وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور سینئر وزیر اسلم اقبال آمنے سامنے آ گئے

پنجاب میں تحریک انصاف اور قاف لیگ کے حکمران اتحاد میں اختلافات کی خلیج وسیع ہونے کے بعد اب وزیراعلی پرویز الہی اور سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گے ہیں جس کے بعد حکومت خطرے میں پڑنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی نے بنی گالہ اجلاس میں پرویز الٰہی کے خلاف شکایتوں کے انبار لگا دیے تھے۔ چنانچہ کپتان نے میاں اسلم اقبال کو سینئر وزیر تعینات کرتے ہوئے تمام ممبران پنجاب اسمبلی کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ انکا سٹیٹس ڈپٹی وزیراعلی کا ہوگا۔
یاد رہے کہ پرویز الٰہی کی حکومت میں ان کی اپنی قاف لیگ کا ایک بھی وزیر نہیں اور ساری کابینہ تحریک انصاف کے اراکین پر مبنی ہے۔ عمران خان کا موقف ہے کہ قاف لیگ کی 10 سیٹوں کے عوض اسے وزارت اعلی مل چکی ہے اور صوبائی وزارتوں پر اب صرف تحریک انصاف کا حق ہے۔ لیکن دوسری جانب تحریک انصاف والوں کو اعتراض ہے کہ پرویز الہی فیصلے کرتے وقت اپنی کابینہ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 24 ستمبر کو ایک حکومتی اجلاس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب پرویز الہی اور اسلم اقبال ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے اور منہ ماری شروع ہو گئی۔ یہ اختلافات تب سامنے آئے جب ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی کے اجلاس کے دوران وزیراعلی نے سینئیر وزیر کی ایک نہ سنی، کچھ دیر دونوں میں سخت جملوں کے تبادلے کے بعد سینئر وزیر اسلم اقبال اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب نے پانی کے بلوں میں اضافے کی منظوری دی تو سینئر وزیر نے بل بڑھانے کی مخالفت کی۔
اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ بلوں میں اضافہ کیا جائے۔ اس پر وزیراعلی پنجاب نے صاف جواب دیتے ہوئے کہا مجھے پتا ہے کیا کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق سینئر وزیر کچھ دیر تک میٹنگ میں موجود رہے اور اصرسر۔کرتے رہے، تاہم جب وزیر اعلی نے ان کو نظر انداز کرنا شروع کیا تو وہ ناراض ہوگئے اور بات نہ سننے پر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے وزرا اوراراکین اسمبلی کی جانب سے عمران کو وزیر اعلیٰ بارے پہلے بھی شکایات کی جا چکی ہے، اور پی ٹی آئی چیئرمین نے معاملات کو سلجھانے کے لیے اسلم اقبال کو سینئر وزیر کی ذمے داری دی تھی۔ دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں اسلم اقبال سینئر وزیر بنائے جانے کے بعد سے مسلسل وزیراعلی کے کام میں مداخلت کریں رہے ہیں اور ہر اس کام میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلٰی بنے دو ماہ ہو چکے ہیں جس دوران ان کے بارے میں یہی تاثر بنا ہے کہ وہ اپنی من مانی کرتے ہیں اور تحریک انصاف کی نہیں سنتے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کے پاس اپنی جماعت کو اگلے الیکشن سے پہلے مضبوط کرنے کے لیے وقت کم ہے۔
سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعود کے مطابق ’پرویز الٰہی صرف دس سیٹوں کی وجہ سے اِس وقت پنجاب کے حاکم بنے ہوئے ہیں۔ ان کی ساری توجہ اب بھی اپنی سیاسی بقا ہے۔ ابھی آپ دیکھیے گا سرکاری وسائل کے در کھول دیے جائیں گے اور نوکریاں بھی نکالی جائیں گی۔ ابھی ہم سن رہے ہیں کہ گجرات کے لیے اربوں روپے کے فنڈز پہلے ہی منظور کروا لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے ارکین پنجاب اسمبلی بھی اپنے حلقوں میں کام کروا کر اگلے الیکشن سے پہلے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ موقع نہیں دیا جا رہا۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اور عمران خان کی سیاسی شراکت اور کتنا عرصہ چل پاتی ہے۔
