ٹی ایل پی مظاہرین کا ”سام سنگ” کمپنی پر توہین مذہب کا الزام


تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مظاہرین نے اگلے روز کراچی موبائل مارکیٹ میں سام سنگ کے بل بورڈز کو تب ڈنڈے مار کر توڑنا شروع کر دیا جب انہیں اپنی قیادت کی جانب سے یہ یقین دلایا گیا کہ کمپنی نے ایک QR کوڈ متعارف کرایا ہے جو توہین اسلام کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے تشدد واقعات میں ملوث ہونے کی بنا پر عمران خان کے دور حکومت میں کالعدم تنظیم قرار دے دیا گیا تھا۔ بعد ازاں جب ٹی ایل پی نے حکومت مخالف ملک گیر مہم شروع کر دی وزیراعظم عمران خان نے گھٹنے ٹیک دیئے اور تحریک لبیک پر عائد پابندی ختم کر دی حالانکہ ہنگاموں کے دوران اس کے مظاہرین کے ہاتھوں درجن بھر پولیس والے بھی قتل ہوگئے تھے۔

یاد رہے یہ وہی تحریک لبیک جس کے کارکنان کے ہاتھوں سیالکوٹ میں ایک سری لنکن شہری بھی قتل کے بعد جلا دیا گیا تھا۔ قتل ہونے والے فیکٹری کے منیجر پر لبیک والوں نے توہین رسالت کا الزام عائد کیا تھا۔ اب ٹی ایل پی کے کارکنوں نے کراچی میں سام سنگ کمپنی پر بھی توہین اسلام کا الزام عائد کر دیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں اسکے بل بورڈز توڑ دیے ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب سام سنگ کے ایک ملازم نے مبینہ طور پر اپنے وائی فائی ڈیوائس کا ایسا نام بتایا جسے توہین اسلام کے مترادف قرار دے دیا گیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی موقف میڈیا میں جاری نہیں کیا۔ تاہم پولیس حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ توہین مذہب کی آڑ میں اب تحریک لبیک کے کارکنان شہر میں ہنگامہ آرائی شروع کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال 2021ء میں بھی اسی طرح کا ایک معاملہ پیش آیا تھا جب ایک جنونی شخص نے الزام عائد کیا تھا کہ سیون اپ کے QR کوڈ پر توہین آمیز کلمات درج ہیں۔ اس شخص نے سیون اپ کی بوتلیں لے کر جانے والے ایک ٹرک کو روکا اور ہجوم کے سامنے اعلان کیا تھا کہ وہ اسے جلا دے گا۔ تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر ٹرک والے کو بچا لیا تھا۔

Back to top button