ایران امریکہ کشیدگی، پنجاب میں روٹی مہنگی ہونے کا خطرہ کیوں؟

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے اثرات اب سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی بازگشت پاکستان کے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ توانائی بحران، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے جہاں پہلے ہی عوام کو مشکلات میں جکڑ رکھا ہے وہیں اب پنجاب میں روٹی کی قیمت کی اضافے کی افواہوں نے عوام کو مزید پریشان کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ابتدائی طور پر خلیجی کشیدگی کے اثرات زیادہ تر ایندھن اور توانائی کے شعبے تک محدود دکھائی دیے۔ حکومت نے بھی ان حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، جن میں توانائی بچت مہم اور رات آٹھ بجے مارکیٹوں کی بندش جیسے فیصلے شامل ہیں۔ تاہم، دو ماہ گزرنے کے باوجود اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں وہ طوفانی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم اب لاہور میں نان بائی ایسوسی ایشن کے مطابق ایل پی جی گیس کی قلت اور مہنگائی کے باعث تندور چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اب تک وہ موجودہ قیمت پر روٹی فروخت کر کے نقصان برداشت کر رہے تھے تاہم یہ نقصان زیادہ دیر تک برداشت کرنا ممکن نہیں۔ نان بائی ایسوسی ایشن کی جانب سے موجودہ قیمت پر روٹی کی فراہمی سے اظہار معذرت کے بعد اب حکومت نے اس مسئلے پر ایک درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے روٹی کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ نان، خمیری روٹی اور دیگر اشیاء کی قیمت بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ جس کے بعد ٓنے والے دنوں میں صوبے بھر میں نان اور خمیری روٹی کی قیمت میں اضافہ یقینی ہو گیا ہے، حکام کا مؤقف ہے کہ روٹی ایک بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ عوام پر براہ راست بوجھ ڈالے گا، جس سے بچنا ضروری ہے۔
دوسری جانب، سبزیوں، دالوں اور گوشت کی قیمتیں فی الحال مستحکم ہیں، جس کی بڑی وجہ مقامی پیداوار اور دستیاب ذخائر ہیں۔ سبزیوں اور دالوں سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی سلمی بٹ کا کہناہےکہ ’افغانستان کی طرف بارڈر بند ہونے کی وجہ سے سبزیوں دالوں اور چکن کے ریٹس میں اضافہ ابھی اس لیے نہیں ہوا کیونکہ یہ سب ہمارے پاس سر پلس میں ہے دالوں کی امپورٹ ابھی متاثر ہوئی ہے لیکن ابھی ہمارے پاس ذخائر اور لوکل پروڈکشن اتنی ہے کہ کچھ اور وقت ریٹس بڑھائے بغیر نکل جائے گا۔ تاہم منڈی سے دکان تک لانے میں جو تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں ان کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت سے چار سے پانچ روپے اضافہ ہوا ہے یعنی اس وقت جتنی تیل کی قیمت بڑھی ہے اس کو فی کلو پر تقسیم کریں تو وہ چار سے پانچ روپے اضافہ ہی ہے۔ اس لیے لوگوں کے روز مرہ کے کھانے پینے کے معاملات متاثر نہیں ہیں۔‘ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر توانائی بحران شدت اختیار کرتا ہے اور درآمدات متاثر ہوتی ہیں، تو آنے والے مہینوں میں صورتحال بدل سکتی ہے۔دودھ کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کی ابتدائی جھلک ہو سکتا ہے کہ مہنگائی کا اگلا رخ خوراک کی بنیادی اشیاء کی طرف ہو سکتا ہے۔ اگر مقامی پیداوار کم ہوئی اور درآمدات پر انحصار بڑھا، تو عام آدمی کے لیے اخراجات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال روٹی کی قیمت ایک “ریڈ لائن” بنی ہوئی ہے، مگر بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی حالات کے تناظر میں یہ سوال بدستور قائم ہے کہ حکومت کب تک اس لائن کو برقرار رکھ پائے گی۔
