ٹھرکی نعمان اعجاز خود پر تنقید کرنے والوں پر گرم


سینئر اداکار نعمان اعجاز اپنے ٹھرکی اور دل پھینک ہونے کے دعوے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی تنقید سے شرمندہ ہونے کی بجائے اُلٹا ناقدین پر ہی چڑھ دوڑے۔ کہتے ہیں کہ لوگ اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے، انہیں صرف دوسروں پر تنقید کرنا آتی ہے، مجھے ایسے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن نعمان اعجاز کو پرواہ تو اپنی بیوی کی بھی نہیں جس کے ساتھ بے وفائی کا انکشاف انہوں نے خود یہ کہہ کر کیا کہ وہ تو راہ چلتے بھی لڑکیوں سے آنکھ مٹکا کر لیتے ہیں اور یہ بھی نہیں دیکھتے کہ تاڑی جانے والی خاتون شادی شدہ ہے یا کنواری؟
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کلپ کے حوالے سے نعمان اعجاز اور عفت عمر کا موقف بھی اب سامنے آگیا ہے۔ نعمان اعجاز کہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا اور وہ کسی انسان کے سامنے جوابدہ نہیں جبکہ ان کا انٹرویو کرنے والی عفت عمر نے پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نعمان اعجاز کو ٹوکنا چاہیے تھا، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ یاد رہے کہ عفت ماضی میں می ٹو مہم کا حصہ رہی ہیں اور خواتین کے حقوق کی داعی ہونے کی بھی دعویدار ہیں۔ تاہم انٹرویو کے دوران جب نعمان اعجاز نہایت بے شرمی سے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ شادی شدہ عورت سے فلرٹ کرتے وقت اس کے شوہر کو بھی پتہ نہیں چلنے دیتے، تو عفت نے انہیں بالکل نہیں ٹوکا۔
دوسری طرف لوگوں کی بیویوں سے عشق لڑانے کا دعویٰ کرنے والے نعمان نے نہایت ڈھٹائی سے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتے۔ لوگوں کو گالیاں نکالنے دیں اور کڑھنے دیں۔ یہ پاکستانیوں کی عادت ہے، ان کو اپنی زندگیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا، بس انہیں دوسروں پر انگلی اٹھانے کی عادت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں۔ میری ذات کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں جانتا ہوں اور میرا رب جانتا ہے، مجھے کسی انسان کو وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر نعمان اعجاز کا رگڑا لگانے والے ایک صارف نے ان سے سوال کیا ہے کہ اگر کوئی پرایا شخص ان کی بیوی کے ساتھ آنکھ مٹکا کرے یا عشق پیچا لڑائے تو انکے کیا جذبات اوراحساسات ہوں گے؟
واضح رہے کہ حالیہ دنوں ٹیلی ویژن اور فلم کے معروف اداکار نعمان اعجاز کے ایک انٹرویو کا کلپ وائرل ہوا ہے جس میں انکو میزبان عفت عمر کے ساتھ محو گفتگو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ پورا پروگرام تقریباً ایک گھنٹے کا تھا تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ڈیڑھ منٹ کے کلپ میں دونوں اداکار شادی شدہ زندگی کے بارے میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں نعمان کہتے ہیں کہ وہ اداکاری کی بنا پر ہی اپنی بیوی کو اپنے دیگر معاشقوں کی خبر نہیں ہونے دیتے، جس کے بعد عفت ہنس کر ان سے ایسی ہی کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کچھ گُر مانگتی ہیں۔ کلپ وائرل ہونے کے بعد سے پاکستانی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر خوب بحث جاری ہے۔ زیادہ تر لوگ تو نعمان کی باتیں سن کر حیران ہیں کہ آیا یہ وہی نعمان اعجاز ہیں جنھوں نے دو دہائیوں قبل ڈڑامہ سیریل میرا سائیں میں ملک وجاہت اور دشت میں میر بالاج جیسے مشہور کردار ادا کر کے مداحوں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔ تاہم کئی لوگ نعمان کی حمایت بھی کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مذاق تھا اور اسے انٹرٹینمنٹ کی حد تک ہی رکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ کلپ عفت عمر کے شو سے اِٹ آل وِد عفت سے لیا گیا ہے جس میں وہ شوبز سے منسلک کسی شخصیت کو مدعو کرتی ہیں اور ہلکی پھلکی گپ شپ لگاتی ہیں جس سے اکثر دیکھنے والے کافی محظوظ ہوتے ہیں۔ نعمان اعجاز کی جانب سے دل پھینکا اور ٹھرکی ہونے کے اعتراف کے بعد عفت عمر مسکراتے ہوئے انھیں کہتی ہیں ارے واہ، مجھے آپ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی تبصرے کی بنا پر صارفین یہ سمجھ رہے ہیں کہ عفت عمر بھی نعمان کے خیالات سے اتفاق کرتی ہیں اور اسی لیے سوشل میڈیا صارفین ان پر بھی تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایک عورت ہونے کے ناطے عفت نے نعمان کو اپنے شو میں ایسی باتیں کیسے کرنے دیں اور انھیں ٹوکا کیوں نہیں؟ بلکہ الٹا انھیں بڑھاوا دیتی نظر آئیں کہ جیسے وہ کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہوں۔
اس حوالے سے عفت عمر نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جملہ انھوں نے طنزیہ انداز میں ادا کیا۔ میں اداکاری کی بات کر رہی تھی، میرا مطلب یہ تھا کہ تم اتنی بہترین اداکاری کیسے کر لیتے ہو بیوی کے سامنے، کچھ مجھے بھی سکھا دو۔ شو کے دوران محسن عباس، می ٹو اور دیگر متنازعہ موضوعات کے متعلق نعمان کی رائے کو بڑھاوا دینے اور انھیں نہ ٹوکنے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں عفت کہتی ہیں کہ کسی کا انٹرویو کرتے وقت آپ ایک حد تک انھیں ٹوک سکتے ہیں یا اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ آپ ان کی بات سے اتفاق یا اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن ان کی رائے تبدیل نہیں کر سکتے۔ عفت کا کہنا تھا کہ یہ ان کے شو کا پہلا پروگرام تھا اور اس وقت انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنے مہمان کو کس حد تک ناراض کر سکتی ہیں۔ عفت نے بتایا کہ اس پروگرام کے بعد میں آنے والی اقساط میں وہ ’می ٹو‘ سمیت تمام موضوعات پر کھل کر بولی ہیں لیکن نعمان والے پروگرام میں نہ بول پانے پر انھیں پچھتاوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button