صدر علوی نے کن فوجی افسران پر بددیانتی کا الزام لگایا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کے حوالے سے اپنے عملے پر الزام انتہائی سنگین معاملہ ہے۔صدر اپنے عملے کے جن لوگوں پر الزام لگا رہے ہیں وہ سب سویلین نہیں اس لئے یہ ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔خیال رہے کہ 19 اگست کے روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور شدہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد دونوں بل قانون بن گئے ہیں۔تاہم 24 گھنٹے گزرنے کے بعد 20 اگست کو صدر عارف علوی نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دسختط کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کو مجروح کیا، ان بلوں سے جو لوگ متاثر ہوں گے ان سب سے معافی مانگتا ہوں۔

اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا جیو کی خصوصی ٹرانسمیشن میں اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے کہ صدر نے بیان دے دیا اور بس، اس معاملے میں صدر عارف علوی کو تمام ثبوت پیش کرنے ہوں گے ورنہ پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق بن کر رہ جائے گا کہ یہ کیسی ریاست ہے کہ جس کا سربراہ اس بل کی منظوری پر اعتراض اٹھا رہا ہے جس کا وہ خود سربراہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صدر کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سچ بول رہے ہیں، اگر ان کے دستخط کے بغیر کسی بل کو قانون بنایا گیا ہے تو پھر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ یہ ریاست، آئین اور پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

حامد میر کا کہنا ہے اس بل کے معاملے میں ایک فرد نہیں بلکہ 3 سے 4 افراد ملوث ہیں اور جو لوگ اس معاملے میں ملوث ہیں وہ سب سویلین نہیں ہیں جس سے اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صدر کے قریبی ذرائع کے مطابق عارف علوی نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ ان بلوں پر دستخط نہیں کر رہے لہذا ان بلوں کو واپس بھیج دیں لیکن جب ٹی وی پر یہ خبریں چلیں کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیے ہیں تو اس وقت سے ہی عارف علوی پریشان تھے تاہم انہیں عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ بل واپس بھیج دیے گئے ہیں اور میڈیا پر چلنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔حامد میر کا کہنا تھااس معاملے میں اصل حقائق اس وقت سامنے آئیں گے جب صدر کے عملے کا مؤقف سامنے آئے گا، عملے کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور کون غلط بیانی کر رہا ہے۔

سینئر صحافی کے مطابق صدر عارف علوی نے اس سلسلے میں ایک ممتاز آئینی ماہر اور وکیل سے صلح مشورہ بھی کیا ہے اور عارف علوی اس معاملے پر اپنے عملے کے خلاف قانونی کارروائی اور عدالت جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔سینئر تجزیہ کارحامد میر نے مزید کہا کہ صدر عارف علوی اپنے لیگل ایکسپرٹس اور وکلاء سے صلاح مشورہ کر کے اس بارے میں ان امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا وہ اس سلسلے میں اپنے عملے کے تین چار افراد پر forgery کا مقدمہ درج کرائیں یا اس بارے میں وہ سپریم کورٹ جائیں۔ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں لیکن یہ کسی بھی صدر کی طرف سے اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ وہ کہہ رہا ہے میں نے تو بل پر دستخط نہیں کئے۔ تاہم عدالت میں بھی انھیں اپنے دعوے کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس ثبوت دینا ہونگے۔

دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے صدر مملکت عارف علوی کے بیان کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی جو کہہ رہے ہیں انہیں ثابت کرنا ہوگا اور وہ فائل دکھانی ہوگی جس میں لکھا ہو کہ وہ اس بل کو واپس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ صدر کو پیغام ملا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اُن سے ناراض ہوگئے ہیں، اسی لیے وہ معافی مانگ رہے ہیں۔دوسری جانب پارلیمانی امور کے ماہر پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اگر صدر نے بلوں پر دستخط نہیں کیے تو وہ معافی نہ مانگیں اور اپنے عملے کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں۔احمد بلال محبوب نے کہا کہ صدر کے بیان سے ریاست مذاق بن کر رہ جائے گی۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق 31 جولائی کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل مشترکہ اجلاس میں منظور ہوا تھا، یہ بل صدر کو توثیق کے لیے یکم اگست کو ارسال کیا گیا تھا۔گذشتہ قومی اسمبلی نے مدت ختم ہونے سے پہلے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے، ریاست کے خلاف کام کرتا ہے، ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہو گا۔ اس کے علاوہ ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا شخص مجرم تصور ہو گا۔

پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہو گی اور ان جرائم پر تین سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ہوں گی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کر کے فیصلہ کرے گی۔دوسری جانب قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور کیا تھا، سینیٹ پہلے ہی یہ بل پاس کر چکا تھا، بل سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔آرمی ایکٹ کے مطابق کوئی بھی فوجی اہلکار ریٹائرمنٹ، استعفے یا برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا جبکہ حساس ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکار یا افسر ملازمت ختم ہونے کے پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔اس بل کا اطلاق سویلین پر نہیں ہو گا، آرمی ایکٹ ترمیمی بل2023 کا سپریم کورٹ میں جاری مقدمے پر کوئی اثر نہیں ہو گا، دہری شہریت رکھنے والے افواج پاکستان میں شمولیت اختیار نہیں کر سکیں گے۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے مطابق ملکی سلامتی اور مفاد میں حاصل معلومات کے غیر مجاز انکشاف پر سزا ہو گی، متعلقہ شخص کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔ پاکستان اور افواج کے خلاف کسی قسم کے انکشاف پر بھی کارروائی ہو گی۔

Back to top button