پاکستان کا صدر عارف علوی نوسر باز ہے یا ذہنی مریض ؟

  تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اور پاکستان کے موجودہ عمرانڈو صدر عارف علوی کی جانب سے اتوار کے روز ایک ٹویٹ کے ذریعے  آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہ کرنے کے بیان کے بعد سنجیدہ حلقے یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت اور پچیس کروڑ عوام کے ملک پاکستان کا صدر یا تو نوسر باز ہے یا کوئی ذہنی مریض ، کیونکہ کوئی سنجیدہ اور ہوش مند انسان اتنے اونچے عہدے پر رہتے ہوۓ ایسی نیچ حرکت کر ہی نہیں کر سکتا جو عارف علوی نے کی ہے . سینئر صحافی صالح ظافر نے اپنی ایک تحریر میں کہا کہ  صدر عارف علوی کی با ضابطہ میعاد صدارت میں اٹھارہ دن باقی رہ گئے ہیں انہوں نے اس منصب کو روز اول سے ہی بے توقیر کیا اب آخری ایام میں ایسی نوسربازی کی ہے کہ پورا ملک ٹھٹھک کر رہ گیا ہے انہوں نے بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کی ترمیم کے دوالگ الگ مسودات قانون کی منظوری دی اور جب یہ ترامیم قانون کا حصہ بن گئی تو شور مچادیا کہ ان کے دستخط حاصل کئے بغیر ان مسودات کی توثیق کردی گئی ہے اپنے پہلے قدم میں انہوں باضابطہ طور پر ان مسودات کی منظوری دیکر ایسی کتاب کا حصہ بنانے کا موقع دیا جس کے بعد جب اپنی سابق حکمران جماعت کی طرف سے دبائو آیا تو انہوں نے یو ٹرن لیتے ہوئے مسودات کی توثیق اور ان پر اپنے دستخطوں کی موجودگی سے انکار کردیا ،انہوں نے ایسی حرکت کا ارتکاب کر ڈالا ہے جس کا نتیجہ وہ تادیر بھگتیں گے یہ سراسر جعلسازی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ عارف علوی اپنی کھال کو بھی سیاسی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان پر عدم تعاون کا الزام عائد نہ ہو۔

ایوان صدر میں خدمات کی انجام دہی میں مصروف عملے اور حکام کو وہ بددیانت ثابت کرنا چاہتے ہیں ، آئین میں درج تصریحات کے مطابق کوئی ایسی شخص منصب صدارت پر فائز یا برقرار نہیں رہ سکتا جس کی ذہنی کیفیت کسی صدمے یا کسی دوسری وجہ سے متوازن نہ رہ گئی ہو۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایسی گفتگو کی ہے جس کا کوئی موقع محل نہیں ہوتا وہ بے مقصد نکات پر بے ربط بولے جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر ملک کے فوجی اور شہری اسپتالوں کے قابل ترین ماہرین نفسیات اور معالجین سےعارف علوی کی ذہنی حالت اور صحت کا تخمینہ لگواۓ ۔  یاد رہے کہ بیس اگست کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس یعنی ٹوئٹر پر جاری بیان میں عارف علوی نے کہا کہ خدا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنے عملے سے کہا تھا کہ وہ دستخط کے بغیر بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس بھیج دیں تاکہ انہیں غیر مؤثر بنایا جا سکے۔ یں نے عملے سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ (دستخط کے بغیر) واپس بھجوائے جاچکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ واپس بھجوائے جاچکے ہیں، تاہم مجھے آج پتا چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔ اللہ سب جانتا ہے، وہ ان شا اللہ معاف کر دے گا لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یہ بیان عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت 15 اگست کو درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو گرفتار کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ یہ مقدمہ ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ’دی انٹرسیپٹ‘ کی جانب سے حال ہی میں اُس سائفر کے مبینہ متن کے شائع ہونے کے بعد درج کیا گیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسی سائفر کا متن ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے پاس سے کھو گیا۔ صدر کی اس تردید کو سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کروں نے ایک بھونڈی اور مذموم حرکت قرار دیا جس سے نہ صرف ملک بلکہ ان کی پاری کو بھی نقصان ہوگا۔

  دوسری جانب  وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق جب کوئی بل منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے تو صدر مملکت کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں، یا تو بل کی منظوری دیں یا مخصوص تحفظات کے ساتھ معاملہ پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیں، آرٹیکل 75 کوئی تیسرا آپشن فراہم نہیں کرتا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس فوری نوعیت کے معاملے میں کسی بھی اختیار پر عمل نہیں کیا گیا بلکہ صدر مملکت نے جان بوجھ کر منظوری میں تاخیر کی۔ مزید کہا گیا ہےکہ بلوں کو تحفظات یا منظوری کے بغیر واپس کرنے کا اختیار آئین میں نہیں دیا گیا، ایسا اقدام آئین کی روح کے منافی ہے۔ اگر صدر مملکت کے بل پر تحفظات تھے تو وہ اپنے تحفظات کے ساتھ بل واپس کر سکتے تھے جیسے کہ انہوں نے ماضی قریب اور ماضی میں کیا، وہ اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے وزارت قانون نے کہا کہ یہ تشویشناک امر یہ ہے کہ صدر مملکت نے اپنے ہی عملے کو مورد الزام ٹھہرانے کا انتخاب کیا، صدر مملکت کو اپنے عمل کی ذمہ داری خود لینی چاہیے۔                                                                                                                                                                   صدر عارف علوی کی اس حرکت پر سخت رد عمل دیتے ہوۓ پی ٹی آئی کے مخالفین سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے  صدر مملکت  سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔ سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ  مسئلہ محض ایک ٹوئٹ سے حل نہیں ہو سکتا۔ صدر کا ٹوئٹ پوری دنیا کے سامنے شرمندگی کا باعث بنا، صدر کا ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان ان کے عہدے اور منصب کے شایان شان نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیّر حسین بخاری نے کہا کہ صدر کے بیان نے ان کی دماغی صحت کے بارے میں سوالات اٹھا دیے، انہوں نے فوری طور پر عارف علوی کے ذہنی معائنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملے نے بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے ان دعوؤں کی تصدیق کی کہ پی ٹی آئی تقسیم اور انتشار پھیلانے پر تلی ہوئی جماعت ہے۔ عارف علوی نے خود کو اپنی پارٹی کے سربراہ عمران خان کا ملازم ثابت کر کے سازش کا ارتکاب کیا۔  صدر کے ٹوئٹ نے جوابات سے زیادہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔  عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے کہا کہ صدر عارف علوی کو عہدے پر نہیں رہنا چاہئے اگر ان کا اپنے عملے پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ صدر مملکت گھر جائیں، مزید شرمندگی کا باعث بننے والی کوئی اور وجہ نہ بتائیں۔

Back to top button