ویزہ توسیع درخواست مسترد، شہباز کا بڑے بھائی سے رابطہ

برطانوی امیگریشن حکام کی جانب سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد شہباز شریف کا اپنے بڑے بھائی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا ٹیلی فون پر محمد نوازشریف سے رابطہ ہوا ہے۔ن لیگ کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف سے برطانوی ہوم آفس کے فیصلے سے متعلق بات چیت کی اور نوازشریف نے شہبازشریف کو فیصلے پر قانونی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق نوازشریف نے بتایا کہ ان کے وکلا نے ہوم آفس کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے، اپیل میں نواز شریف کی طبی وجوہات اور علاج کی بنا پر برطانیہ میں قیام کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ن لیگ کے مطابق شہبازشریف نے نواز شریف سے اصرار کیا کہ وہ مکمل علاج اور ڈاکٹروں سے اجازت ملنے تک برطانیہ میں ہی قیام کریں، قوم اور پارٹی کو آپ کی صحت وسلامتی سب سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، قوم اور پارٹی آپ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا ٹیلی فون پر محمد نوازشریف سے رابطہ
شہبازشریف نے محمد نوازشریف سے برطانوی ہوم آفس کے فیصلے سے متعلق بات چیت کی
محمد نوازشریف نے شہبازشریف کو ہوم آفس کے فیصلے پر قانونی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا
— PMLN (@pmln_org) August 5, 2021
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے بتایا تھا کہ برطانوی حکام نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ویزے کی توسیع سے معذرت کرلی ہے۔ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگ زیب نے تصدیق کرتے ہوئے نواز شریف کے برطانیہ میں قیام سے متعلق اہم بیان میں کہا کہ ‘برطانوی محکمہ داخلہ نے قائد نوازشریف کے ویزے میں مزید توسیع سے معذرت کی ہے’ ۔انہوں نے کہا کہ ‘برطانوی محکمہ داخلہ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ نوازشریف اس فیصلے کے خلاف امیگریشن ٹریبیونل میں اپیل کرسکتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘نوازشریف کے وکلا نے برطانوی امیگریشن ٹریبیونل میں اپیل دائر کردی ہے اور اس اپیل پر فیصلہ ہونے تک محکمہ داخلہ کا حکم غیر مؤثر رہے گا’۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا محمد نوازشریف کے برطانیہ میں قیام سے متعلق اہم بیان
قائد محمد نوازشریف کے ویزے میں مزید توسیع سے برطانوی محکمہ داخلہ نے معذرت کی ہے
— PMLN (@pmln_org) August 5, 2021
حسین نواز نے کہا کہ برطانوی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب برطانوی ہوم آفس میں اپیل کریں گے، معاملے کو وکیل دیکھ رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ ویزے کا معاملہ حل ہو جائے گا،
خیال رہےکہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی برطانیہ میں 6 ماہ قیام کے ویزےکی مدت ختم ہو چکی تھی جس پر انہوں نے اپنے علاج کے سلسلے میں برطانیہ میں مزید قیام کے لیے ویزا میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ذرائع کے مطابق برطانوی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب نواز شریف کے پاس 2 آپشن ہیں، ایک تو یہ کہ وہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کریں اور وہاں سے بھی درخواست مسترد ہونے پر وہ برطانوی عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاس کوئی مستند سفری دستاویز موجود نہیں ہیں کیوں کہ نوازشریف کے پاسپورٹ کی مدت 16 فروری 2021 کو ختم ہو چکی ہے۔ نوازشریف کے پاس سابق وزیراعظم کی حیثیت سے سفارتی پاسپورٹ تھا۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف برطانیہ میں ویزا کیلئے اپیل مسترد ہونے پر برطانوی عدالتوں رجوع کرسکتے ہیں، عدالتوں نے بھی نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیا تو انہیں پاکستان ڈی پورٹ کیاجا سکتا ہے۔
