں پر پانچواں دور ہے، وہ کبھی ہیڈ کوچ ہوتے ہیں تو کبھی بولنگ کوچ، دیکھا جائے تو انہیں پہلی مرتبہ بھی کسی نے کیوں کوچ لگایا کیوں کہ کوچنگ ایک پروفیشن ہے اور کوچ بننے کےلیے کم عمری میں ہی نچلی سطح پر کام کرنا پڑتا ہے اور کوچنگ کورسز ون ٹو، تھری، فور کرنا پڑتے ہیں اور آپ کو منتخب کرنا پڑتا ہے کہ آپ کا مستقل پروفیشن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل میں تو وقار یونس کمنٹیٹر ہیں، بیچ میں جہاں انہیں موقع ملتا ہے تو کوچنگ میں آجاتے ہیں وہ پاکستان ٹیم کی کوچنگ چھوڑ کر پھر کہیں کوچنگ نہیں کرتے اور ٹی وی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی طرح مصباح الحق کو کوچ لگانے والے سے پوچھا جانا چاہیے، کوچ لگانے کا کوئی تو معیار ہونا چاہیے، مجھے یہ دنیا میں کہیں نوکری لے کر دکھائیں، انہیں اسکول میں وہ نوکری نہیں دیں گے۔
