پاکستان کیلئے سٹریٹجک آئل ذخائر کا قیام ناگزیر کیوں؟

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ نے ایک بار پھر پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تقریباً 400 روپے فی لیٹر کی سطح کو چھوتی نظر آ رہی ہیں، جس نے نہ صرف عوامی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ ایک اہم سوال کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آخر پاکستان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےاثر سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنے سٹریٹیجک آئل ذخائر کیوں نہیں بنا پارہا؟
خیال رہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی، خصوصاً ایران-امریکہ کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی تیل منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں سٹریٹجک آئیل ریزروز کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ تاہم یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ یہ سٹریٹجک آئیل ریزروز ہوتے کیا ہیں اور ان سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا کیسے ممکن ہے؟ ماہرین کے مطابق پاکستان میں عموماً 20 سے 28 دن کا تیل ذخیرہ موجود ہوتا ہے، مگر یہ درحقیقت “کمرشل سٹاک” ہوتا ہے جو ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس “سٹریٹیجک آئل ریزروز” وہ ذخائر ہوتے ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور ہنگامی حالات میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور سپلائی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔دنیا کے کئی بڑے ممالک جیسے امریکہ، چین اور جاپان نے ایسے ذخائر قائم کر رکھے ہیں جو کئی مہینوں کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کے پاس کروڑوں بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں جنہیں ماضی میں عالمی بحرانوں کے دوران استعمال بھی کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ پاکستان سٹریٹجک آئل ریزروز بنانے میں پیچھے کیوں ہے؟
ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ مالی وسائل کی کمی ہے۔ سٹریٹیجک ریزروز قائم کرنے کے لیے نہ صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے بلکہ جدید انفراسٹرکچر، سٹوریج ٹینکس، سکیورٹی اور دیکھ بھال کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں تیل کی مقامی پیداوار محدود ہے، اس لیے ان ذخائر کو بھرنا بھی ایک مہنگا عمل ہے۔مزید یہ کہ پاکستان کی پالیسی سازی اکثر “ردعمل” پر مبنی رہی ہےیعنی بحران کے وقت اس مسئلے پر توجہ دی جاتی ہے، مگر حالات بہتر ہوتے ہی ایسے منصوبے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے سٹریٹیجک ذخائر کی بات تو ہو رہی ہے، مگر عملی پیش رفت محدود رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس کی ایک اور اہم وجہ جغرافیائی اور لاجسٹک چیلنجز بھی ہیں۔ پاکستان زیادہ تر تیل مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔تاہم اگر جنگ یا بحری ناکہ بندی کی وجہ سے سمندری راستے متاثر ہوں تو متبادل ذرائع سے تیل منگوانا مہنگا اور وقت طلب ٹاسک بن جاتا ہے۔ ایسے میں سٹریٹیجک ذخائر ایک حفاظتی دیوار کا کام دے سکتے ہیں۔ ماہرین اس مسئلے کا حل صرف ایک طریقے میں نہیں دیکھتے بلکہ مختلف آپشنز تجویز کرتے ہیں۔ ان میں نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری، بیرونی سرمایہ کاری، یا کسی دوست ملک کے ساتھ مشترکہ سٹوریج سہولیات قائم کرنا شامل ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا ایک حصہ اس مقصد کے لیے مختص کیا جائے،تاکہ سٹریٹجک ریزروز قائم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔مبصرین کے مطابق پاکستان کے پاس سٹریٹیجک آئل ریزروز نہ ہونے کی وجہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ پالیسی کا تسلسل، طویل المدتی منصوبہ بندی اور ترجیحات کا فقدان بھی ہے۔ موجودہ عالمی حالات ایک بار پھر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ توانائی کی خود مختاری صرف ایک معاشی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔
