امریکا کا پاکستان سمیت اتحادی ممالک کےلیے ایف 16 ریڈار سپورٹ معاہدہ

امریکا نے پاکستان سمیت اپنے اتحادی ممالک کے زیر استعمال ایف 16 لڑاکا طیاروں کے اہم ریڈار سسٹمز کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کےلیے ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے 488 ملین ڈالر تک مالیت کا یہ معاہدہ دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومین کو دیاہے، جو ایف-16 طیاروں میں نصب APG-66 اور APG-68 ریڈار سسٹمز کی انجینئرنگ اور تکنیکی سپورٹ فراہم کرے گی۔
یہ معاہدہ کسی ایک ملک کےلیے نہیں بلکہ ایک ’ملٹی نیشن سپورٹ فریم ورک‘ کےتحت کیاگیا ہے،جس کے ذریعے 20 سے زائد ممالک آئندہ ایک دہائی تک ان سسٹمز کی مرمت،اپ گریڈ اور تکنیکی مدد حاصل کرسکیں گے۔معاہدے کےتحت تمام کام امریکی ریاست میری لینڈ میں انجام دیاجائے گا اور یہ سلسلہ 2036 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
امریکی فضائیہ کےمطابق یہ منصوبہ طویل المدتی فضائی بیڑوں کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے کےلیے ضروری ہے۔
امریکا کا جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ
پاکستان کے حوالے سے یہ پیشرفت کسی نئی خریداری کےبجائے موجودہ ایف 16 طیاروں کی مسلسل دیکھ بھال اور سپورٹ کا تسلسل ہے،جو ملک کی فضائی صلاحیت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے پاکستان کے ایف 16 بیڑے کی اپ گریڈیشن کےلیے 686 ملین ڈالر کے ایک علیحدہ منصوبے کی بھی اطلاع دی تھی،جس میں جدید ایویونکس،محفوظ کمیونیکیشن سسٹمز اور ڈیٹا لنک ٹیکنالوجی کی بہتری شامل ہے۔امریکی حکام کےمطابق ان اپ گریڈیشن کا مقصد طیاروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور انہیں آئندہ دہائی تک فعال رکھنا ہے۔
دفاعی ماہرین کےمطابق یہ اقدامات امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان “مینٹیننس بیسڈ دفاعی تعاون” کی عکاسی کرتےہیں،جس میں بڑے پیمانے پر نئے ہتھیاروں کی بجائے موجودہ نظاموں کی بہتری اور تسلسل پر توجہ دی جارہی ہے۔
