وزارت دفاعی پیداوار کے 9 افسران جاسوسی پر گرفتار

وزارت دفاعی پیداوار کے چین اور روس ڈیسکز میں غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کرنے والا سرکاری ملازمیں پر مشتمل جاسوسی کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے جس سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ لوگ خفیہ معلومات ملٹری کانٹریکٹرز لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عرفان کیانی اور احمد کیانی تک پہنچاتے تھے جو انہیں آگے بیچنے کا کام کرتے تھے۔ کیانی برادران کور کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں جو کہ انرجی سیکٹر میں ملٹری اور دفاعی پراجیکٹس کو ڈیل کرتا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وزارت دفاعی پیداوار میں جاسوسی کا خفیہ نیٹ ورک ایک اہم انٹیلی ایجنسی نے پکڑا ہے جس کے بعد غیر ملکی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 9 ملزمان کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتار کر لیا ہے جن میں سے دو نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ اس کیس کی سماعت 5 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کی اور کیس کو 10 اگست تک کے لیے ملتوی کر دیا۔ عدالت میں گرفتار شدگان کے خلاف بطور ثبوت پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق ملزمان وزارت دفاعی پیداوار میں چین اور روز ڈیسکز میں ایک غیر ملکی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے میں ملوث تھے۔ بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی ایجنسی کے لئے جاسوسی کرنے والے نیٹ ورک کے لیے وزارت دفاعی پیداوار کے علاوہ وزارت خارجہ میں بھی سینئر پاکستانی افسر کام کر رہے تھے۔ اسی طرح کے ایک کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جون 2021 میں وزارت خارجہ میں چینی ڈیسک پر کام کرنے والے سینئر افسر کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی، یہ عہدیدار روسی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی میں ملوث تھا۔
بتایا گیا ہے کہ سید قلب عباس نامی افسر وزارت منصوبہ بندی میں گریڈ 18 میں کام کر رہا تھا لیکن پھر اسے جاسوسی کی غرض سے ڈیپوٹیشن پر وزارت خارجہ میں لگوا دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کی درخواست ضمانت اس لیے مسترد کی تھی کیونکہ اس پر حساس معلومات ایک غیر ملکی ایجنسی کو لیک کرنے کا الزام تھا۔
بتایا گیا ہے کہ غیرملکی ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار سرکاری ملازمین کے خلاف آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کیس کے ملزمان پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی ان دفعات کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 34، 109 اور 409 کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گرفتار شدہ ملزمان وزارت دفاعی پیداوار کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ عہدیدار یا دفاعی خریداری سے متعلق معاملات دیکھنے والے نجی کانٹریکٹرز ہیں جو خفیہ معلومات چوری کرکے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایجنٹ کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
جن ملزمان کو اب تک گرفتار کیا گیا ان میں صفدر رحمٰن، تفضیل الرحمٰن، محمد وقار، محمد اشفاق، محمد طاہر، مجتبیٰ حسین، محمد اشرف، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عرفان حمید کیانی اور احمد کیانی شامل ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں سے معلومات ملنے کے بعد ایف آئی اے نے دفاعی خریداری کے ڈائریکٹوریٹ جنرل، وزارت دفاعی پیداوار کے سابق ملازم کو گرفتار کیا جو سفارتکار /غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنٹ سے خفیہ معلومات/دستاویزات دینے کے لیے ملاقات کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس وقت یہ انکشاف بھی ہوا کہ ملزم غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کو معلومات کی فروخت کا کاروبار کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے ملزم سے نقدی اور موبائل فونز بھی برآمد کیے۔
ابتدائی طور پر تین افراد صفدر، تفضیل اور اشفاق کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ان کے انکشافات کے بعد دیگر ملزمان بھی گرفتار ہوئے جن میں ملٹری کانٹریکٹرز لیفٹیننٹ کرنل عرفان کیانی اور احمد کیانی بھی شامل ہیں، جو کور کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں۔ کور گروپ، جو توانائی کے شعبے میں ملٹری اور دفاعی منصوبوں میں ڈیل کرتا ہے، کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایشیا، یورپ اور امریکا میں برانڈز، اجناس، ٹیکنالوجی اور انفرا اسٹرکچر شعبوں کے متعدد مینوفیکچررز سے اشتراک ہے۔
