وفاق نے پابندی لگانے کے بعد PTM کے سامنے سرنڈر کیوں کر دیا؟

وفاقی حکومت کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کو ایک پشتون جرگے کے انعقاد سے روکنے کے لیے اس پر پابندی عائد کر کے کالعدم تنظیم قرار دینے کے بعد اسے بالآخر وفاق کی جانب سے جرگہ منعقد کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پھر اسے روکنے کی کوشش ہی کیوں شروع کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ پی ٹی ایم نے 12 اکتوبر کو ضلع خیبر میں ’پشتون قومی جرگہ‘ کے انعقاد کا اعلان کر رکھا تھا جو 13 اکتوبر تک جاری رہنا ہے۔ جرگے کی اجازت دیے جانے کے بعد اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت پشتون تحفظ موومنٹ پر عائد کردہ پابندی بھی ختم کر دے گی۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے حکومت کی جانب سے پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دینے اور جرگے کو روکنے کی کوشش پر کہا تھا کہ ایک پر امن پشتعن تحریک کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا ظلم اور جبر کا فیصلہ ہے اور صرف ہم نے نہیں پورے پختون خطے نے اس کی مذمت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے منظور پشتین نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی ظلم اور جبر کا فیصلہ ہے کیونکہ جو احسان اللہ احسان جیسے طالبان عسکریت پسندوں کے معاون ہیں وہ یہاں کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں اور ان کے خلاف لڑنے والوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔‘

ریاست سے پنگا لینے والے عمران کو این آر او ملنے کا امکان ختم

تاہم وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے پشتون جرگے کا انعقاد روکنے کی سوچ کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس جرگے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی حکومت ذرائع کا موقف ہے کہ اب پشتون جرگے کا انعقاد پشتون تحفظ موومنٹ نہیں کروا رہی بلکہ اس کی میزبانی خیبر پختون خواہ حکومت وفاق کی اجازت سے کروا رہی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کے مطابق ’وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد اس جرگے کے متعلق فیصلہ کیا گیا اور اب یہ پی ٹی ایم کا جرگہ نہیں، بلکہ وفاقی حکومت کی اجازت سے صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہو رہا ہے اور اس میں تمام سیاسی جماعتیں شریک ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پشتون جرگہ کسی تنظیم، تحریک یا کسی اور کا نہیں بلکہ یہ تمام پشتونوں کا نمائندہ جرگہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ہی اس جرگے کے میزبان ہیں اور اس کے لیے تمام انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کر رہی ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق اس نے جرگے کے انعقاد کے لیے مشروط اجازت دی ہے۔ وفاق کی شرائط یہ ہیں کہ اس اجتماع میں ریاست پاکستان کے خلاف، پاکستان کے آئین اور پاکستانی فوج کے خلاف کوئی نعرے بازی یا کوئی تقریر نہیں ہو گی۔ جرگے میں کسی اور تنظیم کا جھنڈا نہیں بلکہ صرف پاکستان کا جھنڈا لانے اور لہرانے کی اجازت ہو گی اور امن کے قیام اور پشتونوں کو درپیش مسائل پر بات چیت ہو گی۔ یہ تمام شرائط پشتون جرگے میں شرکت کرنے والے تمام اراکین نے تسلیم کی ہیں۔ اب یہ جرگہ ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی اجازت سے ہو رہا ہے۔

پی ٹی ایم کے میڈیا کوارڈینیٹر زبیر شاہ آغا کے مطابق ’یہ کوئی جلسہ، ریلی یا مظاہرہ نہیں ہے جہاں نعرے لگائے جائیں گے۔ یہ پشتون روایات کے مطابق جرگہ ہے جہاں صرف مشاورت ہو گی اور اس کے نتیجے میں قائدین امن و امان کے قیام اور پشتونوں کے مسائل کے حل کے ہوئے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔ جرگے کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ پی ٹی ایم اور آنے والے تمام پشتون نمائندوں کو قبول کرنا ہو گا۔

یاد رہے کہ پی ٹی ایم پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد وفاق نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم کو وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی مین گنڈا پور کے ذریعے جرگہ منقد کرنے کی اجازت دی۔ اس مقصد کے لیے فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود پشاور پہنچے اور اس گنڈاپور سے ملے جسکی گرفتاری کے لیے وفاقی پولیس نے پچھلے ہفتے خیبر پختون خواہ ہاؤس پر چھاپہ مارنے کے بعد اسے سیل کر دیا تھا۔ یوں کل تک ایکدوسرے کے خلاف سخت زبان کے ساتھ ساتھ آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں برسانے والے ایک دوسرے کو گلے لگانے ہر مجبور ہو گے اور پی ٹی ایم کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے ایک ساتھ بیٹھ گئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا گنڈا پور سر جوڑ کر بیٹھے جس کے بعد پشتون جرگہ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام منعقد کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سے چند روز قبل ہی پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی چوک پر جلسہ کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ کے پی پر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا بیان دیا تھا۔وزیر اعلیٰ کے پی کے جو کل تک وفاقی حکومت کے زیر عتاب تھے آج وہ وفاق کی حمایت سے پی ٹی ایم سے معاملات بہتر کرنے کے لیے تیار نظر آئے۔ سینئیر صحافی ارشد عزیز ملک نے بتایا کہ ’پشتون جرگہ کے مقام پر جب وفاقی حکومت کے جانب سے طاقت کے زور پر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اور اس تصادم میں کئی لوگ ہلاک ہو گے، ایسے میں سیاسی جماعتوں اور قبائلی رہنماؤں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا جس کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ اور وفاق نے لچکدار رویہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ کر علی مین گنڈاپور سے ملے تاکہ معاملہ فہمی سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

Back to top button